Sep ۱۴, ۲۰۲۰ ۱۲:۴۸ Asia/Tehran
  • دیکھئے سجاد (ع) کیا فرماتے ہیں!

فرزند رسول امام زین العابدین علیہ السلام کی تاریخ شہادت کے سلسلے میں مختلف روایات پائی جاتی ہیں تاہم سبھی تواریخ محرم میں ذکر ہوئی ہیں۔ بعض روایات کے مطابق ۱۲ محرم، بعض کے مطابق ۱۸ محرم جبکہ بعض روایات کی بنا پر ۲۵ محرم کو آپ کی شہادت واقع ہوئی ہے۔ اسکے علاوہ بعض روایات کے آپ کے سالِ شہادت کو ۹۴ ہجری جبکہ بعض نے ۹۵ ہجری نقل کیا ہے۔ شہادت کے وقت آپ کی عمر مبارک ستاون برس کی تھی۔ اس مناسبت پر آپ کی چند ایک احادیث شریفہ ملاحظہ فرمائیے۔

 

سید الساجدین، زین العابدین 

فرزند رسول امام سجاد علیہ السلام کی احادیث شریفہ

 

عَجَباً کُلّ الْعَجَبِ لِمَنْ عَمِلَ لِدارِ الْفَناءِ وَتَرَکَ دارَ الْبقاء

مجھے تعجب ہے اُس شخص پر جو دارِ فنا کے لئے تو (خوب) عمل کرتا ہے، مگر دارِ بقا کو چھوڑ دیتا ہے۔(بحارالأنوار: ج 73، ص 127، ح 128)

 

نَظَرُ الْمُؤْمِنِ فِى وَجْهِ أخِیهِ الْمُؤْمِنِ لِلْمَوَدَّهِ وَالْمَحَبَّهِ لَهُ عِبادَه

اپنے برادرِ مومن کے چہرے پر محبت و الفت بھری نگاہ ڈالنا عبادت ہے۔ (تحف العقول، ص 204، /بحارالأنوار، ج 78، ص 140، ح 3)

 

إنَّ أفْضَلَ الْجِهادِ عِفَّهُ الْبَطْنِ وَالْفَرْج

با فضیلت ترین جہاد اپنے شکم اور شرمگاہ کی حفاظت ہے۔ (مشکاۃ الأنوار، ص 157، س 20)

 

لَوْ یَعْلَمُ النّاسُ ما فِى طَلَبِ الْعِلْمِ لَطَلَبُوهُ وَ لَوْبِسَفْکِ الْمُهَجِ وَ خَوْضِ اللُّجَجِ

اگر لوگ طلب علم کی فضیلت سے آگاہ ہو جاتے تو پھر وہ اسکی طلب میں خون بہانے اور گہرے سمندروں میں غوطہ لگانے پر بھی تیار ہو جاتے۔ (اصول کافى، ج 1، ص 35، /بحارالأنوار، ج 1، ص 185، ح 109)

 

مَنْ زَوَّجَ لِلّهِ، وَوَصَلَ الرَّحِمَ تَوَّجَهُ اللّهُ بتَاجِ الْمَلَکِ یَوْمَ الْقِیامَهِ

جو شخص خوشنودیٔ خدا کے لئے شادی کرے اور اپنے عزیز رشتہ داروں کے ساتھ ناتہ جوڑے رکھے تو خداوند عالم روز قیامت اُسے تاج ملک سے نوازے گا۔ (مشکاه الأنوار، ص 166)

 

اَلْخَیْرُ کُلُّهُ صِیانَهُ الاْنْسانِ نَفْسَهُ

تمام خیر و سعادت اس بات میں ہے کہ انسان اپنے اوپر قابو رکھے۔ (تحف العقول، ص201، /بحارالأنوار، ج 75، ص 136، ح 3)

 

سادَةُ النّاسِ فی الدُّنْیا الاَسْخِیاء، وَ سادَةُ الناسِ فی الاخِرَةِ الاَتْقیاء

