بغداد میں محاذ استقامت کے شہدا کی چھٹی برسی، اعلیٰ عراقی قیادت کی شرکت
داعش دہشت گرد گروہ کے خلاف جنگ کے فاتح سرداران محاذ استقامت کی شہادت کی چھٹی برسی بغداد میں منعقد ہوئی جس میں عراقی صدر ، وزیراعظم اور مقننہ اور عدلیہ کے سربراہوں نے شرکت کی ۔
سحرنیوز/عالم اسلام: سرداران محاذ استقامت شہید جنرل قاسم سلیمانی اور شہید ابومہدی المہندس کی برسی کے مرکزی پروگرام میں عراقی صدر عبداللطیف رشید ، وزیراعظم محمد شیاع السودانی ، عدلیہ کے سربراہ فائق زیدان ، پارلیمنٹ کے اسپیکر ہیبت الحلبوسی اور عوامی رضاکار فورس کے ادارے الحشدالشعبی کے سربراہ فالح الفیاض بھی موجود تھے
سرداران محاذ استقامت کی چھٹی برسی کے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے الحشدالشعبی کے سربراہ فالح فیاض نے کہا کہ حشدالشعبی اور سیکورٹی فورسز نے وطن کے دفاع اور متوازن سیکورٹی اور بقائے باہمی کے لیے ایک مضبوط لکیر کھینچی اور فاتح کمانڈروں کا قتل ایسی ریاستی دہشت گردی ہے جس کا ارتکاب امریکہ نے کیا۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel
برسی کے پروگرام سے عراقی صدر عبداللطیف رشید نے بھی خطاب کیا۔ انھوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ داعش دہشت گرد گروہ کے خلاف جنگ میں عراقی حکومت اور عوام کے ساتھ سپاہ قدس کے کمانڈر شہید جنرل قاسم سلیمانی کی استقامت و پائیداری کی قدردانی کی اور کہا کہ شہید کمانڈروں نے ملک کے استحکام امن و سیکورٹی اور علاقے کی اپنی مثال آپ ڈیموکریسی کی تقویت کے لئے مستحکم قدم اٹھایا ۔

عراقی وزیراعظم نے اس پروگرام سے اپنے خطاب میں امریکہ کے دہشت گردانہ حملے میں جنرل قاسم سلیمانی اور ابومہدی المہندس کی شہادت کی جانب اشارہ کیا اور کہا کہ بغداد ایئرپورٹ کے وحشیانہ جرائم ، قومی اقتداراعلی اور ایک محفوظ غیرفوجی علاقے کی حاکمیت کی کھلی خلاف ورزی تھے جسے بین الاقوامی قوانین میں ممنوع قرار دیا گیا ہے اور دینی مرجعیت نے بھی اس جرم کو وحشیانہ جرائم سے تعبیر کیا ہے
انھوں نے تاکید کے ساتھ کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کمانڈروں کی موجودگی فیصلہ کن تھی اور اسی نے استقامت کی تقدیر رقم کی ۔
انھوں نے کہا کہ شہید جنرل قاسم سلیمانی نے اپنی زندگی اور جہادی عمر عراق میں شہادت کی حالت میں مکمل کی اور شہید مہدی المہندس بھی محاذ جنگ پر فرنٹ لائن پر تھے۔

السودانی نے مزید کہا کہ فاتح کمانڈروں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے بہت کچھ کہا جا سکتا ہے اور شہید مہدی المہندس کے پاس جو کچھ بھی تھا اسے انھوں نے عراق اور اس کے اقتداراعلی کے لئے قربان کردیا ۔
انھوں نے مزید کہا کہ شہید قاسم سلیمانی کی شرکت اور مدد ایک مسلمہ حقیقت اور اس سے کہیں عظیم ہے کہ اس کا انکار کیا جائے یہاں تک کہ انھوں نے عراق میں جام شہادت نوش کر لیا اور اپنی جان قربان کردی۔عراقی وزیراعظم محمدشیاع السودانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم عراق سے بین الاقوامی اتحاد کے فوجیوں کا انخلاء چاہتے ہیں اور چند دنوں میں صوبہ الانبار کی عین الاسد فوجی چھاؤنی اپنی تحویل میں لے لیں گے۔
السودانی نے انتباہ دیا کہ صیہونی حکومت ، اپنے مذموم عزائم کو عملی جامہ پہنانا چاہتی ہے اور وہ جانتی ہے کہ عراق علاقے میں استحکام کا سنگ بنیاد ہے۔