افغانستان میں امن و سلامتی خطےکی ضرورت
تجربات سے ثابت ہوتا ہے کہ دہشتگردی سے مقابلہ کسی ایک ملک کے بس میں نہیں بلکہ اس کے مقابلے کے لئے مشترکہ کوششوں کی اشد ضرورت ہے
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی نے افغانستان میں قیام امن کو علاقے میں استحکام کی ضمانت قرار دیا ہے ۔
پاکستان کے صوبہ خیبر پحتونخوا کے وزیر اعلی پرویز خٹک نے کہا ہے کہ علاقے میں امن کے قیام کے لئے افغانستان میں قیام امن ضروری ہے ۔ صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی نے یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ پاکستان اور افغانستان میں امن کا قیام بلا واسطہ ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے ، انہوں نے پاکستانی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ دہشتگردی کے خلاف متحد ہوجائیں۔
گذشتہ پیر کو پاکستان کے وزیراعظم کے خارجہ امور میں مشیر سرتاج عزيز نے بھی اعلان کیا ہے کہ حکومت پاکستان نے دہشتگردوں کے بینک اکاؤنٹس اور مالی وسائل پر کنٹرول کرکے دہشتگردوں پر کڑی ضرب لگائی ہے ۔ دوسری طرف پنجاب کے وزیر اعلی شہباز شریف نے بھی کہا ہے کہ دہشتگردی اورانتہا پسندی کی پاکستان میں کوئی جگہ نہیں ہے۔
افغانستان کے صدر اشرف غنی کئی بار تاکید کر چکے ہیں کہ افغانستان میں امن و امان کا راستہ پاکستان سے گذرتا ہے اور اسی وجہ سے انہوں نے اسلام آباد کابل تعلقات میں فروغ کی کوششیں کی ہیں تا کہ پاکستان کوافغانستان میں امن کے قیام کے لئے آمادہ کرسکیں۔دوسری طرف اشرف غنی کی ان کوششوں کے حوالے سے افغانستان کے سیاسی حلقے شکوک و شبہات کا شکارہیں اور انہیں اس کی کامیابی کے بارے میں یقین نہیں ہے،۔افغانستان کے ان سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان افغانستان کے حوالے سے دوغلی پالیسیوں پر عمل پیرا ہے اگرچہ پاکستان کی حکومت اس نظریے کو تسلیم نہیں کرتی تاہم کابل کو اعتماد میں لینے کے حوالے سے پاکستان نے ابھی تک کوئي خاطر خواہ اقدامات بھی انجام نہیں دیئے ہیں۔
دہشتگردی اور انتہا پسندی دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے حوالے سے مشترکہ چیلنج ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان اور افغانستان میں آنے والی تبدیلیوں میں بھی انتہائی موثر ہے ۔ تجربات سے ثابت ہوتا ہے کہ دہشتگردی سے مقابلہ کسی ایک ملک کے بس میں نہیں بلکہ اس کے مقابلے کے لئے مشترکہ کوششوں کی اشد ضرورت ہے ۔طالبان کی صفوں میں پاکستان کے اثر و رسوخ اور اس حوالے سے پاکستانی حکام کے اعترافات کی روشنی میں کابل کی اسلام آباد سے توقع ہے کہ وہ طالبان کو امن مذاکرات کی میز پر لانے کے لئے افغان حکام کی کوششوں کا ساتھ دے ۔
افغانستان کے سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان طالبان کو اپنے آلہ کارکے طور پر استعمال کرتا ہے اور پاکستان جب تک اپنے مطلوبہ اہداف منجملہ ڈیورنڈ لائن کو بین الاقوامی سرحد کے طور پر منوا نہیں لیتا وہ افغانستان میں امن و آشتی کے قیام کے حوالے سے عملی قدم نہيں اٹھائے گا۔ بہرحال پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی کے بقول پاکستان اور افغانستان میں امن کا قیام بلا واسطہ ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے اوریہ موضوع پاکستان میں بڑھتے ہوئے تشدد اور خونریزی کی وجہ سے اور بھی اہمیت اختیارکرگیا ہے ۔
افغان تجزيہ نگاروں کی رائے میں کسی دوسرے ملک کی بدامنی میں ملوث ملک کو اپنے ملک میں امن و آشتی کے قیام کی امید نہیں رکھنا چاہیے کیونکہ دہشتگردی کی کوئی سرحد نہیں ہوتی اور یوں بھی امن و امان کا قیام ایک اجتماعی مسئلہ ہے اور امن و سلامتی کے قیام کے لئے تمام ممالک بالخصوص ہمسایہ ممالک کو موثر اور سنجیدہ تعاون کرنا چاہیئے۔
سرحدوں پر امن و سلامتی کا قیام، کابل ، اسلام آباد کے درمیان موجود مسائل میں سے ایک اہم ترین مسئلہ ہے اور دونوں ممالک کی اس مسئلے پر عدم توجہ اس بات کا باعث بنی ہے کہ دہشتگرد دونوں ممالک کے سرحدوں سے باآسانی آتے جاتے ہیں اور جب چاہتے ہیں دہشتگردانہ کاروائیاں انجام دیتے ہیں۔