سخی افراد دنیا میں اور تقی (با تقوا) افراد آخرت میں لوگوں کے سید و سردار ہیں۔ (مشکاة الا نوار، ص 232، س 20، /بحارالا نوار، ج 78، ص 50، ح 77)

 

کانَ [رسولُ الله] إذا أوَى إلىَ مَنزِلِهِ، جَزَّءَ دُخُولَهُ ثَلاثَةَ أجزَاءٍ: جُزءاً لِلَّهِ، وَجُزءاً لِأهلِهِ، وَجُزءاً لِنَفسِهِ
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ والہ وسلم ارشار فرماتے ہیں:

اپنے وقت کو تین حصوں میں تقسیم کرو؛ ایک حصہ اپنے پروردگار کے لئے، ایک حصہ اپنے بال بچوں کے لئے اور ایک حصہ خود اپنے لئے۔ (مکارم الأخلاق، ج 1، ص 44)

 

مَا مِن قَطرَةٍ أَحَبُّ إِلَی الله عَزَّوَجَل مِن قَطرَةِ دَمٍ فِی سَبِیلِ الله و قَطرَةِ دَمعَةٍ فِی سَوادِ اللَّیل

خداوند عالم دو قطروں کو خوب پسند کرتا ہے: ایک راہ خدا میں بہنے والا خون کا قطرہ اور ایک شب کی تاریکی میں آنکھوں سے بہنے والے آنسو کا قطرہ۔ (خصائل الصدوق، ص 50)

 

مَن عَمِلَ بما افتَرَضَ اللهُ عَلَیهِ فَهُوَ مِن خَیر النَّاس

جو شخص واجبات خدا پر عمل کرتا ہو، وہ سب سے بہتر و بالاتر شخص ہے۔ (جهاد النفس ح 237)

 

الدُّعاءُ یَدفَعُ البَلاءَ النّازِلَ وَما لَم یَنزِلْ

دعا سے نازل ہو چکی اور نازل ہونے والی، دونوں بلائیں دور ہوتی ہیں۔ (الکافی، ج 2 ، ص 469 ح 5،/میزان الحکمة، ج 2 ، ص 870)

 

الذُّنُوبُ الّتى تُنزِلُ النِّقَمَ عِصیانُ العارِفِ بِالبَغىِ وَ التَطاوُلُ عَلَى النّاسِ وَ الاِستِهزاءُ بهِم وَ السُّخریَّةُ مِنهُم

تین گناہ ہیں جو نزول عذاب کا باعث بنتے ہیں: شعور و آگاہی کے ساتھ کسی پر ستم کرنا، دوسروں کے حقوق پامال کرنا اور دوسروں کا مذاق اڑانا۔ (معانى الاخبار ، ص 270)

 

آیاتُ الْقُرْآنِ خَزائِنُ الْعِلْمِ، کُلَّما فُتِحَتْ خَزانَةٌ، فَیَنْبَغی لَکَ أنْ تَنْظُرَ ما فیها

قرآنی آیات علوم کا خزانہ ہیں، جب کبھی کوئی خزینہ کھولا جائے تو اسے خود اچھی طرح ٹٹولا کرو۔ (مستدرک الوسائل، ج 4، ص 238، ح 3)

 

إیّاکَ وَمُصاحَبَةُ الْفاسِقِ، فَإنّهُ بائِعُکَ بِأَکْلَةٍ أوْ أَقَلّ مِنْ ذلِکَ وَإیّاکَ وَمُصاحَبَةُ الْقاطِعِ لِرَحِمِهِ فَإنّى وَجَدْتُهُ مَلْعُونا فى کِتاب ِاللّهِ

فاسق و فاجر شخص کے ساتھ دوستی کرنے سے بچو، کیوں کہ وہ تمہیں چند لقموں حتیٰ ایک لقمے کے عوض فروخت کر دے گا۔اسی طرح عزیز رشتہ داروں سے قطع تعلق کرنے والے کی دوستی سے بھی پرہیز کرو، کیوں کہ میں نے کتابِ خدا میں اُسے ملعون پایا ہے۔ (تحف العقول ص 202، /بحارالا نوارف ج 74، ص 196، ح 26)

 

ٹیگس

کمنٹس