Jun ۱۶, ۲۰۲۰ ۱۷:۰۲ Asia/Tehran
  • فرمان فرزندرسول حضرت امام صادق علیہ السلام

۲۵ شوال سنہ ۱۴۸ ہجری کو آسمان امامت و ولایت کے چھٹے اختر تابناک فرزند رسول حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی شہادت واقع ہوئی۔ سحرعالمی نیٹ ورک کی جانب سے ہم اپنے تمام ناظرین ، سامعین اورقارئین کرام کی خدمت میں تعزیت و تسلیت پیش کرتے ہیں۔

فرزند رسول حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے جند مختصر اقوال ملاحظہ فرمائیں! 

 

قال الصادقُ علیہ السلام :

لَا تَغْتَرُّوا بِصَلَاتِهِمْ وَ لَا بِصِيَامِهِمْ فَإِنَّ الرَّجُلَ رُبَّمَا لَهِجَ بِالصَّلَاةِ وَ الصَّوْمِ حَتَّى لَوْ تَرَكَهُ اسْتَوْحَشَ وَ لَكِنِ اخْتَبِرُوهُمْ عِنْدَ صِدْقِ الْحَدِيثِ وَ أَدَاءِ الْأَمَانَةِ.

لوگوں کے نماز روزوں سے دھوکہ مت کھاؤ،کیوں کہ کبھی کبھی انسان نماز روزوں کا اس قدر عادی ہو جاتا ہے کہ اگر کبھی اس سے چھوٹ جائیں تو اسے وحشت ہونے لگتی ہے۔لوگوں کو قول کی صداقت اور امانت کی ادائگی کے ذریعہ آزماؤ۔

(اصول كافى (ط-الاسلامیه) ج2، ص104، ح2)

 

تصافحوا فإنها تذهب بالسخيمة .

ایک دوسرے سے مصافحہ کیا کرو، کیوں کہ یہ دشمنی و کینے کو ختم کر دیتا ہے۔

(اصول كافي ، ج 3 ، ص 264)

 

شِيعتُنا الرُّحَماءُ بَينَهُم ، أَلذِين اِذا خَلَوا ذَكَرُوا اللهَ .

ہمارے چاہنے والے ایک دوسرے کے ساتھ مہربان ہیں اور جب تنہا ہوتے ہیں تو خدا کو یاد رکھتے ہیں (اور اس سے غافل نہیں ہوتے)۔

(اصول كافي ، ج 3 ، ص 268)

 

مثل الدنيا كمثل ماء البحر كلما شرب منه العطشان ازداد عطشا حتي يقتله .

دنیا کی مثال سمندر کے (کھارے) پانی کی طرح ہے،جس قدر پیاسہ اسے پیتا ہے اس قدر اسکی پیاس بڑھتی جاتی ہے اور آخر کار وہ اسے موت کے منھ میں پہونچا دیتا ہے۔

(اصول كافي ، ج 3 ، ص 205)

 

لو يعلم المؤمن ما له من الأجر في المصائب لتمني أنه قرض بالمقاريض .

اگر مومن کو معلوم ہوتا کہ اس پر آنے والی مصیبتوں کا اسے کیا اجر ملے گا،تو وہ آرزو کرتا کہ کاش وہ کھینچی سے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے۔

(اصول كافي ، ج 3 ، ص 354)

ان گناہوں سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں جو میری جلد تباہی کا سبب بنتے ہیں، موت کو نزدیک کرتے ہیں اور شہروں کو لوگوں سے خالی کر دیتے ہيں۔ ان گناہوں سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں جن کے سبب صلح رحم ختم ہو جائے، والدین کو دکھ پہنچے اور ان کے ساتھ نیکی کے ترک ہونے کا سبب بنے۔

