Jan ۱۴, ۲۰۲۰ ۱۴:۳۷ Asia/Tehran
  • برطانوی عہدیداروں کے بیانات پر ایران کا شدید ردعمل

ایران کی وزارت خارجہ نے تہران میں برطانوی سفیر کی غیر قانونی اور غیر پیشہ ورانہ سرگرمیوں، خالص قومی نوعیت کے اجتماع میں ان کی مشکوک شرکت نیز بعض برطانوی عہدیداروں کے بے جا بیانات کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

وزارت خارجہ کے جاری کردہ بیان میں ایک بار پھر برطانوی وزیراعظم، وزیر خارجہ اور وزیر دفاع کے ایسے ناقابل قبول بیانات کی بھی مذمت کی گئی ہے جو انہوں نے عراق میں سپاہ قدس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی اور ان کے مجاہد ساتھیوں پر امریکی ریاستی دہشت گردی کی حمایت میں دیئے ہیں۔

ایران کی وزارت خارجہ کے بیان میں یہ بات زور دے کر کہی گئی ہے کہ تہران میں خالص قومی نوعیت کے ایک اجتماع میں برطانوی سفیر کی مشکوک شرکت ایران کے اندرونی معاملات میں کھلی مداخلت اور سفارتی آداب کے منافی ہے۔اس بیان میں ایران کے خلاف مزید پابندیاں عائد کرنے سے متعلق برطانوی وزیر خارجہ کی تازہ دھمکی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ بات پوری طرح واضح ہے کہ حکومت برطانیہ خطرناک قسم کے غلط اندازوں اور تخمینوں کی بنیاد پر ایران کے حوالے سے خام خیالی میں مبتلا ہے اور خطے نیز ایران کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی کو بڑھاوا دینے کی کوشش کر رہی ہے۔

ایران کی وزارت خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ برطانیہ کے کرتادھرتاؤں کو اچھی طرح ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ ایران کے خلاف الزام تراشیوں کے ذریعے، ٹرمپ انتظامیہ کی اندھی پیروی، ایٹمی معاہدے کے حوالے سے اپنے وعدوں کی تکمیل میں ذلت آمیز ناکامی حتی برطانوی عدالت کے واضح حکم کے باوجود، محض امریکہ کے خوف سے، ایرانی عوام کے سیکڑوں ملین پونڈ کے اثاثے واپس کرنے سے گریز جیسے معاملات کو نہیں چھپا سکتی۔

 

ایران کی وزارت خارجہ کے بیان میں مغربی ایشیا میں برطانیہ کے سامراجی ماضی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے مزید کہا گیا ہے کہ دیگر ملکوں کے اندرونی معاملات میں برطانوی سفیروں کی مداخلت اور تفرقہ پھیلانے اور داخلی تنازعات کو ہوا دینے کا دور برسوں پہلے لد چکا ہے لہذا حکومت برطانیہ کو ایسے ذلت آمیز اقدامات سے باز رہنا چاہیے۔ایران کی وزارت خارجہ نے تہران میں برطانوی سفارت خانے کی جانب سے ہر قسم کے مداخلت پسندانہ اور اشتعال انگیز اقدامات کا سلسلہ فی الفور بند کیے جانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ آئندہ ایسے اقدامات کی تکرار کی صورت میں صرف برطانوی سفیر کو طلب کرنے پر اکتفا نہیں کیا جائے گا۔

قابل ذکر ہے کہ تہران میں متعین برطانوی سفیر راب مک ایئر کو ہفتے کی شب تہران کی امیر کبیر یونیورسٹی کے سامنے جمع ہونے والے لوگوں کو اشتعال دلانے اور مشکوک اقدامات پر اکسانے کے سبب حراست میں لیا گیا تھا تاہم سفارتی تحفظ حاصل ہونے کے باعث تھوڑی دیر بعد رہا کردیا گیا۔

ٹیگس

کمنٹس