امریکہ نے پاکستان کو دی جانے والی امداد جاری رکھنے کے لئے سخت شرائط عائد کر دی ہیں۔

امریکی ایوان نمائندگان نے مالی سال دوہزار اٹھارہ کے لئے چھہ سو اکیس اعشاریہ پانچ ارب ڈالر کا دفاعی پالیسی بل منظور کیا ہے جس میں پاکستان کو دی جانے والی امداد کے لئے سخت شرائط عائد کر دیئے ہیں۔
پاکستان کو امداد کے حصول کے لیے اپنے ہاں موجود نیٹو سپلائی راستوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہوگا، انسداد دہشت گردی آپریشن میں مدد کے لیے واضح اقدامات کرنے ہوں گے، سرحد پار سے ہونے والے حملوں کو روکنا ہوگا اور بارودی سرنگوں کے خطرے سے نمٹنے کے لیے مناسب کارروائی کرنا ہوگی۔
واضح رہے کہ دفاعی بل مالی سال دوہزاراٹھارہ میں دفاعی اخراجات پرچھے سو چھیانوے ارب ڈالر تک استعمال کی اجازت دیتا ہے، جبکہ اس میں پینٹاگون کے اہم ترین آپریشنوں کے لیے امریکی صدر کی درخواست پر تقریباً تیس ارب ڈالر زائد رقم مختص کی گئی ہے۔
رواں ہفتے کے آغاز میں بل کے جاری ہونے والے متن کے مطابق، دفاعی پالیسی بل میں پاکستان کے لیے امریکی امداد کو اسلام آباد کی جانب سے حقانی نیٹ ورک اور جنوبی ایشیا میں موجود دیگر دہشت گرد گروہوں کی مبینہ مدد کو روکنے سے مشروط کرنے کی دفعات بھی شامل ہیں۔
دفاعی پالیسی بل اب سینیٹ میں پیش کیا جائے گا جہاں سے منظوری کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس کی حتمی منظوری دیں گے جس کے بعد یہ قانون بن جائےگا۔

Jul ۱۵, ۲۰۱۷ ۱۶:۱۷ UTC
کمنٹس