Mar ۲۳, ۲۰۱۶ ۱۸:۱۸ Asia/Tehran
  • ۔سعودی عرب میں پھانسیوں کا سلسلہ جاری، عالمی اداروں کی تنقید

سال رواں میں اب تک پچہتر افراد کو سعودی عرب کے مختلف شہروں میں پھانسی کی سزادی چکی ہے

عالمی اداروں کے انتباہات اور مسلسل خبر دار کرنے کے باوجود سعودی عرب میں سیاسی و مذہبی کارکنوں اور ان کے رہنماؤں کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔
سعودی شہریوں کو کچلنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہوتے ہوئے سعودی عرب کی سیکورٹی فورسز نے سعودی عرب کے سب سے بڑے صوبے الاحساء کے امام جمعہ آیت اللہ حسین الراضی کو گرفتار کر لیا ہے ان پر الزام ہے کہ انہوں نے سعودی عرب میں ہونے والی غیر قانونی پھانسیوں اور یمن پر جاری سعودی جارحیت کی مخالفت کی ہے ۔سعودی عرب کی سیکورٹی فورسز اس سے پہلے بھی اس معروف عالم دین کو شیخ باقر النمر کی پھانسی کے خلاف تقاریر کرنے پر کئی بار گرفتار کرچکی ہے۔
الاحساء کے امام جمعہ آیت اللہ حسین الراضی نے سعودی عرب میں غیر قانونی پھانسیوں میں اضافے پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ پھانسیاں ، قید و بند کی صعوبتیں اور بلا جواز گرفتاریاں وہ اہم ترین ہتھکنڈہ ہے جسے شاہی سعودی حکومت اپنے مخالفین کو کچلنے کے لئے استعمال کررہی ہے۔سعودی وزارت داخلہ نے گذشتہ ہفتے عسیر کے علاقے میں مزید چند افراد کی پھانسیوں کی تائید کرتے ہوئے اعلان کیا کہ سال رواں میں اب تک پچہتر افراد کو سعودی عرب کے مختلف شہروں میں پھانسی کی سزادی چکی ہے ۔ یاد رہے سعودی عرب میں پھانسی کی سزا پانے والے کا سر قلم کردیا جاتا ہے۔
سعودی عرب میں ایسی حالت میں سیاسی و مذہبی مخالفین کو پھانسی کی سزائیں دینے کا سلسلہ جاری ہے کہ مختلف عالمی ادارے منجملہ ایمنسٹی انٹر نیشنل ، ہیومن رائٹس واچ اور اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بذات خود ان سزاؤں پر کڑی تنقید کررہے ہیں۔ایمنسٹی انٹر نیشنل نے سعودی عرب کی انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر تنقید کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ سیاسی اور مذہبی مخالفین کو سزائے موت دینے کا سلسلہ بند کرکے بین الاقوامی قوانین پر عملدرآمد کیا جائے ۔ انسانی حقوق کے اس عالمی ادارے نے سعودی عرب کے ہاتھوں یمن میں مارے جانے والے عام شہریوں کے قتل عام کی مذمت کرتے ہوئے امریکہ اور برطانیہ سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ جارح سعودی عرب کو ہتھیار فروخت کرنے کا سلسلہ بند کریں کیونکہ یہ ہتھیار سعودی عرب اور یمن کی عوام کو کچلنے کے لئے استعمال ہورہے ہیں۔
سعودی حکومت کی طرف سے ہتھیاروں کی وسیع خرید اری کا سلسلہ ایسے عالم میں جاری ہے کہ سعودی عرب میں غربت و افلاس میں اضافہ ہورہا ہے اور گذشتہ دو سالوں میں اس میں اس قدر اضافہ ہوا ہے کہ پورے سعودی عرب میں اس کے خلاف عوامی اعتراضات بھی سامنے آرہے ہیں۔
 سعودی عرب کی سیکوریٹی فورسز نے گذشتہ دو سالوں میں العوامیہ کے شیعہ نشین علاقے کے عوام کو کچلنے کے لئے مظاہرین کی ایک بڑی تعداد کو گرفتار کیا ہے جب کہ بیسیوں افراد جاں بحق اور متعدد زخمی بھی ہوئے ہیں۔العوامیہ کے عوام کا قصور یہ تھا کہ وہ دوسرے سعودی شہریوں جیسے حقوق کا مطالبہ کررہے تھے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹوں کے مطابق آل سعود حکومت نے دوسال پہلے دھشت گردی سے مقابلے کے نام پر ایک قانون منظور کیا ہے، جس کو بہانہ بناکر سعودی حکومت نے نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں مں اضافہ کیا ہے بلکہ وہ اس قانون کو سامنے رکھ کر سعودی عوام کے خلاف اپنائے گئے اپنے ظالمانہ اور مخالفین کو کچلنے والے اقدامات کی توجہیہ  بھی کرنا چاہتی ہے۔
آل سعود کی استبدادی، پرتشدد اور مخالفین کو کچلنے والی پالیسیوں کے خلاف سعودی عوام اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی مخالفت، اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اس ڈکٹیٹر حکومت کو سعودی عرب میں عوامی جمہوری حکومت کے قیام کے لئے جاری تحریک کو روکنے میں ناکامی کا سامنا ہے۔یاد رہے سعودی عرب میں سیاسی و سماجی تنظیموں کی تاسیس نیز خواتین کو حق رائے دہی اور ڈرائیونگکی اجازت جیسے حقوق بھی حاصل نہیں ہیں۔