Sep ۰۸, ۲۰۱۶ ۱۳:۱۵ Asia/Tehran

سعودی حکمرانوں نے مکمل کوشش کی ہے کہ سانحہ منی پر پردہ ڈال دے لیکن واقعہ اتنا بڑا تھا کہ اس کو چھپانہ ممکن نہ تھا۔سانحہ کے فورا بعد عام افراد نے اس واقعے کی دلخراش تصاویر سوشل میڈیا پر شائع کردیں لہذا آل سعود کے پاس اعتراف کے علاوہ کوئ ی راستہ ہی نہیں تھا

سامعین گذشتہ پروگرام میں ہم نے حج کے دوران پیش آنے والے بعض ایسے سانحات کا ذکر کیا تھا جس میں ہزاروں حاجی جانبحق ہوگئے تھے۔آج کے پروگرام میں گذشتہ سال منی میں پیش آنے والے افسوس ناک سانحہ کا جائزہ لیں گے جس میں سب سے پہلے کرین گرنے کےواقعہ کا ذکر کرتے ہیں جس میں درجنوں حاجی مارے گئے ۔یہ کرین ایک بڑی کرین تھی جو مسجدالحرام کے توسیعی پراجیکٹ کے تعمیری کاموں کے لئے  دوسری کرینوں کے ساتھ  وہاں موجود تھی۔ حیرت کی بات ہے اور اسے سعودی انتظامیہ کی نا اہلی  اور بدانتظامی کی انتہا کہہ سکتے ہیں کیونکہ ایک ایسے وقت جب حجاج کرام کا جم غفیر مسجدالحرام میں موجود ہے تو اس وقت تعمیری کام کو جاری رکھنے اور اسطرح کی کرین کو وہاں موجود گی کی کیا ضرورت تھی۔ ۔بہرحال 11 ستمبر 2015 بمطابق 27 زیقعد 1436 ایک بڑی کرین مسجد الحرام کے صحن میں گری جس سے اس مقدس مقام میں موجود 107 حاجی شہید اور238 شدید زخمی ہوگئے۔

لیکن ابھی ایک اور دلخراش سانحہ حجاج کرام کا منتظر تھا۔24 ستمبر عید قربان کے دن ہرسال کی طرح معمول کے مطابق  حجاج کرام صحرائے مشعر سے منی کی طرف رواں دواں تھے تاکہ منی پہنچ کر پہلے دن شیطان کو کنکریاں مار سکیں تاہم دوسری طرف سعودی انتظامیہ کے افراد نے اصلی راستے کو بلاک کیا ہوا تھا اور حجاج کے جم غفیر کو ایک فرعی راستے کی طرف بھیج رہے تھے۔حیران کن بات یہ تھی کہ اصلی راستے سے نکلنے کے راستوں کو بھی بند کردیا گیاتھا۔جہان سے راستہ روکا گیا تھا وہاں حجاج کا رش ہونا شروع ہوگیا اور تھوڑی ہی دیر میں ہزاروں حاجی وہاں پہنس کر رہ گئے گرمی کی شدت اور راستہ بند ہونے نیز سخت گھٹن کی وجہ سے حجاج کی حالت خراب ہونے لگی اور وہ ایک ایک کرکے گرنے لگے تھوڑی دیر میں ہزاروں حاجی گرمی اور تیز دھوپ کی تاب نہ لاتے ہوئے نڈھال ہو کر زمین پر گرگئے اور پیچھے آنے والے حاجی بھی دباؤ میں آنے کی وجہ سے  انکے اوپر گرنے لگے۔ اس حادثے میں سات ہزار حاجی جاں بحق ہوگئے ۔سعودی کارندے جو اس واقعے کے ذمہ دار تھے خاموش تماشائی بن کر کھڑے رہے اور انہوں نے رش میں پہنسے ہوئے لوگوں کی کوئی مدد نہیں کی۔ سعودی انتظامیہ کا تاخیر سے پہنچنا اور گرے اور دبے ہوئے افراد کی مدد نہ کرنا اس بات کا باعث بنا کہ مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ ورنہ ایک بڑی تعداد کو بچایا جاسکتا تھا۔اسطرح عید قربان کے موقع پر منی کی سرزمیں پر یہ افسوسناک سانحہ پیش آیا۔

