Aug ۲۱, ۲۰۱۹ ۲۱:۰۱ Asia/Tehran
  • سلامتی کونسل کے اجلاس، ایران مقابلے میں امریکہ پھر تنہا

امریکا نے مغربی ایشیا میں امن اور سیکورٹی کے موضوع پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس، ایران مخالف اجلاس میں تبدیل کرنے کی کوشش کی لیکن روس، چین، جرمنی، برطانیہ اور فرانس کے نمائندوں نے امریکا کی اس کوشش کو ناکام بنادیا اور ایران نیز ایٹمی معاہدے کے خلاف امریکا کی مہم پر سخت تنقید کی۔

امریکا کے وزیر خارجہ مائک پمپئو نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں ایران کے خلاف دہشت گردی کی حمایت کے بے بنیاد دعووں کی ایک بار پھر تکرار کی۔ 
امریکی وزیر خارجہ نے دعوا کیا کہ ایران، بقول ان کے مغربی ایشیا میں عدم استحکام بڑھا رہا ہے۔ 
امریکی وزیر خارجہ مائک پمپؤ نے اسی کے ساتھ جامع ایٹمی معاہدے کی شق نمبر چھبیس اور چھتیس کے تحت ایران کی جانب سے اپنے وعدوں پر عمل درآمد کی سطح میں کمی کو ایٹمی معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا ۔ انھوں نے دعوی کیا کہ ایران کا پر ایٹمی پروگرام بین الاقوامی عہدو پیمان کے منافی ہے۔ 
لیکن سلامتی کونسل کے دیگر اراکین حتی امریکا کے یورپی اتحادیوں نے بھی امریکی وزیر خارجہ کے بے بنیاد الزامات اور دعووں کا بھر پور جواب دیا۔ 
اقوام متحدہ میں برطانیہ کی مندوب، کارین پیّرس، نے ایٹمی معاہدے کے بارے میں امریکی وزیر خارجہ کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے ایٹمی معاہدے کو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے میں ایک بڑی کامیابی قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ ایٹمی معاہدے کا کوئی متبادل نہیں ہوسکتا۔
انھوں نے کہا کہ میرا ملک ایران کے لئے بہت زیادہ احترام کا قائل ہے اور ہم اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ ایران علاقے میں قانونی کردار ادا کررہا ہے اور ہم سب کی طرح اس کو بھی اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ 
اقوام متحدہ میں جرمن مندوب کرسٹوف ہیوز گن نے بھی مغربی ایشیا کی سلامتی کے بارے میں سلامتی کونسل کے اجلاس میں اپنے ملک کی جانب سے ایٹمی معاہدے کی پابندی پر زور دیا۔
انھوں نے کہا کہ ہم سختی کے ساتھ اس معاہدے کی پابندی کے قائل ہیں۔ 
ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ایٹمی پروگرام کی نگرانی اور اس کے بارے میں کوئی بھی رائے دینے کا حق صرف ایٹمی توانائی کے عالمی ادارے، آئی اے ای اے کو حاصل ہے۔ 
اقوام متحدہ میں روس کے نائب مندوب دیمتری پولیانسکی نے اجلاس سے اپنے خطاب میں کہا کہ ایران کے خلاف پابندیوں اور دھمکی کی پالیسی بند ہونی چاہئے۔ انھوں نے کہا کہ امریکا ایک طرف توایران سے مذاکرات کا مطالبہ کرتا ہے اور دوسری طرف پابندیاں لگاکے نیز اشتعال انگیزی کرکے اس کو مذاکرات سے دور کر رہا ہے۔ 
اقوام متحدہ میں روس کے نائب مندوب نے کہا کہ مذاکرات کا مطالبہ اور پابندیوں پر عمل ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ 
مغربی ایشیا میں سلامتی اور درپیش چلینجوں کے زیر عنوان منعقدہ سلامتی کونسل کے اجلاس میں فرانس کے مندوب، فرانسوا دلاترہ نے بھی کہا کہ ان کا ملک خود کو ایٹمی معاہدے کا پابند سمجھتا ہے لیکن اپنے وعدوں پر عمل درآمد کم کرنے کے ایران کے حالیہ اقدامات پر اس کو تشویش ہے۔ 
انھوں نے کہا کہ خلیج فارس میں کشیدگی ختم کرنے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی رفت و آمد کی آزادی کے لئے، بہترین راستہ علاقے کے ملکوں کے ساتھ مذاکرات اور افہام تفہیم ہے۔ 
اقوام متحدہ میں چینی مندوب ما ژاؤ شو نے سلامتی کونسل کے اس اجلاس میں کہا کہ مغربی ایشیا میں امن و سلامتی اس خطے کے ہی ملکوں کے لئے نہیں بلکہ عالمی امن و سلامتی کے لئے بھی اہمیت رکھتی ہے۔