Mar ۰۸, ۲۰۱۶ ۱۸:۵۲ Asia/Tehran
  • ایرانو فوبیا امریکہ اور بعض عرب ممالک کی مشترکہ پالیسی

خطے میں خوف وہراس کی فضا اور کشیدگی کا ماحول پیدا کرکے امریکہ اور یورپی ممالک کے اربوں ڈالر کے ہتھیار خلیج فارس تعاون کونسل کے ممالک کو فروخت کئے جائیں

متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ نے اپنی تفرقہ انگیز پالیسیوں کو جاری رکھتے ہوئے ایران پر فرقہ واریت برآمد کرنے کا الزام لگایا ہے۔ متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ عبداللہ بن زاید نے جرمنی کے وزیر خارجہ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں مذید کہا ہے کہ ایران کی مداخلتوں کا مقابلہ ہونا چاہیے۔ادھر امریکی نائب صدر جو متحدہ عرب امارات کے دورے پر ہیں متحدہ عرب امارات کے اخبار الاتحاد سے گفتگو میں کہا ہے کہ ہم نے مستحکم اور موثر طریقے سے ایران کے ایٹمی پروگرام کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کردی ہیں جسکے نتیجے میں خطہ بہت پرامن ہوگیا ہے ۔ان کاکہنا تھا اسکے علاوہ بھی ہم نے  اپنے خطے کے تما م اتحادیوں  کی سیکوریٹی کو مضبوط بنانے کے لئے اقدامات انجام دئیے ہیں تاکہ وہ مضبوط پوزیشن میں ایران کے ساتھ معاملات کو آگے بڑھا سکیں۔
اس طرح کے بیانات کے دو اھداف ہیں پہلا مقصد علاقے میں ایران و فوبیا کی ترویج ہے جو مغرب کے سیاسی حلقوں کے علاوہ  سعودی عرب کی سربراہی میں بعض رجعت پسند عرب ریاستوں کی طرف سے جاری ہے ۔اسکا دوسرا ہدف یہ ہے کہ خطے میں خوف وہراس  کی فضا اور کشیدگی کا  ماحول پیدا کرکے امریکہ اور یورپی ممالک کے اربوں ڈالر  کے ہتھیار خلیج فارس تعاون  کونسل کے ممالک کو فروخت کئے جائیں اسکی ایک مثال متحدہ عرب امارات کی جانب سے اربوں ڈالر کے ہتھیاروں کی خریداری ہے ۔اسی بنیاد پر امریکی نائب صدر نے امریکہ اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تجارت کا حجم 25 ارب ڈالر بتاتے ہوئے وضاحت کی ہے کہ  مشرق وسطی میں خلیج فارس تعاون کونسل کے ممالک امریکہ کے بڑے تجارتی ساتھیوں میں شامل ہیں۔
حزب اللہ لبنان  کو دہشتگرد تنظیم قرار دینے کے بارے  میں خلیج فارس تعاون کونسل کے وزرا کے حالیہ بیانات اور یمن،شام ،اور لبنان کے بارے میں سعودی عرب کے فرقہ ورانہ بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ امریکہ خطے میں فرقہ ورانہ کشیدگی اور اختلافات بڑھانے کی پالیسیوں کی حوصلہ افزائی کررہا ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ امریکہ علاقے اور عالمی سطح پر ایران کے کردار کے سامنے آنے کا مخالف ہے کیونکہ اس صورت میں اسے ایران  کو علاقے کی ایک  طاقت کی حیثیت سے قبول کرنا پڑے گا۔   البتہ امریکہ نے  مختلف امور خاص کرافغانستان اور عراق میں آنے والی تبدیلیوں کے حوالے سے ایران کے موثر کردار کو تسلیم کیا ہے جسکی ایک مثال یہ ہے کہ امریکی صدر نے ایٹمی معاہدہ کی منظوری کے بعد گزشتہ سال جولائی میں نیویارک ٹائمز سے گفتگو میں اس نکتے کی طرف اشارہ کیا تھا کہ شام کے بعض مسائل  کے حل میں ایران کوبھی سعودی عرب،ترکی اور روس کے ہمراہ ہونا چاہیے۔
امریکی حکام  نے گذشتہ دس سالوں میں ایران کے ایٹمی پروگرام کی نوعیت سے تشویش کا بہانہ بنا کرسلامتی کونسل،یورپی یونین اورخود امریکہ کی   جانب سے ایران کے خلاف  بے جا اورظالمانہ پابندیاں عائد کیں اور اسے علاقے کو پرامن کرنے اور ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکنے کے حوالے سے درست اقدام قراردیا   لیکن ایٹمی معاہدے پر عمل درآمد سے یہ سلسلہ رک گیا ہے ۔
ایٹمی توانائی کے عالمی ادارے کے سربراہ یوکیو امانو نے گذشتہ روز اپنے ایک بیان میں  آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنز سے مخاطب ہوتے ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں وضاحت کی ہے کہ ایران کے ایٹمی پروگرام میں انحراف کی کوئی علامت اور نشانی نظر نہیں  آئی ہے۔
 ان کا کہنا تھا کہ ایران سے کہہ دیا گیا ہے کہ وہ آئی اے ای کی تمام سرگرمیوں میں شریک ہوسکتا ہے
 بہر حال اس سے یہ نتیجہ نہیں نکالا جاسکتا ہے کہ ایران کے بارے میں امریکہ کی دشمنانہ پالیسیوں میں تبدیلی آگئی ہے۔ امریکہ ایران کی دفاعی قوت اور اس کے دفاعی میزائل سسٹم کے بارے میں بھی بے بنیاد دعوے کرتا رہتا ہے ۔امریکہ نے گزشتہ تین عشروں میں کئی بار  ایران پر دہشتگردی کی حمایت اورانسانی حقوق کی خلاف ورزی کے  بہانے دباؤ ڈالا ہے ۔امریکی حکام کا دشمنانہ رویہ اور موقف اور اسکے ساتھ ساتھ علاقے کے بعض عرب ممالک کا امریکہ کی ہاں میں ہاں ملانا نیز انکے غیر منطقی اور غیر سنجیدہ بیانات اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ ایران و فوبیا بدستور انکے ایجنڈے میں شامل ہے اور اس ایجنڈے کو آگئے بڑھانے والے اس بات کی کوشش کررہے ہیں کہ ایٹمی معاہدے کے بعد بھی اپنے فرقہ وارنہ  اور اختلافات پر مبنی  دیرینہ مواقف کو جاری رکھیں۔