امریکہ نے سلامتی کونسل میں لیبیا میں تارکین وطن پر ہونے والے حملے کی مذمت کو روکا
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں امریکی وفد نے کوئی وجہ بتائے بغیر لیبیا میں تارکین وطن اور مہاجروں کے کیمپ پر خلیفہ حفتر کی فوج کے ہوائی حملے کی مذمت میں بیان جاری کرنے سے روک دیا۔
غیر ملکی نشریاتی ادارے نے خبر دی ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں امریکی وفد نے لیبیا میں تارکین وطن کے کیمپ پر بمباری کو شرمناک بتانے کے بعد کوئی وجہ بتائے بغیر اس حملے کی مذمت میں بیان جاری کرنے سے روک دیا-
سلامتی کونسل کے تقریبا سبھی ارکان کا اس بات پر اتفاق تھا کہ لیبیا میں تارکین وطن کے کیمپ پر خلیفہ حفتر کی فوج کے ہوائی حملے کی مذمت کی جائے-
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوترش نے اس حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مارے جانے والوں کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار اور اس حادثے کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کر کے ذمہ داروں کو سزا دینے کا مطالبہ کیا-
انسان دوستانہ امدادی تنظیموں نے بھی تارکین وطن کے ان کیمپوں سے فوری انخلا کا مطالبہ کیا ہے جنھیں لیبیا میں کیمپوں میں قید کر رکھا گیا ہے-
ٹرمپ انتظامیہ، لیبیا میں نیشنل آرمی کے کمانڈر خلیفہ حفتر کے حامیوں میں سے ہے-
الجزیرہ ٹیلی ویژن چینل نے خبر دی ہے کہ طرابلس میں تارکین وطن کے کیمپ پر حملے کے بارے میں فوری اور جامع تحقیقات کے لئے بین الاقوامی دباؤ کے ساتھ ہی خلیفہ حفتر کی فوج کے ترجمان احمد المسماری نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ یہ حملہ ان کی فضائیہ نے کیا تھا تاہم انہوں نے دعوی کیا کہ لیبیا کی قومی وفاق کی حکومت نے افریقی ملکوں کے تارکین وطن کو حملے کے مقام پر منتقل کر دیا تھا-
یہ ایسی حالت میں ہے کہ خلیفہ حفتر کی فوج کے اس ہوائی حملے میں مرنے والوں کی تعداد ساٹھ ہو گئی ہے- خلیفہ حفتر کی فوج کے جنگی طیاروں نے بدھ کو تارکین وطن کے کیمپ پر بمباری کی تھی اس حملے میں ساٹھ افراد ہلاک اور اسّی دیگر زخمی ہوئے ہیں-
خلیفہ حفترکی لیبین نیشنل آرمی نے جسے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور مصر سمیت امریکا اور بعض مغربی ملکوں کی حمایت حاصل ہے، برسوں سے لیبیا کے مشرقی علاقوں پر قبضہ کر رکھا ہے اور پچھلے دنوں اس نے ملک کے شمالی علاقوں کی جانب بھی پیشقدمی کی ہے-
خلیفہ حفتر نے گذشتہ اپریل میں سعودی عرب کے دورے سے واپسی پر اپنی فوج کو لیبیا کے دارالحکومت طرابلس پر حملے کا حکم دیا تھا- طرابلس میں لڑائیوں کے آغاز سے اب تک تقریبا ساڑھے سات سو افراد ہلاک اور چار ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں-
چار سال قبل سے لیبیا کی سیاسی جماعتوں اور گروہوں کے درمیان اختلافات کے باعث ملک میں دو متوازی حکومتیں ہیں، ایک طرابلس میں ہے جبکہ دوسری حکومت کا مرکز مشرقی شہر طبرق ہے اور دونوں کی الگ الگ پارلیمان اور فوج بھی ہے-
طبرق کی پارلیمان اور حکومت کو خلیفہ حفتر کی فوج کی حمایت حاصل ہے جبکہ طرابلس میں وزیراعظم فائز السراج کی قومی وفاق کی حکومت کو عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی حمایت حاصل ہے۔