سعودی حکمرانوں نے مکمل کوشش کی ہے کہ سانحہ منی پر پردہ ڈال دے لیکن واقعہ اتنا بڑا تھا کہ اس کو چھپانہ ممکن نہ تھا۔سانحہ کے فورا بعد عام افراد نے اس واقعے کی دلخراش تصاویر سوشل میڈیا پر شائع کردیں لہذا آل سعود کے پاس اعتراف کے علاوہ کوئی راستہ ہی نہیں تھا دوسرے مرحلے میں سعودی حکومت نے اس بات کی بھرپور کوشش کی کہ مرنے والوں کی تعداد کو کم کر کے بتائیں یہی وجہ ہے کہ شروع میں جاںبحق ہونے والوں کی تعداد کو 700 سے 4000 تک بتایا گیا یہ تضاد خود اس بات کی نشاندھی کرتا ہے کہ اصل صورت حال کیا تھی۔

منی میں پیش آنے والے واقعے کی گہرائی کو درک کرنا آسان نہیں ہے ۔حجاج پر وہ لمحات کیسے گزرے اور مرنے والوں کو کس طرح کی ازیتوں کا سامنا کرنا پڑا اسکو الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں ہے ۔آئیے دیکھتے ہیں جائے حادثہ پر موجود ایک ایرانی حاجی اس واقعے کا آنکھوں دیکھا حال کس طرح بیان کرتےہیں ۔ایران کے حاجی محمد گذشتہ سال حج کے موقع پر منی میں موجود تھے وہ واقعے کو اسطرح بیان کرتے ہیں۔

میں نےایک طویل انتظار کے بعد نہایت شوق اور ولولے کے ساتھ حج کے لئے سرزمین وحی کا سفر اختیار کیا۔ہوائی جہاز کی خاموشی اور سکوت اس بات کا باعث بنا کہ  میں حج کے روحانی اور معنوی سفر کے بارے میں غوروفکر کروں ۔سفر حج سے پہلے مختلف تربیتی پروگراموں میں حج کے مناسک کی ادائیگی کا طریقہ کار سکھایا گیا تھا لیکن انکی ادائیگی کے بارے میں دل میں ایک اضطراب موجود تھا۔دیگر پریشانیوں کے علاوہ سب سے بڑی پریشانی سعودی کارندوں کی طرف سے حج کے انتظامات میں نااہلی اور انکی بد انتظامی کے خدشات تھے کیونکہ سعودی حکام کی نااہلی کی وجہ سے ہر سال حج کے موقع پر ایسے سانحات ہوتے رہے ہیں جو حجاج کے لئے باعث ناراضگی اور تکلیف کا باعث بنے۔مجھے اچھی طرح معلوم تھا کہ سعودی حکام اپنے مخالف نظریات رکھنے والوں حجاج خاص کر شیعہ مسلمانوں کو پسند نہیں کرتے اور انکے ساتھ برا سلوک روا رکھتے ہیں۔ ان تمام خدشات کے باوجود اپنے آپ کو مطمئن کرتے ہوئے اور خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کے سبز گنبد کے حسین تصور کو اپنے زہن میں لاتے ہوئے میں نے آنکھیں بند کرلیں۔

پائلٹ کی آواز سے محسوس ہوا کہ مدینہ ائیرپورٹ پر پہنچ گئے ہیں۔جہاز سے اترنے کے بعد امیگریشن کے مختلف اور تکلیف دہ مراحل سے گزرے جس میں ہرایک میں کافی وقت لگا۔سعودی کارندوں نے ایرانی حجاج کے ساتھ اسکے باوجود کہ انکے پاسپورٹ اور تمام ضروری دستاویزات مکمل تھے غیر ضروری تفتیش اور چیکنگ کا طریقہ کار اپنایا۔بیگوں اور دیگر سامان کی بھی جس طرح تفتیش اور چیکنگ کی گئی وہ دوسرے عازمیں حج سے مکمل مختلف تھی۔ایسے محسوس ہوتا تھا جیسے وہ کسی خاص چیز کی تلاش میں ہیں۔جب میری تلاشی کی باری آئی تو سعودی اہلکار نے میرے ہاتھ میں موجود چھوٹے قران کو نہایت گستاخانہ انداز سے ایک طرف پھینکا۔مجھے اس گستاخی پر سخت غصہ آیا لیکن مین نے صبر کا مظاہرہ کیا کیونکہ مجھے اس کے نتائج کا اندازہ تھا۔میں نے صرف اتنا سوال کیا قران کو اس طرح کیوں رکھا ہے تو اس نے قران کے حوالے سے مسلمانوں میں موجود تقدس کو نظر انداز کرتے ہوئے بڑا احمقانہ جواب دیا۔کہنے لگامسجد نبوی اور مسجدالحرام میں قران بہت ہیں ۔بعد میں جب ہوٹل میں بیگ ،اور دوسرا سامان ہمیں دیا گیا تو پتہ چلا اس میں قران مجید اور دوسری کتابیں موجود نہ تھیں۔

ٹیگس