Jun ۰۵, ۲۰۱۹ ۰۱:۰۰ Asia/Tehran
  • آیت کا پیغام (30) : پتنگ

وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَىٰ (سورہ نازعات۔ آیت 40-41 )

بچوں کو آپ نے دیکھا ہوگا کہ جب وہ پتنگ اڑانا چاہتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ ہوا کس رخ پر چل رہی ہے۔پھر وہ پتنگ کو لے کر اسکی مخالف سمت میں دوڑنا شروع کرتے ہیں اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ پتنگ اڑان بھر لیتی ہے۔پتنگ کے اڑتے رہنے کا راز ہی یہی ہے کہ ایک ڈوری کے ذریعہ ہوا کی مخالف سمت میں اسے روک کر رکھا جاتا ہے۔ اگر اس ڈوری کو ہاتھ سے چھوڑ کر پتنگ کو ہوا کے رخ پر آزاد چھوڑ دیا جائے تو پتنگ بہت دور تک چلی تو جائے گی مگر کہیں نہ کہیں جاکر ہوا اسے زمین پر دے مارے گی۔
انسانی خواہشات کی مثال کچھ ایسی ہی ہے۔اگر انسان پرواز کرنا چاہتا ہے،اگر انسان بلندیاں چھونا چاہتا ہے اگر وہ کمالات کی معراج تک پہونچنے کا خواہشمند ہے تو اسے اپنے نفس کی ڈور اپنی عقل کے ہاتھ میں دے کر خواہشات کا مقابلہ کرنا ہوگا۔وہ اڑان بھر کے بلندیاں تبھی چھو سکتا ہے جب وہ ہوا و ہوس اور خواہشات کی مخالف سمت میں حرکت کرے۔
جنت کوئی پست اور حقیر نقطے پر واقع کسی جگہ کا نام نہیں ہے، جنت کا مقام بہت بلند ہے،وہاں تک پہونچنے کے لئے پرواز کرنے کی ضرورت ہے اور پرواز ہوا و ہوس کا مقابلہ کئے بغیر ناممکن ہے!
ارشاد ہوتا ہے:
وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَىٰ (سورہ نازعات۔ آیت 40-41 )
اور جو شخص اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضری سے ڈرتا رہا ہوگا اور جس نے (اپنے) نفس کو (اس کی) خواہش سے روکا ہوگا تو اس کا ٹھکانہ جنت ہے۔

 

تحریر:استاد محمد رضا رنجبر
ترجمہ و ترتیب:سید باقر کاظمی
 

ٹیگس

کمنٹس