Jan ۱۴, ۲۰۲۰ ۱۶:۰۲ Asia/Tehran
  • تہران میں شام کے وزیر اعظم کے مذاکرات، تمام شعبوں میں تعلقات کے فروغ پر تاکید

ایران اور شام کے حکام نے تہران میں ایک اجلاس میں، دوطرفہ تعلقات اور علاقے کی تبدیلیوں سے متعلق تبادلۂ خیال کیا۔

 پیر کے روز شام کے وزیر اعظم عماد خمیس اور ایران کے نائب صدر اسحاق جہانگیری کے درمیان ہونے والے اجلاس میں علاقے خاص طور پر شام  سے امریکی فوجیوں کے انخلا کا مسئلہ، مذاکرات کا اہم ترین محور تھا- ایران اور شام کے وفود کے درمیان مذاکرات میں، ایران کے نائب صدر اور شام کے وزیر اعظم کے علاوہ ایران کے وزیر دفاع جنرل حاتمی ، ایران کے ٹرانسپورٹ اور ہاؤسنگ کے وزیر محمد اسلامی ، شام کے وزیر خارجہ ولید معلم اور اس ملک کے وزیر دفاع علی عبداللہ ایوب بھی موجود تھے- امریکہ ہٹ دھرمی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے ذریعے، مغربی ایشیا کو بدامنی کی سمت دھکیل رہا ہے- اور یہ وہ اہم مسئلہ ہے کہ جس  پر اتوار کو ایران اور قطر کے امیر نیز پاکستانی وزیر خارجہ کے ساتھ ملاقات میں بھی تاکید کی گئی -

رہبر انقلاب اسلامی آیۃ اللہ العظمی خامنہ ای نے اتوار کو قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی اور ان کے ہمراہ وفد سے ملاقات میں فرمایا کہ علاقے کے نامناسب حالات کی وجہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کی شرانگیزی ہے -آپ نے  فرمایا کہ خطے کی موجودہ صورتحال علاقے کے ملکوں کے درمیان پہلے سے بھی زیادہ باہمی تعلقات کی تقویت کی متقاضی ہے اور ضرورت اس بات کی ہے کہ اغیار کے پروپیگنڈوں سے متاثر نہ ہوا جائے ۔

ایران کے صدر حسن روحانی نے بھی پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ساتھ ملاقات میں علاقے کی حساس صورتحال کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں ہم سب کو علاقے میں پائی جانے والی کشیدگی کو کم کرنے اور امن و استحکام کیلئے کوشش کرنی چاہئیے-حسن روحانی نے علاقے میں جنگ اور کشیدگی کو علاقے کیلئے خطرناک قرار دیتے ہوئے ہوئے کہا کہ ایران علاقے میں جنگ کے درپے نہیں ہے  تاہم اپنے مفادات کا دفاع کرتا رہے گا۔

امریکہ کی پالیسی اس کے برخلاف ہے اور ٹرمپ نے تیزی کے ساتھ مغربی ایشیا کے علاقے کو بدامنی اور عدم استحکام سے دوچار کردیا ہے- واضح رہے کہ امریکہ نے تین جنوری کو ایک دہشت گردانہ اور بہیمانہ حملے میں ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی قدس بریگیڈ کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کو جو عراق کی سرکاری دعوت پر اس ملک گئے تھے، شہید کردیا تھا اس حملے میں ان کے ہمراہ عراق کی عوامی رضا کار فورس الحشدالشعبی کے ڈپٹی کمانڈر ابومہدی المہندس اور آٹھ یگر افراد بھی بغداد ایئرپورٹ پر شہیدکردیئے گئے تھے- ایران نے اس دہشت گردانہ کاروائی کے جواب میں، عراق میں واقع امریکہ کے عین الاسد فوجی اڈے کو جو امریکیوں کا سب سے بڑا اور اہم ترین اڈہ ہے، متعدد میزائلوں سے نشانہ بنایا- ایران کا یہ پہلا قدم تھا کہ جو علاقے میں امریکہ کی فوجی موجودگی کا خاتمہ کرنے کے لئے اٹھایا گیا- 

ایران کے وزیر دفاع جنرل امیر حاتمی نے بھی شام کے وزیر دفاع علی عبداللہ ایوب کے ساتھ ملاقات میں اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ علاقے میں امریکی فوجیوں سے مقابلہ ایک دائمی اور پائیدار عمل میں تبدیل ہوجانا چاہئے کہا کہ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی قدس بریگیڈ کے کمانڈر قاسم سلیمانی کو شہید کرکے ، اور اپنی غلط پالیسیوں کے باعث آج خطے میں امریکہ کو اپنی موجودگی برقرار رکھنے کے لئے بھاری اخراجات برداشت کرنا پڑ رہے ہیں- 

مغربی ایشیا میں گذشتہ چند برسوں کے دوران رونما ہونے والے واقعات کے تسلسل سے اس امر کی نشاندہی ہوتی ہے کہ مغربی ملکوں خاص طور پر امریکہ کی بے جا مداخلتوں کے نتیجے میں علاقے میں بدامنی و عدم استحکام کی صورتحال پیدا ہوئی ہے- لیکن یہ عدم استحکام پائیدار نہیں رہے گا- عراق سے امریکی فوجیوں کے انخلا کے تعلق سے اس ملک کی پارلیمنٹ میں بل کی منظوری ، اس سلسلے میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے-

ایران اور شام نے ٹھوس اور پائیدار مزاحمت کے ذریعے یہ ثابت کردکھایا ہے کہ دشمن کے ناپاک عزائم کے مقابلے میں استقامت کی جا سکتی ہے اور قوموں کی تقدیر بدلی جا سکتی ہے- امریکہ کی حمایت یافتہ دہشت گردی اور صیہونزم کے متحدہ محاذ کے خلاف عراق، شام اور لبنان کو حاصل ہونے والی کامیابیوں نے، مزاحمت کے محاذ کو مزید مضبوط کردیا ہے- اسلامی جمہوریہ ایران ہمیشہ سے ، شام میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اس ملک کے عوام اور حکومت کے شانہ بشانہ کھڑا رہا ہے اور اس سلسلے میں کسی مدد سے دریغ نہیں کیا ہے اور شام کی تعمیرنو کے عمل میں بھی ماضی کی طرح شامی عوام اور حکومت کے ساتھ ہوگا-

رہبر انقلاب اسلامی آیۃ اللہ العظمی خامنہ ای نے تہران میں ، شام کے صدر بشار اسد کے ساتھ گذشتہ سال ملاقات میں اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ اسلامی جمہوریہ ایران شام کے بحران کے شروع ہونے کے وقت سے ہی دل و جان کے ساتھ شام کی حکومت اور عوام کے شانہ بشانہ کھڑا ہے فرمایا کہ شام نے اپنے عوام کی مزاحمت و استقامت کے ساتھ امریکہ، یورپ اور ان کے اتحادیوں کو شکست دی۔ آپ نے فرمایا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، شامی حکومت اور قوم کی مدد و حمایت کو مزاحمتی فرنٹ کی مدد و حمایت سمجھتا اور دل کی گہرائیوں سے اس پر فخر کرتا ہے-    

 

 

   

ٹیگس

کمنٹس