Feb ۱۴, ۲۰۲۰ ۱۰:۰۹ Asia/Tehran
  • شامی فوج کی پیشرفت سے اردوغان کے دل کی دھڑکنیں کیوں تیز ہونے لگیں؟ (پہلا حصہ)

شام کی فوج کی جاری مسلسل پیشرفت اور متعدد محاذوں پر شامی فوج کی کامیابیوں پر لندن سے شائع ہونے والے عربی اخبار رای الیوم نے بڑا دلچسپ مقالہ شائع کیا ہے۔ شامی فوجی دستے بہت تیزی کے ساتھ ادلب کے اطراف کے علاقوں کو آزاد کراتے ہوئے ادلب کی جانب پیشقدمی کر رہے ہیں۔

رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ شامی فوج نے حلب کے مغربی مضافات میں شیخ علی، عرادہ، اور ارناز نامی تین اہم دیہی علاقوں کو پوری طرح اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے۔ یہ تینوں اہم دیہی علاقے حلب دمشق ہائی وے پر واقع ہیں۔ یاد رہے کہ شام کی فوج نے حلب دمشق اہم ہائی وے کو بدھ کے روز پوری طرح دہشت گردوں سے پاک کردیا تھا۔

شامی افواج نے حلب کے جنوب مغربی مضافات میں بھی اپنی پیشقدمی جاری رکھی ہے۔اس دوران شام کی افواج نے کفر حلب اور میزناز نامی علاقوں کے قریب تکفیری دہشت گرد گروہ جبہت النصرہ کے حملوں کو پسپا کردیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ شام کی افواج نے ادلب میں موجود دہشت گرد گروہوں کی جانب سے فائر بندی کی مسلسل خلاف ورزی کئے جانے پر اس علاقے کو آزاد کرانے کے لئے اپنی کارروائیوں کا آغاز کردیا ہے۔

جیسے جیسے شامی فوج ملک میں دہشت گردوں کے آخری مضبوط ٹھکانے ادلب میں پیشرفت کر رہی ہے، ترک صدر رجب طیب اردوغان کے دل کی دھڑکنیں تیز ہو رہی ہیں۔

گزشتہ منگل کے روز دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں شامی فوج کو اس وقت اہم کامیابی حاصل ہوئی، جب شامی فوجیوں نے شہر ادلب کے جنوب میں واقع ایک اسٹراٹیجک طور پر اہم قصبے پر قبضہ کر لیا ۔  

شام کے شمال مشرق صوبے میں فوجی آپریشن کو لے کر جمعے کو ترک صدر نے سخت دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ شام میں ہم ہاتھ پر ہاتھ رکھے نہيں بیھٹے رہیں گے، فوجی طاقت کے استعمال سمیت ہم کوئی بھی ضروری اقدام کرنے سے پرہیز نہیں کریں گے۔  

بحران شام کے حوالے سے اردوغان ہمیشہ یہ دعوی کرتے رہے ہیں کہ وہ شخصی طور پر روسی صدر ولادیمیر پوتین پر اعتماد رکھتے ہیں، جس سے کسی بھی مسئلے کے حل میں مدد ملے گی ۔

لیکن گزشتہ بدھ کو ترک صدر کا لہجہ اچانک بدل گیا اور انہوں نے نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ روس نہ تو آستانہ اور نہ ہی سوچی معاہدے پر کاربند ہے۔

بشکریہ

رای الیوم

عبد الباری عطوان

* سحر عالمی نیٹ ورک کا مقالہ نگار کے موقف سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے*

ٹیگس

کمنٹس