Oct ۱۲, ۲۰۱۵ ۱۶:۵۲ Asia/Tehran
  • ماہ محرم میں پاکستان میں سیکورٹی انتظامات
    ماہ محرم میں پاکستان میں سیکورٹی انتظامات

پاکستان میں دہشت گردانہ اور فرقہ وارانہ حملے جاری رہنے کے پیش نظر کہ جن میں محرم کے مہینے میں اضافہ ہو جاتا ہے، حکومت پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ وہ ملک میں سیکورٹی انتظامات سخت کر دے گی۔

ممکنہ دہشت گردانہ حملوں پر تشویش کے پیش نظر حکومت پاکستان سیکورٹی انتظامات سخت کرکے اورانسداد دہشت گردی فورس میں اضافے جیسے اقدامات انجام دے کر محرم الحرام کے مہینے میں ان حملوں کو ممکنہ حد تک روکنا چاہتی ہے۔

پنجاب کی صوبائی حکومت نے بھی اس سلسلے میں مختلف اقدامات کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ بعض دینی شخصیات اور علما محرم کے مہینے میں دوسرے صوبوں سے پنجاب میں نہیں آ سکتے اور جن افراد نے اس حکم کی خلاف ورزی کی تو ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

اسی طرح یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ صوبہ پنجاب کے مختلف شہروں اورعلاقوں میں مجالس عزا کے موقع پر مساجد اور امام بارگاہوں میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے جائیں گے۔

سیاسی مبصرین کے خیال میں پاکستان میں گزشتہ برسوں کے دوران خاص طور پر اہل تشیع کے خلاف فرقہ وارانہ اور دہشت گردانہ حملوں کے پیش نظر کسی بھی شکل میں سیکورٹی انتظامات میں اضافہ اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے۔ 


پاکستان کے عوام کے درمیان پرامن بقائے باہمی پر ایک نظر ڈالنے سے مکمل طور پر واضح ہو جاتا ہے کہ پاکستان کے اہل سنت بھی محرم الحرام میں عزاداری سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کو خاص اہمیت دیتے ہیں حتی کہ بعض تو عزاداری کے جلوسوں میں سبیلوں کا اہتمام کرتے ہیں، تعزیہ نکالتے ہیں اور نذر و نیاز کا اہتمام کرتے ہیں۔

اس بنا پر اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ فرقہ پرست اور دہشت گرد گروہ پاکستان میں خانہ جنگی شروع کرانے کے لیے کئی برسوں خاص طورسے محرم کے مہینے میں امام بارگاہوں اورعزاداری کے جلوسوں پردہشت گردانہ حملے کر رہے ہیں تاکہ نواسہ رسول حضرت امام حسین علیہ السلام کے عزاداروں اور شیعوں کو سنیوں سے بدظن اوربدگمان کرسکیں۔

اس بنا پر پاکستان کے عوام کو توقع ہے کہ وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتیں ضروری اقدامات کر کے ملک میں ہر قسم کے دہشت گردانہ اقدامات کو روکیں گی۔ پاکستان میں شیعوں اور اہل سنت کے درمیان اختلاف اورتفرقہ پیدا کرنے کے لیے وہابیوں کی کوششوں کے پیش نظر ان کی محفلوں اور اجتماعات کو کہ جن میں نفرت، اختلاف اور نفاق کا بیج بویا جاتا ہے، سیکورٹی اورانٹیلی جنس اداروں کی جانب سے کنٹرول کرنا ضروری خیال کیا جاتا ہے۔

محرم الحرام کے مہینے میں امن و امان قائم رکھنے میں حکومت پاکستان کی کامیابی کے لیے فرقہ پرست گروہوں اوردہشت گردوں کے خلاف حقیقت پسندانہ، ٹھوس اوربھرپورکارروائی ضروری ہے تاکہ کوئی بھی دہشت گرد گروہ خود کو محفوظ نہ سمجھے، اس لیے کہ پاکستان میں بہت سے فرقہ پرست اور دہشت گرد گروہ جانے پہچانے ہیں اورماہرین کے خیال میں حکومت پاکستان کے لیے ان کے خلاف کارروائی کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔

ٹیگس