سلامتی کونسل میں ونیزویلا کی بڑی کامیابی
ونیزویلا کے صدر نکولس مادورو نے کہا ہے کہ ان کے ملک نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔
ونیزویلا کے صدر نکولس مادورو نے انے حامیوں اور طرفداروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ونیزویلا کے عوام شمالی امریکہ کے تسلط کے خلاف ہیں اور وہ لاطینی امریکہ کی برتر طاقت کے خواہاں ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ونیزویلا کی حکومت نے امریکہ کے ساتھ تیس روز میں مذاکارت شروع کئے جانے سے اتفاق کیا ہے اور یہ اس کامیابی کے بعد ہے جو ونیزویلا کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں حاصل ہوئی ہے۔
ونیزویلا کے صدر نیکولس مادورو نے کہا کہ ونیزویلا کی بڑی کامیابی، جو دنیا کے بیشتر ملکوں کی ونیزویلا کے عوام کے لئے بے تحاشہ حمایت کے نتیجے میں حاصل ہوئی ہے، ایک کھلی حقیقت ہے اور جس وقت یہ کامیابی حاصل ہوئی، امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپیؤ سلامتی کونسل کے اجلاس سے اٹھ کر چلے گئے۔
مادورو کا اشارہ روس اور چین کی جانب سے کی جانے والی اس مخالفت کی طرف ہے جو ان ممالک نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں وونیزویلا کے خلاف امریکہ کے مجوزہ بیان کے مسودے پر کی تھی۔
دریں اثنا امریکہ میں وینزوئیلا کی قانونی حکومت کے حامیوں نے مظاہرے کر کے ونیزویلا میں حکومت کی تبدیلی کے مقصد سے واشنگٹن کی جنب سے ورغلائے جانے اور مداخلت فوری طور پر بند کئے جانے کا مطالبہ کیا۔
مغربی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق ونیزویلا کے صدر نیکولس مادورو کے طرفداروں نے امریکہ کے مختلف شہروں منجملہ واشنگٹن، نیویارک، سین خوزہ، میامے، ڈیلاس، پیٹرزبرگ اور مینیا پولس میں مظاہرے کر کے وینزوئیلا کے صدر نیکولس مادورو کے حق میں نعرے لگائے۔
ان مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں ایسے پلے کارڈز اوربینرز بھی اٹھا رکھے تھے جن میں ونیزویلا میں امریکہ کی مداخلت بند اور اس ملک کا اقتصادی بائیکاٹ ختم کئے جانے کے مطالبے سے متعلق نعرے لکھے ہوئے تھے۔
میکسیکو کے عوام نے بھی ونیزویلا کے صدر نیکولس مادورو کی قانونی حکومت کی حمایت میں دارالحکومت میکسیکو سٹی میں مظاہرہ کیا اور ونیزویلا کے صدر نیکولس مادورو کی مخالفت بند کئے جانے کا مطالبہ کیا۔
ونیزویلا کے صدر نیکولس مادورو کے طرفداروں نے اعلان کیا کہ ونیزویلا کے صدر نیکولس مادورو کے خلاف الزام تراشی ان کی شخصیت متاثر کرنے کی ایک کوشش ہے۔
ونیزویلا کے صدر نیکولس مادورو کے حامیوں نے تاکید کے ساتھ کہا کہ عالمی رائے عامہ کو سمجھ لینا چاہئے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی، ونیزویلا کے صدر نیکولس مادورو کے خلاف اس لئے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں کہ مادورو نہیں چاہتے کہ وینزوئیلا کی دولت و ثروت اغیار کے اختیار میں رہے بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ یہ دولت و ثروت ونیزویلا کے عوام پر صرف ہو اور وہی اس سے استفادہ کریں۔
ونیزویلا میں بحران اس وقت شروع ہوا جب وینزوئیلا کے اپوزیشن لیڈر خوان گوایدو نے امریکہ اور بعض مغربی ملکوں کی حمایت سے خود کو ملک کا عبوری صدر اعلان کر دیا اور واشنگٹن نے بھی ان کی حمایت کی-
یہ ایسی حالت میں ہے کہ ونیزویلا کے صدر مادورو نے ماضی میں بارہا خبردار کیا تھا کہ غیر ملکی طاقتیں ونیزویلا کے داخلی معاملات میں مداخلت کر رہی ہیں۔
واشنگٹن نے ونیزویلا کے اپوزیشن لیڈر کو اس ملک کا عبوری صدر تسلیم کر لیا اور ونزوئلا میں سیاسی بے چینی کے ساتھ ہی امریکہ اور برطانیہ کے احکامات کی پیروی کرتے ہوئے اس علاقے کے کئی ملکوں منجملہ کینیڈا، برازیل، کولمبیا، پیرا گوئے، چلّی اورارجنٹینا نے حزب اختلاف کے لیڈر گوایدو کو ونیزویلا کا عبوری صدر تسلیم کر لیا لیکن اسلامی جمہوریہ ایران، روس، چین، ترکی، میکسیکو، کیوبا اور بولیویا جیسے ملکوں نے تاکید کے ساتھ کہا ہے کہ وہ نیکولس مادورو کو ہی اس ملک کا قانونی اور منتخب صدر تسلیم کرتے ہیں۔فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے بھی کہا ہے کہ وہ مادورو کو ہی ونیزویلا کا صدر تسلیم کرتی ہے۔ونیزویلا کے عوام نے بھی سڑکوں پر نکل کر صدر نیکولس مادورو سے اپنی بھرپور وفاداری اور ان کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