• یمن: رہائشی علاقوں پر سعودی حملے،دسیوں جاں بحق اور زخمی

یمن پر سعودی فوج کے جارحانہ حملے میں دسیوں بے گناہ شہری جاں بحق ہو‏ئے ہیں جبکہ یمنی فوج کی جوابی کاروائی میں بھی سعودی فوجیوں کی ہلاکت کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔

سعودی عرب کے جنگی طیاروں نے صوبہ صنعا کے ایک رہائشی علاقے پر حملہ کر کے کم سے کم تیس عام شہریوں کو قتل کر دیا ہے۔
العالم ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے اس جارحانہ حملے میں جو بدھ کو صنعا کے ارحب نامی علاقے میں انجام پایا ہے دسیوں افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
کہا جا رہا ہے کہ اس رہائشی علاقے میں کم سے کم ستر افراد موجود تھے۔
امدادی کارکنوں کو ملبے سے اب تک تیس لاشیں مل چکی ہیں۔
سعودی جنگی طیاروں نے صوبہ صعدہ کے بنی صیاح علاقے میں ایک گھر پر حملہ کر کے ایک خاتون اور دو بچوں کو جاں بحق کر دیا ہے۔
اس حملے میں ایک مکان پوری طرح تباہ ہوگیا ہے جبکہ دوسرے مکانات کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
دوسری طرف اطلاعات ہیں کہ یمنی فوج نے سعودی اتحادی فوجیوں کے حملے کا جواب دیتے ہوئے صوبہ حجہ میں دسیوں سعودی اتحادی فوجیوں کو ہلاک اور زخمی کر دیا ہے۔
لبنان کی العھد ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق یمن کی فوج اور رضاکار فورس نے جنوبی سعودی عرب کے سرحدی علاقوں پر حملہ کر کے بڑی تعداد میں دشمن کا جنگی ساز و سامان اپنے کنٹرول میں لے لیا۔
اس کے ساتھ ہی یمن کی عوامی رضاکار فورس کے جوانوں نے سعودی حملوں کے جواب میں صنعا کے نہم علاقے میں سعودی اتحادی فوجیوں کے ٹھکانے کو میزائلی حملے کا نشانہ بنایا۔
یمنی فوج نے صوبہ عسیر کی علب گذرگاہ کے اطراف میں یمن کے مستعفی و مفرور صدر منصور ہادی کے ایجنٹوں اور سعودی عرب کے اتحادی فوجیوں کے ٹھکانے پر میزائل داغے۔
دوسری طرف یمن کی عوامی کمیٹیوں نے منگل کو ایک بیان میں سابق صدر علی عبداللہ صالح کے حالیہ بیان کو پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف قرار دیا۔
ہمارے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق عوامی کمیٹیوں کے بیان میں آیا ہے کہ علی عبداللہ صالح نے رضاکار فورس کو چھاپہ مار اور جنگجو قرار دے کر ان کے ساتھ دھوکا کیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ عوامی رضاکار فورس ہی ہے جو جارحین کے مقابلے میں فوج کے شانہ بشانہ لڑ رہی ہے۔
اس بیان میں تاکید کی گئی ہے کہ علی عبداللہ صالح نے یہ بیان دے کر ریڈلائن عبور کی ہے اور انھیں اپنے اس بیان کی ذمہ داری قبول کرنا پڑے گی۔
یمن کی عوامی کمیٹیوں نے کہا کہ اندرون اور بیرون ملک منافقین کے ساتھ دشمن کا اتحاد شکست سے دوچار ہو کر رہےگا۔
قابل ذکر ہے کہ یمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح اور تحریک انصاراللہ نے پیر کو کشیدگی سے دور رہتے ہوئے اپنے اختلافات کو حل کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

Aug ۲۳, ۲۰۱۷ ۱۱:۲۴ UTC
کمنٹس