Oct ۱۲, ۲۰۱۵ ۱۷:۲۲ Asia/Tehran
  • شام میں امریکہ کی شکست کا اعتراف
    شام میں امریکہ کی شکست کا اعتراف

امریکی صدر باراک اوباما نے اعتراف کیا ہے کہ بحران شام کے حل میں مدد کے لئے واشنگٹن کی کوششیں ناکام ہوگئی ہیں-

اوباما نے سی بی ایس ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ شام، عالمی برادری کے لئے ایک بڑا مسئلہ ہے اور امریکہ اب تک اسے حل نہیں کر سکا ہے-

امریکی صدر نے شام میں نام نہاد اعتدال پسند بشار اسد مخالف طاقتوں کو مسلح کرنے اور انھیں ٹریننگ دینے کے لئے اس ملک کی کوششوں میں ناکامی کے بارے میں کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ پروگرام کارگر ثابت نہیں ہوا اور انھیں شروع سے ہی اس پروگرام کے بارے میں شک تھا لیکن وہ مختلف آپشن کو آزمانا چاہتے تھے-

اس وقت شام کی جنگ میں روسی فوج کے شامل ہونے اور روس، ایران، عراق اور شام کے درمیان ہم آہنگی نے شام کے حالات کے سلسلے میں لگائے جانے والے اندازوں کو تبدیل کردیا ہے-

امریکی حکومت نے شروع میں استقامت کو کمزور کرنے اور شام کے صدر بشار اسد کی قانونی حکومت کو گرانے کے لئے شام سمیت علاقے میں دہشت گرد گروہوں کو تشکیل اور مسلح کرنے کا اقدام کیا اور پھر شام میں اعتدال پسند مخالفین کو ٹریننگ دینے کا پروگرام، امریکی وزارت دفاع پینٹاگون کے ایجنڈے میں رکھا-

درحقیقت امریکی حکام کا دعوی تھا کہ شام میں اعتدال پسند مخالفین کو مسلح اور انھیں ٹریننگ دے کر اس ملک میں انتہاپسند گروہوں اور حکومت دونوں پر کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے لیکن جنگجؤوں کو ٹریننگ دینے کے منصوبے پر کروڑوں ڈالر خرچ کرکے کہ جس کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلا، اب واشنگٹن نے شام میں اپنی اسٹریٹیجی کی ناکامی کو چھپانے کے لئے نیا منصوبہ پیش کیا ہے- کہا جا رہا ہے کہ اس وقت امریکہ، علاقے میں اپنے اتحادی اورعرب ممالک کو جدید ترین ہتھیار اور مواصلاتی ساز و سامان دینا چاہتا ہے- اس تناظر میں امریکہ ، شام میں دہشت گرد گروہوں کی عسکری حمایت کے لئے علاقے میں اپنے اتحادیوں بالخصوص ترکی ، سعودی عرب اور قطر سے مدد لے گا-

ماہرین کا خیال ہے کہ شام میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر روس کے حملوں کے مثبت نتائج اور شامی فوج اور حکومت کی کامیابی کے پیش نظر اس بات کا امکان ہے کہ یہ نیا منصوبہ واشنگٹن کے لئے لاحاصل ہوگا-

واضح ہے کہ گذشتہ برسوں کے تجربے نے ثابت کر دیا ہے کہ امریکہ اور اس کے مغربی اور علاقائی اتحادیوں کے دعؤوں اور اقدامات کے برخلاف، بحران شام، داعش جیسے تکفیری اور انتہاپسند گروہوں کو مسلح کرنے اور ان کی حمایت کرنے سے حل نہیں ہوگا بلکہ اس کے لئے دہشت گردوں پر قابو پانے کی ضرورت ہے جس کے لئے شامی فوج اور حکومت کی کامیابی میں مدد اور سیاسی تعاون لازمی ہے-


ٹیگس