Feb ۰۷, ۲۰۲۰ ۱۸:۱۴ Asia/Tehran
  • عرب ممالک کے تیل کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں : آئی ایم ایف

انٹرنیشنل مونیٹری فنڈ آئی ایم ایف نے خلیج فارس کے عرب ممالک کو دوہزار چونتیس تک ان کے تیل کے ذخائر ختم ہونے کی بابت خبردار کیا ہے

فرانس پریس کی رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف نے تیل کا مستقبل اور مالی استحکام کے زیر عنوان اپنی رپورٹ میں دوہزار چونتیس تک خلیج فارس کے عرب ممالک کے تیل کے ذخائر ختم ہونے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ خلیج فارس کے عرب ممالک ، بلیک گولڈ پر شدید انحصار رکھتے ہیں اور ان کے پاس مقروض ہونے سے بچنے کے لئے  اقتصادی اصلاحات اور اس میں تیزی لانے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔خلیج فارس تعاون کونسل کے رکن ممالک یعنی بحرین، کویت ، عمان ، قطر ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی تقریبا ستر سے نوے فیصد سرکاری آمدنی کا ذریعہ خام تیل ہے۔  آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق اس بات کے پیش نظر کہ ماحولیاتی تبدیلیوں اور انرجی کی عالمی منڈیوں میں جدید ٹیکنالوجی کے فروغ نے ممالک کو انرجی کے قابل تجدید ذخائر سے استفادے کی جانب آگے بڑھایا ہے اور اس چیز نے خلیج فارس تعاون کونسل کےممالک کو مالی چیلنجز سے دوچار کر دیا ہے۔اس رپورٹ کے مطابق خلیج فارس کے رکن ممالک کا مالی سرمایہ دوہزار چونتیس تک مزید تیزی سے کم ہو جائے گا اور انھیں مقروض بنا دے گا۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ بہت سے عرب ممالک ، آئی ایم ایف کے مدنظر اصلاحات کو سیاسی ریسک سے تعبیر کر رہے ہیں کیونکہ ان کے شہری کم ٹیکس ادا کرنے اور سیبسیڈ حاصل کرنے کے عادی ہوچکے ہیں۔