• سعودی صحافی کے قتل میں سعودی ولیعہد ملوث: امریکی میڈیا

امریکی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کا حکم محمد بن سلمان نے دیا تھا۔

سعودی صحافی جمال خاشقجی کے پراسرار قتل پر شکوک وشبہات کے پڑے پردے تا حال نہ اٹھائے جا سکے۔ واشنگٹن پوسٹ اور اے پی پی نے کہا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس حکام اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ محمد بن سلمان نے جمال خاشقجی کے قتل کا حکم دیا، تاہم وائٹ ہاؤس، وزارت خارجہ اور سی آئی اے نے اس خبر پر اپنا موقف دینے سے انکار کیا ہے۔

ادھرترک میڈیا نے مقتول صحافی جمال خاشقجی سے متعلق دوسری آڈیو ٹیپ کا دعویٰ کیا ہے، ترک صدر طیب اردوغان اور صدر ٹرمپ نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ جمال خاشقجی کے قتل سے متعلق کسی بھی جانب سے حقائق نہیں چھپائے جانے چاہئیں۔

دوسری جانب  استنبول کے سعودی قونصل خانے میں بیدردی سے قتل کردیے جانے والے صحافی جمال خاشقجی کی غائبانہ نماز جنازہ مکہ، مدینہ، استنبول اور لندن میں ادا کردی گئی ہے۔

جمال خاشقجی کے بیٹے صلاح خاشقجی کی اپیل پر مسجد نبوی میں بعد نماز فجر اور مسجد الحرام میں جمعے کی نماز کے بعد غائبانہ نماز جنازہ ادا کیا گیا، جنازے میں مرحوم کے لواحقین سمیت ہزاروں افراد نے شرکت کی۔

ترکی کے دار الحکومت انقرہ کی قوجا تبہ مسجد اور استنبول میں بھی الفاتح مسجد میں غائبانہ نماز جنازہ جمعے کے اجتماعات کے بعد ادا کی گئی ۔

 

ٹیگس

Nov ۱۷, ۲۰۱۸ ۰۸:۴۹ Asia/Tehran
کمنٹس