غلط اندازہ لگانا اس چيز کی بنا پر جو اپنے ذہن میں سوچتے ہو، اگر آسان سمجھوگے تو آسان ہے اور اگر سخت سمجھوگے تو سخت ہے اور اگر نظر انداز کروگے تو کچھ نہیں ہوگا۔

ہمارے دوستوں میں اس کی کوئی اہمیت نہيں ہے جو دین میں غور و فکر نہ کرتا ہو۔

اگر ہمارا کوئی پیروکار دین میں غور و فکر نہ کرے اور احکام شرعی سے آگاہ نہ ہو تو وہ ہمارے مخالفین کا محتاج ہوگا اور جب وہ ان کا محتاج ہوگا تو وہ اسے گمراہی کی جانب لے جائیں گے جبکہ اسے پتا بھی نہیں چلے گا۔

جو کوئی بھی کھانا کھانے سے پہلے اور بعد میں ہاتھ دھوتا ہے تو کھانے کے شروع اور بعد میں اس کے لئے برکت ہوتی ہے اور جب تک زندہ رہتا ہے غنی زندگی بسر کرتا ہے اور جسمانی بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے۔

اللہ کی خوشنودی پر خوش رہنے سے خوشی حاصل ہوتی ہے-

ایک دوسرے سے وابستہ ہو جاو، ایک دوسرے سے محبت کرو اور ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور خضوع سے پیش آؤ۔

فرزند رسول حضرت امام جعفرصادق (ع) جمعہ طلوع فجر کے وقت اور دوسرے قول کے مطابق منگل 17 ربیع الاول سن 80 ھ ق کو مدینہ منورہ میں اس دنیا میں تشریف لائے۔

روایات کے مطابق فرزند رسول حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے اپنے والد بزرگوارحضرت امام محمد باقر علیہ السلام کی شہادت کے بعد اکتیس سال کی عمر میں ایک سو چودہ ہجری قمری کو عوام کی ہدایت و رہنمائی کا فریضہ سنبھالا اورمنصب امامت پر فائز ہوئے آپ کا دور امامت چونتیس برس پر محیط ہے۔امام جعفرصادق علیہ السلام نے اسلامی تعلیمات کی ترویج کے لئے بے پناہ کوششیں انجام دیں اور مدینے میں مسجد نبوی اور کوفہ شہر میں مسجد کوفہ کو بڑے تعلیمی مرکز میں تبدیل کر دیا جہاں آپ نے ہزاروں شاگردوں کی تربیت فرمائی اورایک عظیم علمی و فکری تحریک کی بنیاد رکھی۔حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کا زمانہ تاریخ اسلام کا حساس ترین دور کہا جاسکتاہے ۔ اس زمانے میں ایک طرف تو امویوں اور عباسیوں کے درمیان اقتدار کی رسہ کشی جاری تھی اور دوسری علویوں کی بھی مسلح تحریکیں جاری تھیں۔ آپ نے ہمیشہ عوام کو حکمرانوں کی بدعنوانیوں اور غلط حرکتوں نیز غیراخلاقی و اسلامی سرگرمیوں سے آگاہ کیا۔آپ نے عوام کے عقائد و افکار کی اصلاح اور فکری شکوک و شبہات دور کرکے اسلام اور مسلمانوں کی فکری بنیادوں کو مستحکم کرنے کی کوشش کی اور اہل بیت اطہار علیہم السلام کی فقہ و دانش کو فروغ دیا اور اسلامی احکام کی تعلیمات کو دنیا میں اتنا پھیلایا کہ  جعفری مذہب کے نام سے شہرت اختیار کر لی۔ امام جعفر صادق علیہ السلام سے جتنی احادیث راویوں نے نقل کی ہیں اتنی کسی اورامام سے نقل نہیں کیں ۔حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام سے کسب فیض کرنے والے شاگردوں کی تعداد ہزاروں میں ہے جن میں ہرمکتب فکرسے تعلق رکھنے والے لوگ شامل ہیں۔

ٹیگس

کمنٹس