Dec ۲۷, ۲۰۱۹ ۱۴:۵۰ Asia/Tehran
  • روس ایران کے خلاف سلامتی کونسل کی پابندیوں کا مخالف

روس کے نائب وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ان کا ملک ایران کے خلاف سلامتی کونسل کی جانب سے عائد کی جانے والی اسلحہ کی پابندیوں کا مخالف ہے۔

انٹرفیکس نیوز ایجنسی کے مطابق نائب وزیرخارجہ سرگئی ریابکوف نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ روس سمجھتا ہے کہ سلامتی کونسل کو ایران کے خلاف اسلحہ کی پابندیوں میں توسیع سے گریز کرنا چاہیے۔

ایٹمی معاہدے کے تحت ایران کے خلاف اسلحہ کی پابندیاں سن دوہزار بیس میں ختم ہوجائیں گی تاہم امریکہ ان پابندیوں میں توسیع کا مطالبہ کر رہا ہے۔

ایٹمی معاہدے کے مشترکہ کمیشن میں روس کی نمائندگی کرنے والے سرگئی ریابکوف کا کہنا تھا کہ ہم اس بات کے لیے بالکل تیار نہیں کہ بار بار اپنے امریکی شرکا کی بات مانتے رہیں، کیوں کہ ایسی صورت میں وہ پھر دوسرے معاملات اٹھانا شروع کردیں گے۔انہوں نے ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ امریکیوں کا رویہ خارجہ پالیسی کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔

امریکہ نے آٹھ مئی دوہزار اٹھارہ کو ایران کے ساتھ ہونے والے بین الاقوامی ایٹمی معاہدے سے یکطرفہ طور پر علیحدگی اختیار کرتے ہوئے تہران کے خلاف تمام پابندیاں دوبارہ عائد کردی تھیں۔

اسلامی جمہوریہ ایران نے ایک سال کے اسٹریٹیجک صبر کی پالیسی سے کام لینے کے بعد ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد کی سطح میں کمی کا آغاز کیا تھا اور اب تک اس کے چار مرحلوں میں عملدرآمد بھی کیا جا چکا ہے۔

ٹیگس