Oct ۱۱, ۲۰۱۵ ۱۵:۴۸ Asia/Tehran
  • پاکستان کی افغانستان سے درخواست
    پاکستان کی افغانستان سے درخواست

ایک ایسے وقت میں کہ جب اسلام آباد اور کابل کے تعلقات بدستور کشیدہ ہیں، پاکستان کے وزیر داخلہ نے افغان رہنماؤں سے اسلام آباد کے خلاف مخاصمانہ موقف ترک کرنے کی درخواست کی ہے۔

پاکستان کے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کوئٹہ شہر میں کہا کہ افغان حکام کو اسلام آباد کے خلاف مخاصمانہ زبان میں بات نہیں کرنی چاہیے کیونکہ پاکستان اور افغانستان دو دوست اور برادر ملک ہیں۔ طالبان کے سرغنہ ملا عمر کی موت کی خبر منظرعام پر آنے کے بعد پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

ایک ایسے وقت میں کہ جب افغانستان، پاکستان اور طالبان کے مذاکراتی وفود خود کو مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے تیار کر رہے تھے، تو افغان ذرائع اور حکام کے بقول پاکستان کے ذرائع ابلاغ اور حکام نے طالبان کے سابق سرغنہ ملا عمر کی موت کی خبر کا اعلان کر دیا جس کی وجہ سے افغانستان کے امن مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے جبکہ پاکستانی ذرائع اس بات کی تردید کرتے ہیں کہ انھوں نے ملا عمر کی موت کی خبر کا انکشاف کیا ہے۔

امن مذاکرات کے ملتوی ہونے کے بعد طالبان نے افغانستان کے مخلتف علاقوں پر اپنے حملے تیز کر دیے اور کابل سمیت افغانستان کے اہم شہروں پر اپنے حملوں کو منظم کیا۔ افغانستان کے سرکاری حکام اور عوامی اداروں نے طالبان کے ان حملوں کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ قرار دیا اور ان اداروں نے پاکستان کے خلاف کچھ پابندیاں بھی عائد کر دیں۔ جس کے بعد پاکستان اور افغانستان کے تعلقات نہ صرف مزید کشیدہ ہو گئے بلکہ افغان حکومت نے اعلان کیا کہ وہ متعلقہ بین الاقوامی اداروں میں اسلام آباد کے خلاف شکایت کرے گی۔

افغانستان اور پاکستان کے تعلقات میں ابھی تک کوئی بہتری نہیں آئی ہے اور یہ ایسی حالت میں ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے اعلان کیا ہے کہ افغانستان کے امن مذاکرات کے دوسرے دور سے قبل ملا عمر کی موت کی خبر کا منظرعام پر لایا جانا ایک بڑی غلطی تھی۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان، افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے کوشش کر رہا ہے۔

دوسری جانب پاکستان کے وزیر داخلہ کی جانب سے افغان رہنماؤ‎ں سے اپنا مخاصمانہ موقف ترک کرنے کی درخواست سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام آباد اور کابل کے درمیان بےاعتمادی کی فضا ابھی تک بر قرار ہے اور افغان حکام کو پاکستانی حکام کے دعووں اور بیانات پر بالکل اعتبار نہیں ہے۔ خصوصا اس لیے کہ افغانستان میں مختلف حلقے پاکستان کو مختلف علاقوں میں طالبان کے حملوں میں تیزی آنے اور قندوز پر طالبان کے چند روزہ قبضے کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔

قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ پاکستان کے وزیر داخلہ نے ایک ایسے وقت میں افغان حکام سے پاکستان مخالف موقف ترک کرنے کی درخواست کی ہے کہ جب چوہدری نثار علی خان نے ایک بار پھر دعوی کیا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردانہ حملوں کی منصوبہ بندی افغانستان کی سرزمین پر کی جاتی ہے اور اسلام آباد کے پاس ایسے ثبوت موجود ہیں کہ جو اس دعوے کو ثابت کرتے ہیں۔

ان کے اس دعوے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام آباد حکومت کی نظر میں افغانستان کی حکومت انتہائی مشکوک ہے اور یہ چیز کابل اور اسلام آباد کے اختلافات کے حل کے لیے اچھی ثابت نہیں ہو سکتی ہے۔

ٹیگس