• ماه رمضان،  بہار قرآن

قرآن مجید کے اٹھائیسویں پارے کا مختصر تعارف

بسم الله الرحمن الرحیم

اٹھائیسواں پارہ

اس پارے میں 9 سوره ہیں:

(1) سورہ مجادلہ:

خولہ بنت ثعلبہ کے شوہر نے ان سے "ظہار" کر لیا۔ جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ "عورت اپنے شوہر کے لئے حرام ہوگئی"، خولہ پریشان ہوئی کہ اب کیا ہو گا چنانچہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ و آله و سلم) کے پاس آئ اور اپنی فریاد پیش کی اور بار بار پیش کی ہر بار آپ صلی اللہ علیہ و آله و سلم یہی فرماتے رہے کہ تو اپنے شوہر کے لئے حرام ہوگئی۔ آخر اس عورت نے اپنا ہاتھ رب کی طرف اٹھا دیا تو رب نے فوراً لبیک کہا اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ و آله و سلم) پر یہ سورہ نازل کی جس میں "ظہار کے کفارہ" کا بیان ہے؛

 یا تو ایک غلام آزاد کیا جائے،

یا مسلسل دو ماہ کے روزے،

یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلایا جائے۔

(2) سورہ حشر:

1- بنونضیر قبیلے نے جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ و آله) کو دھوکے سے قتل کرنا چاہا تو آپ نےان پر چڑھائی کی، کئی دنوں کے محاصرے کے بعد وہ لوگ وہاں سے نکلنے پر تیار ہوئے چنانچہ انہیں جلاوطن کیا گیا اور یہ پہلی جلاوطنی تھی جو خیبر کی جانب ہوئی پھر خلیفه دوم کے دور میں ملک شام کی طرف نکال دیا گیا۔

2- ایک صحابی رسول (صلی اللہ علیہ و آله) کے مہمان، رسول کی ضیافت کا بیان، اور میزبان کی تعریف ہے۔

3- الله تعالى کے بعض صفات کا بیان ہے۔

(3) سورہ ممتحنہ:

اس سوره میں کئی باتیں ہیں:

1- مسلمانوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ وہ اسلام کے دشمنوں سے دوستی نہ کریں، کیونکہ ان سے اسلام کو ہمیشہ تکلیف ہی پہنچی ہے۔

2- جب عورتیں ہجرت کر کے مدینہ منورہ آنے لگیں تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ و آله وسلم) کو حکم دیا گیا کہ ان سے اس بات پر بیعت لیں کہ وہ شرک نہیں کریں گی، چوری نہیں کریں گی، زنا نہیں کریں گی؟ اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گی، اور بہتان تراشی نہیں کریں گی۔

(4) سورہ صف:

1- جس چیز کی نصیحت کی جائے اس پر پہلے عمل کیا جائے، ورنہ داعی مجرم ہوگا۔

2- جہاد کرنے والے اللہ کی نگاہ میں محبوب ہیں۔

3- کوئی کتنی ہی طاقت صرف کردے لیکن نور الہی (یعنی اسلام، ایمان، ولایت) مٹا نہیں سکتا ہے۔

(5) سورہ جمعہ:

1- جمعہ کی فضیلت اور اس کے بعض آداب کا بیان ہے۔

ایک مرتبہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آله وسلم خطبہ دے رہے تھے، مال تجارت آیا لوگ آپ کو قیام کی حالت میں چهوڑ کر چلے گئے جس پر سورہ نازل ہوا۔

2- بے عمل دانشوروں کا بیان کہ وہ مثل گدھے کے مانند ہیں جس پر بوجھ لدا ہوا ہے لیکن اسے یہ نہیں معلوم کہ یہ بوجھ کس چیز کا ہے۔

(6) سورہ منافقون:

اس بات کا بیان ہے کہ منافقین رسالت کی گواہی دینے میں جهوٹے ہیں، نیز نبی اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) اور مسلمانوں کو ان کی چالبازیوں سے ہشیار رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔

نیز غزوہ احد کے موقع پر رئیس المنافقين (عبداللہ بن ابی) نے یہ کہا تھا کہ مدینہ میں ہم رہیں گے نبی اور مسلمان نہیں، عزت والے ہم ہیں نبی اور مسلمان نہیں چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب اس سورت میں دیا ہے

2- مومنوں کو اس بات کی تنبیہ کی گئی ہے کہ کہیں یہ مال اور اولاد تمہاری بربادی کا ذریعہ نہ بن جائیں۔

(7) سورہ تغابن:

1-قیامت کے دن، وہ لوگ جو جہنم میں چلے گئے ان کا بھی گهر جنت میں بنایا گیا ہے، اب ان کے جہنم میں جانے کی وجہ سے جنت والا گهر خالی رہے گا تو جنتی اس پر قبضہ جما لیں گے، اسی وجہ سے اس دن کا ایک نام یوم التغابن بهى پڑ گیا۔

2- مومنوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ تمہاری بیویوں اور اولاد میں سے بعض تمہارے دشمن ہیں، تمہیں ان سے چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔

(8) سورہ طلاق:

1- طلاق کے بعض مسائل کا بیان۔

2- مختلف قسم کی عورتوں کی عدت کا بیان کہ:

(الف) نابالغہ اور آئسہ کی عدت تین ماہ،

(ب) حمل والیوں کی عدت وضع حمل  وغیرہ ۔

3- متقیوں کو پریشانی سے نجات ملے گی، بے حساب رزق ملے گا، ان کے معاملات آسان ہونگے، ان کے گناہ مٹائے جائیں گے، اور اجرعظیم ملے گا۔

(9) سورہ تحریم:

 دو جہنمی عورتوں" کا بیان ہے اور یہ دونوں نبی کی عورتیں ہیں: (یعنی حضرت نوح اور حضرت لوط علیہما السلام)، اور ان کا "کافروں کے لئے بطور مثال" ہے۔

اور "مومنین کے لئے دو عورتوں کی مثال" بیان کی گئی ہے:

ایک فرعون کی بیوی جناب آسیہ(س)، اور دوسری جناب عمران علیہ السلام کی بیٹی جناب مریم (سلام اللہ علیہا)۔

 

Jun ۱۳, ۲۰۱۸ ۱۱:۵۸ Asia/Tehran
کمنٹس