Mar ۲۹, ۲۰۱۹ ۱۴:۲۵ Asia/Tehran
  • سلامتی کونسل میں دہشت گردی کے خلاف قرارداد کی منظوری

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اتفاق رائے سے دہشت گردی کے لئے مالی فنڈنگ کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک قرارداد پاس کر دی۔

دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے موضوع پر پیش کی گئی یہ قرارداد سلامتی کونسل میں سبھی پندرہ ووٹوں سے منظور کر لی گئی- اس قرارداد میں کہ جس کا مسودہ فرانس  نے پیش کیا تھا، کہا گیا ہے کہ حکومتوں کو چاہئے کہ وہ ہر اس بجٹ کا جو دہشت گردانہ اقدامات کی انجام دہی کے لئے براہ راست طور پر یا چندہ کی شکل میں فراہم کیا جاتا ہے سد باب کریں اور اس کے خلاف کارروائی کریں-

مذکورہ قرارداد میں سبھی حکومتوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اس بات کا اطمینان حاصل کریں کہ ان کے ملکی قوانین دہشت گرد گروہوں کو براہ راست یا بالواسطہ طور پر کسی بھی طرح کی مالی مدد اور دہشت گردی کے لئے مالیاتی ذرائع کا ٹھوس مقابلہ کرنے کے لئے کافی ہیں اور ان قوانین کے ذریعے دہشت گردوں کے لئے مالی امداد کا راستہ پوری طرح بند کیا جا سکتا ہے-

سلامتی کونسل نے سبھی حکومتوں سے کہا ہے کہ وہ منی لانڈرنگ، دہشت گردی کے لئے مالی فنڈنگ اور ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے ایف اے ٹی ایف کے معیاروں کو ملحوظ خاطر رکھیں-

اجلاس میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی کی جڑوں کو اکھاڑ پھینکنے کی ضرورت ہے- ایران کے نائب مندوب اور سفیر اسحاق آل حبیب نے کہا کہ دوسروں کی سرزمینوں پر غاصبانہ قبضہ دہشت گردوں کے ساتھ غاصبوں کے اتحاد کا سبب بنتا ہے جیسا کہ اسرائیلی حکام شام میں دہشت گردوں کی مدد کر رہے ہی 

ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی ایک عالمی خطرہ ہے جس کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک جامع اور پیشگی راستوں اور طریقوں کی ضرورت ہے-

  ایران کے نائب مندوب میں ایران میں دہشت گردانہ حملوں میں سترہ ہزار ایرانیوں کی شہادت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لئے پوری طرح پرعزم ہے۔

انہوں نے ساتھ ہی دہشت گردوں کی مالی فنڈنگ کا مقابلہ کرنے کے لئے ایران کے اقدامات کا بھی تفصیل کے ساتھ ذکر کیا- انہوں نے داعش جیسے خونخوار دہشت گرد گروہوں کے لئے پیٹرو ڈالر کی فراہمی اور ساتھ ہی ان گروہوں کے ذریعے تیل کی فروخت اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی نیز گذشتہ برسوں کے دوران عراق اور شام میں نوادرات اور آثار قدیمہ کو لوٹ کر انہیں بیچ دینے جیسے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ حقائق اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ بعض ممالک دہشت گردی کے لئے مالی فنڈنگ روکنے میں دلچسپی نہیں رکھتے-

ایرانی نائب مندوب اسحاق آل حبیب نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ بعض ممالک دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، کہا کہ اس طرح کے اقدامات کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے اور جو ممالک اس طرح کی حرکتیں کرتے ہیں وہ وہی ہیں کہ جنھوں نے بہت سے دہشت گرد گروہوں کو بنایا اور انہیں پروان چڑھایا اور آج بھی ان کی مالی اور اسلحہ جاتی مدد کر رہے ہیں-