Aug ۲۳, ۲۰۱۸ ۱۶:۰۶ Asia/Tehran
  • سعودی عرب میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر نکتہ چینی

حکومت کینیڈا نے ایک بار پھر سعودی عرب میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور خاتون سماجی رہنما کو سزائے موت سنائے جانے کی مذمت کی ہے۔

 

کینیڈا کی وزارت خارجہ کے جاری کردہ بیان میں سعودی عرب میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی خاتون سماجی رہنما اسرا الغمغام کے خلاف مقدمہ چلائے جانے پر بھی کڑی نکتہ چینی کی ہے۔کینیڈا نے سعودی عرب میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر ایسے وقت میں نکتہ چینی کی ہے جب پچھلے چند ہفتے کے دوران انسانی حقوق کے معاملے پر دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی کشیدگی شدت اخیتار کرگئی ہے۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے سفیروں کو ملک بدر کردیا ہے۔سعودی عرب میں انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی خاتون شیعہ رہنما اسرا الغمغام اور ان کے شوہر موسی الھاشم کو سن دوہزار پندرہ میں حکومت مخالف مظاہروں میں شرکت کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ تاہم ان کے خلاف مقدمہ کی سماعت بتیس ماہ کے بعد شروع کی گئی۔ اسرا الغمغام نے سعودی عرب کے تمام شہریوں کے لیے یکساں حقوق کا مطالبہ کیا تھا۔واضح رہے کہ سعودی پراسیکیوٹر نے اسرا الغمغام سمیت پانچ خواتین کو سزائے موت دینے کی سفارش کی ہے۔ہیومن رائٹس واچ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرا الغمغام کو پھانسی دینے کی سفارش سراسر ظلم ہے۔