Oct ۳۱, ۲۰۱۹ ۱۴:۴۳ Asia/Tehran
  • خلیج فارس کے چھے عرب ملکوں کے ساتھ مل کر ، ایران اور استقامی محاذ سے وابستہ افراد کے خلاف امریکی حکومت کی نئی پابندیاں

امریکی حکومت نے خلیج فارس کے چھے عرب ملکوں کے ساتھ مل کر ، ایران اور استقامی محاذ سے وابستہ افراد کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے ۔

امریکی وزارت خزانہ نے ایک بیان جاری کرکے اعلان کیا ہے کہ امریکا نے خلیج فارس کے ساحل پر آباد چھے عرب ملکوں، بحرین، کویت، عمان، قطر، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر، ایران اور استقامتی محاذ سے تعلق رکھنے والے پچیس افراد، بینکوں اور کمپنیوں پر نئی پابندیاں لگادی ہیں ۔اس بیان میں کہا گیا ہے کہ دہشت گرد گروہوں کی مالی امداد کی نام نہاد روک تھام کے کے مرکز نے جس کے رکن امریکا اور خلیج فارس کے مذکورہ چھے عرب ممالک ہیں، پچیس کمپنیوں، بینکوں اور افراد پر پابندیاں لگادی ہیں جو ایران اور استقامتی محاذ سے تعلق رکھتے ہیں۔یہ سبھی افراد ، بینکوں اور کمپنیوں کے نام ، پہلے سے ہی امریکی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہیں ۔امریکی وزارت خزانہ نے اپنے بیان میں دعوی کیا ہے کہ ان میں سے اکیس افراد، بینک اور کمپنیاں ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی مالی مدد کرتی رہی ہیں۔یاد رہے کہ امریکی وزیر خزانہ اسٹیون منوشین نے مقبوضہ فلسطین کے دورے اور صیہونی حکومت کے وزیر اعظم سے ملاقات میں اعلان کیا تھا کہ عنقریب ایران کے خلاف نئی پابندیاں لگادی جائیں گی ۔امریکا کے نائب وزیر خارجہ ڈیوڈ شینکر نے بھی بدھ کے روز کانگریس میں بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ دو ہزار بیس کے مالی سال کے بجٹ میں چھے اعشاریہ چھے ارب ڈالر کی رقم علاقے میں ایران کے اثرو نفوذ کا مقابلہ کرنے کے لئے مخصوص کی گئی ہے ۔دوسری جانب توانائی کے شعبے میں امریکی نائب وزیر خارجہ کے اسسٹینٹ کرٹ ڈینلی نے ایران کے تیل کے خریداروں کو ایک بار پھر دھمکی دی ہے کہ وہ واشنگٹن کی نظر میں ہیں ۔امریکی حکومت کو امید تھی کہ پابندیاں لگاکے وہ ایران کو اپنی شرائط پر مذاکرات کے لئے مجبور کرنے اور تہران پر علاقے سے متعلق تسلط پسندانہ پالیسیاں مسلط کرنے میں کامیاب ہوجائے گا ، لیکن اس کو شکست کا ہی سامنا کرنا پڑا ۔اب ٹرمپ حکومت نے خلیج فارس کی ، اپنی پٹھو حکومتوں کے ساتھ مل کر ایران اور استقامتی محاذ کے خلاف ، دہشت گرد گروہوں کی مالی امداد روکنے کے بہانے ، ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے ۔امریکا یہ سمجھتا ہے کہ شا ید اس طرح وہ ایران کے اثر ونفوذ کو روکنے میں کامیاب ہوجائے گا لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایران اسلامی اور استقامتی محاذ اتنا طاقتور ہوچکا ہے کہ نہ استقامتی محاذ کی مقبولیت کو روکا جاسکتا ہے اور نہ ہی خطے میں ایران کے اثر ونفوذ کو محدود کیا جاسکتا ہے کیونکہ اس خطے کی امریکا کی پٹھو حکومتیں ایران اور استقامتی محاذ کی مخالف ہوسکتی ہیں لیکن اقوام انہیں نجات دہندہ سمجھتی ہیں اس لئے کہ استقامتی محاذ کے تعاون اور اسلامی جمہوریہ ایران کی فوجی مشاورت سے عراق اور شام کی حکومتوں نے داعش کو شکست نہ دی ہوتی تو اس وقت پورا علاقہ داعش اور تکفیری دہشت گردی کی لپیٹ میں ہوتا۔امریکا کو یہ بات کبھی فراموش نہیں کرنی چاہئے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نہ اس کے سامراجی مطالبات کو تسلیم کرے گا اور نہ ہی اس کے سامنے جھکے گا۔