Sep ۱۲, ۲۰۱۹ ۰۸:۵۶ Asia/Tehran
  • برطانوی حکومت کودھچکا، پارلیمنٹ معطل کرنے کا فیصلہ غیر قانونی قرار

عدالت نے برطانوی پارلیمنٹ معطل کرنے کا فیصلہ غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق اسکاٹ لینڈ کی سپریم سول کورٹ نے برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کی جانب سے پارلیمنٹ معطل کرنے کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دیا جو برطانوی حکومت کے لیے بہت بڑا دھچکا ہے۔

برطانیہ کے 78 قانون سازوں نے بورس جانسن کی جانب سے ملکہ ایلزبیتھ دوم کو بریگزٹ پر غور کرنے کے لیے پارلیمنٹ معطل کرنے کی درخواست دینے کو غیر قانونی قرار دینے سے متعلق عدالت میں اپیل دائر کی تھی۔ تاہم 4 ستمبر کو سیشن کورٹ کے جج لارڈ ڈوہرتی نے بورس جانسن کے فیصلے کو غیرقانونی قرار دینے کی اپیل مسترد کردی تھی اور کہا تھا کہ یہ فیصلہ سیاست دان کرتے ہیں عدالتیں نہیں کرتیں۔

2 روز قبل اسکاٹ لینڈ میں واقع سول سپریم کورٹ کے 3 ججوں نے لارڈ ڈوہرتی کے فیصلے سے اختلاف کیا تھا۔ دوران سماعت جج لارڈ کارلوے نے بتایا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ وزیراعظم بورس جانسن کی جانب سے ملکہ الزبتھ دوم کو پارلیمنٹ معطلی کی درخواست کرنا غیر قانونی ہے اور پارلیمنٹ معطل کرنا بھی غیر قانونی ہے۔اس حوالے سے بورس جانسن کی حکومت کے ترجمان نے کہا کہ وہ عدالت کے فیصلے سے مایوس ہوئے ہیں اور سپریم کورٹ میں اس کے خلاف اپیل دائر کریں گے۔

گزشتہ ہفتے لندن کی ہائی کورٹ میں پارلیمنٹ معطل کرنے کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا جسے عدالت نے مسترد کردیا تھا۔

برطانوی حکومت نے عدالت کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کردی جو 17 ستمبر کو سماعت کے لیے مقرر کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ اگست کے اواخر میں برطانیہ کی ملکہ ایلزبیتھ دوم نے یورپی یونین سے علیحدگی (بریگزٹ) کے معاملے پر وزیراعظم بورس جانسن کی درخواست پر پارلیمنٹ معطل کرنے کی منظوری دی تھی۔

یاد رہے کہ سابق برطانوی وزیراعظم تھریسامے نے 24 مئی کو انتہائی جذباتی انداز میں اعلان کیا تھا کہ وہ 7 جون کو وزیراعظم اور حکمراں جماعت کنزرویٹو اور یونینسٹ پارٹی کی رہنما کے عہدے سے مستعفی ہوجائیں گی اور 7 جون کو انہوں نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

ٹیگس

کمنٹس