Dec ۰۹, ۲۰۱۹ ۱۴:۵۱ Asia/Tehran
  • اسلحہ کی عالمی تجارت میں کئی گنا اضافہ

اسٹاک ہوم پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق اسلحے کی عالمی تجارت میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے۔

اسٹاک ہوم پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سن دوہزار اٹھارہ کے دوران اسلحہ کی عالمی تجارت میں، جس پر امریکہ حاوی ہے، چار اعشاریہ چھے فی صد کا اضافہ ہوا ہے۔ انسٹی ٹیوٹ کے شعبہ آرم کنٹرول کی ڈائریکٹر آڈ فلورنٹ نے فرانس پریس کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ پچھلے ایک برس کے دوران امریکہ کی جانب سے دنیا میں سب سے زیادہ اسلحہ فروخت کیا گیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ امریکہ اسلحہ کی انسٹھ فی صد تجارت کے ساتھ دنیا میں سرفہرست ہے جس کی مالیت دو سو چھیالیس ارب ڈالر سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔ کہا جارہا ہے کہ گزشتہ برس کے دوران امریکہ کو اسلحہ کی تجارت سے حاصل ہونے والی آمدنی میں سات فی صد کا اضافہ ہوا ہے۔

امریکہ کی اسلحہ ساز کمپنیاں، چین اور روس کے مقابلے میں دفاعی جدید کاری سے متعلق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خوب منافع کما رہی ہیں۔

امریکہ کے بعد روس، برطانیہ اور فرانس دنیا میں اسلحہ بیچنے والے بڑے ممالک شمار ہوتے ہیں تاہم اسلحہ کی عالمی تجارت میں ان کا حصہ پانچ فی صد سے لیکر ساڑھے آٹھ فی صد کے درمیان ہے۔ اسٹاک ہوم پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق عالمی تجارت میں چین کے حصے کے بارے میں چندان معلومات موجود  نہیں ہیں۔

ٹیگس