• روسی وزیر دفاع کی شام کے صدر بشار اسد سے ملاقات

روسی وزیر دفاع سرگئی شویگو نے منگل کے دن شام کے صدر بشار اسد کے ساتھ ملاقات کی۔

روسی وزارت دفاع کے جاری کردہ بیان کے مطابق شویگو اور بشار اسد نے اس ملاقات میں شام میں قیام امن، کم کشیدگی والے علاقوں اور ان علاقوں کے باشندوں کو امداد پہنچائے جانے جیسے امور پر تبادلۂ خیال کیا۔ اس ملاقات میں شام کے صدر بشار اسد کو روسی صدر ولادیمیر پوتن کا خط بھی دیا گیا۔ اس خط میں روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے بشار اسد کو مشرقی شام میں واقع دیر الزور کا محاصرہ ختم کرنے کے سلسلے میں شامی فوج کی حالیہ کامیابیوں کی مبارکباد پیش کی ہے۔ شام اور روس نے دہشت گردی کے مقابلے کے لئے باہمی تعاون اور شام میں دہشت گرد گروہ داعش کی مکمل نابودی تک روس کی جانب سے شامی فوج کی فضائی پشت پناہی جاری رکھنے پر تاکید کی ہے۔

شام میں روسی کمان کی رپورٹ کے مطابق بشار اسد کی حکومت نے داعش اور دوسرے دہشت گرد گروہوں کے قبضے سے پچاسی فیصد علاقے آزاد کرا لئے ہیں۔

دوسری جانب روس کی ایرو اسپیس کے سربراہ جنرل سرگئی مشریا کوف (Sergey Meshcheryakov) نے مشترکہ ایئر ڈیفنس سسٹم کے قیام کی خبر دی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کے فوجی اس سسٹم کے ذریعے تمام فضائی اہداف کا پتہ لگائیں گے۔

روس نے تیس ستمبر سنہ دو ہزار پندرہ سے  دہشت گرد اور مسلح گروہوں کے مقابلے میں شام کی فوج کی مدد کا آغاز کیا۔ کسپییئن سی میں تعینات بحری بیڑے سے ایک ہزار پانچ سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع دہشت گرد گروہ داعش کے ٹھکانوں پر چھبیس کروز میزائل داغے جانے کو اس عملی حمایت کا آغاز قرار دیا جاسکتا ہے۔

روس نے شام کا بحران شروع ہونے کے فورا بعد سے سیاسی، مالی اور اسلحہ جاتی امداد کر کے بشار اسد کی حکومت کی سرنگونی کی کوششوں کو ناکام بنا دیا۔ اس آپریشن میں ایک طرح سے کام کی تقسیم عمل میں لائی گئی۔ زمینی آپریشن شام کی فوج اور استقامت کے مجاہدین نے انجام دیا جبکہ روس کی فضائیہ نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر بمباری کر کے شام کی فوج اور اس کے اتحادیوں کی مدد کی۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے شام کی حمایت کی ایک وجہ امریکہ کی یکطرفہ پالیسی کا مقابلہ کرنے  سے عبارت ہے۔ امریکہ کے سابق وزیر خارجہ ہنری کیسنجر (Henry Kissinger) کا کہنا ہے کہ میرا خیال یہ ہے کہ پوتن یہ نہیں چاہتے ہیں کہ امریکہ یکطرفہ طور پر خطے کی صورتحال کا تعین کرے۔

روس کی جانب سے بشار اسد کی حمایت کی دوسری وجہ قفقاز، مشرقی ایشیا اور مسلم آبادی والی جمہوریاؤں میں، کہ جو اس سے قبل سابق سوویت یونین کا حصہ شمار ہوتی تھیں،  سلفی وہابی اسلام کے پھیلاؤ پر ماسکو کو لاحق تشویش ہے۔

شام کے حالات میں ایران اور روس نے اس قدر مثبت اور مفید کردار ادا کیا ہے کہ حتی ان دونوں ممالک کے دشمنوں نے بھی اسے سراہا ہے۔ اس سلسلے میں برطانوی وزیر اعظم تھریسا مے کے بیانات کی جانب اشارہ کیا جاسکتا ہے۔ یہ بیانات انہوں نے سات صنعتی ممالک کے اجلاس کے موقع پر شام میں دہشت گردی کے مقابلے میں ایران اور روس کے موثر کردار کے بارے میں دیئے تھے۔

مجموعی طور پر ایسا نظر آتا ہے کہ شام استقامت اور روس کی پشت پناہی سے دہشت گردوں کا قلع قمع کر سکتا ہے۔

Sep ۱۳, ۲۰۱۷ ۱۲:۳۸ UTC
کمنٹس