نسل پرستی امریکا کی سلامتی کے لئے سب سے بڑا خطرہ
ٹرمپ کے برسر اقتدار آنے کے بعد امریکا میں نسل پرستی کی نئی لہر پیدا ہو گئی ہے۔
امریکا کی داخلی سلامتی کی وزارت کے سرپرست کیون میک الینن نے کہا ہے کہ ملک میں سفید فاموں کے اندر برتر پسندی کا نظریہ امریکا میں داخلی دہشت گردی کا سب سے اہم سبب ہے-
انہوں نے ریاست می سی سی پی کے جیکسون میں مذہبی گروہوں کے خلاف تشدد کی روک تھام کے عنوان سے منعقدہ ایک اجلاس کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ال پاسو کا واقعہ اور سفید فام انتہا پسندوں میں اپنے آپ کو برتر سمجھنے کا نظریہ دونوں کا ایک دوسرے سے گہرا تعلق ہے اور یہ حملہ اسی سوچ کا نتیجہ تھا-
امریکا کی داخلی سلامتی کی وزارت کے سرپرست نے اس اجلاس میں ٹیکساس اور اوہایو میں فائرنگ کے حالیہ واقعات پر تفصیل سے گفتگو کی-
ٹیکساس کے شہر ال پاسو میں عام شہریوں پر فائرنگ کرنے والا پیٹرک کروسیوس کھلے طور پر تارکین وطن کا دشمن اور امریکی صدر ٹرمپ کے تارکین وطن سے متعلق نظریات کا حامی ہے-
ریاست ٹیکساس کی پولیس نے بتایا کہ ال پاسو شہر میں فائرنگ کر کے درجنوں افراد کو ہلاک اور زخمی کرنے والے حملہ آور کروسیوس کا کہنا ہے کہ اس نے میکسیکو کے تارکین وطن کو نشانہ بنایا تھا-
کانگریس میں ٹیکساس سے ڈیموکریٹ رکن شیلا جیکسن لی نے جو امریکی ایوان نمائندگان میں داخلی سلامتی کی کمیٹی کی بھی رکن ہیں نسل پرستی کو امریکا کی قومی سلامتی کے لئے ایک سنگین خطرہ بتایا-
ٹرمپ نے بارہا تارکین وطن اور رنگین فاموں کے سلسلے میں نسل پرستانہ موقف اپنایا ہے اور حتی انہوں نے امریکا کے رنگین فام سیاستدانوں سے بھی کہہ دیا کہ وہ اپنے سابقہ ملکوں کو واپس لوٹ جائیں-
امریکا کے معروف سیاسی مبصر ڈینیل بنجامین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ دہشت گردی کی کا مقابلہ کرنے کے بجائے دہشت گردوں کی سرگرمیوں کا دائرہ پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں-
اس دہشت گردی نے اس وقت امریکا میں زیادہ تر داخلی دہشت گردی کی شکل اختیار کر رکھی ہے جس کی دلیل امریکا میں اقلیتوں کے خلاف ہونے والے حملوں میں غیر معمولی اضافہ ہے اسی لئے امریکا کی داخلی سلامتی کی وزارت کے سرپرست کے ساتھ ساتھ دیگر اہم شخصیات نے داخلی دہشت گردی کا دائرہ پھیلنے کی بابت سخت خبردار کیا ہے-