Nov ۲۵, ۲۰۱۸ ۱۷:۴۰ Asia/Tehran
  • عالمی وحدت اسلامی کانفرنس، حریت پسندی کے محاذ پر پیشقدم

تہران آج کل " بیت المقدس امت کے درمیان اتحاد کا محور " کے شعار کے ساتھ بتیسویں عالمی وحدت کا نفرنس کی میزبانی کر رہا ہے- تہران میں اس وقت دنیا بھر کی تین سو سے زیادہ سیاسی و مذہبی شخصیات اکٹھا ہیں تاکہ عالم اسلام کے مسائل پر غور و خوض کریں-

تہران میں منعقدہ بتیسویں وحدت اسلامی کانفرنس گذشتہ برسوں کے درمیان ہونے والی وحدت کانفرنسوں سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے-

تہران میں عالم اسلام کی اہم اور نمایاں شخصیات کی سب سے بڑی کانفرنس کے انعقاد سے پتہ چلتا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی پالیسیاں اور مسلم امۃ کے درمیان اتحاد کا اس کا اصولی موقف موثر واقع ہوا ہے  اور یہ کہ ایران نے ہمیشہ عالم اسلام کے مسائل و مشکلات کو برادری و بھائی چارے کے ساتھ مل کر حل کرنے کی کوشش کی ہے-

امریکہ کی جانب سے فلسطینی اہداف کوختم کرنے کے لئے سینچری ڈیل کا منصوبہ پیش کئے جانے ، عظیم واپسی مارچ کے زیرعنوان استقامت کی موثر اسٹریٹیجی جاری رہنے اور ایران کے خلاف اتحاد قائم کرنے کی امریکی سازش کے مدنظر ، اس سال عالمی وحدت اسلامی کانفرنس دنیا کے لئے پہلے سے زیادہ توجہ کا باعث ہے-

اسی بنا پر تہران میں منعقدہ بتیسویں وحدت اسلامی کانفرنس کا ایک اصلی محور، حق واپسی مارچ کی شکل میں ملت فلسطین کی استقامت اور وطن  واپسی پر تاکید، اعلان کیا گیا ہے-

اس سلسلے میں تقریب مذاہب اسلامی کے عالمی فورم کے جنرل سیکریٹری حسین شیخ الاسلام کا کہنا ہے کہ بتیسویں وحدت اسلامی کانفرنس میں جن مسائل کا جائزہ لیا جائے گا وہ فلسطینیوں کی  وطن واپسی ، ان کے قانونی و سیاسی حقوق پر تاکید  ، مسئلہ فسطین کے حل کے لئے تمام متبادل منصوبوں پر غور کرنا ، غزہ پٹی کے حقائق اور حق واپسی مارچ کی حمایت کرنا ہے-

تہران میں منعقدہ عالمی وحدت اسلامی کانفرنس  کا شعار یعنی بیت المقدس ، اتحاد امت کا محور کا نعرہ ، مسلمانوں کے لئے بیت المقدس کی اسلامی ، تاریخی اور تہذیبی اہمیت کا عکاس ہے کہ جس کے تمام آثار کو امریکہ اور عبری و عربی سازشی محور پوری طرح مٹانے اور صیہونیوں کے حوالے کرنے کی کوشش کررہا ہے- دوسرے لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس سال منعقدہ وحت اسلامی  کانفرنس کا پیغام ، فلسطین کے مظلوم عوام اور استقامت کے محور کی حمایت کرنا ہے-

تیونس کی الزیتون یونیورسٹی کے پروفیسر فوزی العلوی نے سنیچر کو ایران پریس نیوزایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے مسئلہ فلسطین اور وحدت اسلامی کانفرنس کی اہمیت کے بارے میں کہا کہ : مسلمانوں کے درمیان اتحاد کا ایک محرک ، مسئلہ فلسطین اور بیت المقدس ہے تاہم سامراجی اور رجعت پسند عرب ممالک کا نیا نعرہ مسئلہ فلسطین کو پس پشت ڈالنا ہے کہ جو مسلمانوں کے درمیان تفرقے کا عامل ہے-

امریکی حکومت کی رجعت پسند عربوں کی مدد سے صیہونی حکومت کے ساتھ عربوں کے تعلقات کو معمول پر لانے اور بیت المقدس میں یہودی کالونیوں کی تعمیر کا سلسلہ جاری رکھنے کی کوششوں کے پیش نطر مسلمانوں کے درمیان عملی اتحاد ہی سینچری ڈیل کے تناظر میں سرزمین فلسطین میں دشمنوں کے مذموم عزائم و منصوبوں کو ناکام بنانے کی واحد حکمت عملی شمار ہوتا ہے - ایک اور چیز جو تہران میں منعقدہ بتیسویں وحدت کانفرنس کی اہمیت کو بڑھاتی ہے وہ ایران کے خلاف امریکہ کی اقتصادی و نفسیاتی جنگ کے ساتھ ہی اس کانفرنس میں دنیا کی اہم سیاسی و مذہبی شخصیتوں کی بڑے پیمانے پر موجودگی ہے- ٹرمپ حکومت کا سعودی و صیہونی حکومتوں کے ساتھ تعاون  کا مقصد، اپنے الائنس کی نمائش کے ذریعے ایران کو الگ تھلگ کرنا ہے لیکن ایران میں اسلامی ممالک اور دنیا کی برجستہ اور موثر عوامی شخصیتوں کی موجودگی سے ایران کے مقابلے میں امریکی اتحاد کی ناکامی کا پتہ چلتا ہے- 

 اس سلسلے تقریب مذاہب اسلامی فورم کے جنرل سیکریٹری آیت اللہ محسن اراکی کا کہنا ہے کہ امریکہ ،  چند ممالک اور اپنے  سعودی و صیہونی آلہ کاروں کے تعاون سے ایران مخالف ایک محاذ قائم کرنا چاہتا ہے لیکن استقامتی محاذ اس یلغار کے مقابلے میں ڈٹ جائے گا-

تہران میں منعقدہ عالمی وحدت اسلامی کانفرنس میں برجستہ عالمی شخصیات کی بڑے پیمانے پر موجودگی ایران کی پالیسیوں کی حمایت کا ثبوت ہے کہ جس نے استقامت کے محور کے تناظر میں مغربی ایشیا میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی سازشوں کو ناکام بنا دیا ہے- آیت اللہ اراکی کا کہنا ہے کہ ایران میں دنیا بھر کی سیاسی ، مذہبی ، نظریاتی اور ادبی شخصیتوں کی آمد سے پتہ چلتا ہے کہ دنیا میں اسلامی جمہوریہ ایران کی مرکزیت میں حریت پسندی کا محاذ تشکیل پا چکا ہے-

 

 

 

 

 

 

 

 

 

ٹیگس

کمنٹس