یوکرین گیٹ، پمپئو پر گواہوں کو ڈرانے دھمکانے کا الزام
امریکا کے ایوان نمائندگان کی ، خارجہ روابط، انٹیلیجنس اور نگرانی و اصلاحات کی کمیٹیوں کے سربراہوں نے مشترکہ بیان جاری کرکے اعلان کیا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ مائک پامپؤ "یوکرین گیٹ اسکینڈل " میں گواہوں کو دھمکی دینے اور ڈرانے کی کوشش کررہے ہیں ۔
امریکی ایوان نمائندگان کی خارجہ روابط کی کمیٹی کے سربراہ ، ایلیٹ انجیل ، انٹیلیجنس کمیٹی کے سربراہ ایڈم شیف، اور نگرانی و اصلاحات کمیٹی کے سربراہ الیجاہ کمنگس نے ایک مشترکہ بیان جاری کرکے امریکی وزیر خارجہ پر یوکرین گیٹ کے گواہوں کو ڈرانے اورھمکانے کا الزام لگایا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ گواہوں کو مرعوب کرنے یا انہیں کانگریس کے سامنے بیان دینے سے روکنے کی کوشش غیر قانونی اور انصاف میں رکاوٹ ڈالنے کی مصداق ہے ۔قابل ذکر ہے کہ امریکی ایوان نمائندگان نے یوکرین گیٹ اسکینڈل میں گواہی دینے کے لئے وزارت خارجہ کے پانچ کارکنوں کو طلب کیا تھا لیکن وزیر خارجہ مائک پامپؤ نے اس کی مخالفت کردی ہے۔امریکی وزیر خارجہ مائک پامپؤ نے وزارت خارجہ کے ان اراکین کو گواہی دینے کے لئے ایوان نمائندگان میں طلب کئے جانے کو داداگیری قرار دیا ہےامریکی ایوان نمائندگان کی خارجہ روابط ، انٹیلیجنس اور نگرانی و اصلاحات کمیٹیوں نےگزشتہ جمعے کو وزیر خارجہ مائک پامپؤ کو بھی ٹرمپ کے مواخذے کے تعلق سے تحقیقات میں گواہی دینے کے لئے طلب کیا تھا ۔یوکرین کے صدر ولودیمیر زلانسکی کے ساتھ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے متنازعہ ٹیلیفونی مکالمے کا انکشاف ہونے کے بعد امریکی ایوان نمائندگان نے ٹرمپ کے مواخذے کی تحریک پر کام شروع کردیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جولائی کے اواخر میں یوکرینی صدر ولودیمیر زلنسکی کے ساتھ ٹیلیفونی گفتگو میں ان سے کہا تھا کہ دو ہزار بیس کے امریکی صدارتی الیکشن کے ڈیموکریٹ امیدوار جو بائیڈن کے بیٹے ہنٹر بائیڈن کے مالی بدعنوانی کے کیس کی تحقیقات تیز کردیں اور ان کے پاس ایسی جو بھی اطلاعات ہوں جن سے جو بائیڈن کو نقصان پہنچایا جاسکتا ہو، ان کے حوالے کریں ۔اس ٹیلیفونی مکالمے کا انکشاف ہونے کے بعد ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی کے حکم پر ٹرمپ کے مواخذے کی تحریک پر کام شروع کردیا گیا اور اب تک دو سو اٹھارہ اراکین نے ٹرمپ کے مواخذے کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