Oct ۲۹, ۲۰۲۰ ۱۳:۵۸ Asia/Tehran
  • ہندوستان میں مسلمانوں کی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ شروع

قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے ہندوستان اور اس ملک کے زیر انتظام کشمیر میں چھاپوں کا سلسلہ مسلسل دوسرے دن بھی جاری رکھتے ہوئے آج جمعرات کی صبح نو الگ الگ مقامات پر چھاپے مارے۔

ہندوستانی میڈیا کے مطابق دہلی پولیس کی اسپیشل سیل نے آج جمعرات (30 اپریل) کو دہلی اقلیتی کمیشن کے سابق چئیرمین ظفر الاسلام خان کے گھر پر چھاپہ مارا۔  ظفر الاسلام  پرالزام ہے کہ انہوں نے 28 اپریل کو اپنے سوشل میڈیا پوسٹ میں مبینہ طور پر اشتعال انگیز بیان دیا تھا۔

اسپیشل سیل کے جوائنٹ کمشنر نیرج ٹھاکر کا کہنا ہے کہ تعزیرات ہند کی دفعہ 124 اے (غداری) اور 153 اے ( مذہب، ذات، زبان وغیرہ کی بنیاد پر دو گروہوں میں عدم اتفاقی کو فروغ دینا اور ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کے ارادے سے کام کرنے) کے تحت ظفر الاسلام کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

شکایت میں مبینہ طور پر الزام لگایا گیا تھا کہ 28 اپریل کو دہلی اقلیتی کمیشن کے چئیرمین ظفر الاسلام خان نے ٹوئٹر اور فیس بک پر ایک پوسٹ کیا ہے جو کہ اشتعال انگیز ہے اور اس کا مقصد ہم آہنگی کو بگاڑنا اور سماج میں بھید بھاو پیدا کرنا ہے۔

ظفر الاسلام خان نے 28 اپریل کو سوشل میڈیا پر کہا تھا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کو دبایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر ہندوستانی مسلمانوں نے ہندوستان میں مذہب کے نام پر ہو رہی مبینہ زیادتی کے خلاف عرب اور مسلم ملکوں سے شکایت کر دی تو کٹر لوگوں کو زلزلے کا سامنا کرنا ہو گا۔ حالانکہ، ظفر الاسلام خان نے 28 اپریل کو دئیے اپنے بیان کو لے کر معافی مانگتے ہوئے کہا تھا کہ میرا ارادہ غلط نہیں تھا۔

پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کی طرف سے چھاپوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ این آئی اے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی 'پالتو ایجنسی' بن کر اختلاف رائے رکھنے والوں کو ڈرا دھمکا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکومت ہند کی طرف سے آزادی اظہار و اختلاف رائے کا گلہ دبانے کی ایک اور مثال ہے۔

قابل ذکر ہے کہ این آئی اے نے بدھ کے روز سری نگر میں معروف حقوق انسانی کارکن خرم پرویز کی سونہ وارعلاقے میں واقع رہائش گاہ اور انگریزی روزنامے گریٹر کشمیر کے سری نگر کی پریس کالونی میں واقع دفتر کے علاوہ چند صحافیوں کی رہائش گاہوں اور کم از کم تین غیر سرکاری تنظمیوں کے دفاتر پر بھی چھاپہ مار کارروائی کی تھی اور دہلی میں بھی ظفرالاسلام کے گھر پر چھاپہ مارا تھا۔

ایسے حالات میں حکومت ہند مسلمانوں کو اختلافات بھڑکانے کے الزام میں گرفتار کر رہی ہے کہ متعدد انتہا پسند ہندو رہنما آئے دن علی الاعلان مسلمانوں کے خلاف زہر اگلتے ہوئے اور انہیں دھکیاں دیتے ہوئے نظر آتے ہیں، مگر تاحال انکے خلاف کوئی موثر کاروائی نہیں کی گئی ہے۔

ٹیگس

کمنٹس