داعش کو دہشت گردی کے خلاف حقیقی جنگ کا سامنا
-
داعش کو دہشت گردی کے خلاف حقیقی جنگ کا سامنا
ایران کے وزیر خارجہ نے عراق کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے سے ملاقات میں کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عراقی حکومت کی بھرپور اور موثر حمایت جاری رکھےگا-
ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے اتوار کی شام تہران میں عراق کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے یان کوبیش سے ملاقات میں علاقے میں امن و استحکام میں عراق کے کردار اور اس ملک کی صورت حال کے براہ راست اثرات کو اہم قرار دیا اور کہا کہ عالمی برادری کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عراقی حکومت کی حمایت ضروری ہے-
جواد ظریف نے عراق میں داعش کے خلاف جنگ میں امریکی اتحاد کی کارکردگی کو کمزور اور ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ علاقے میں دہشت گرد اور تکفیری گروہوں کے خلاف جنگ اہم ہے اور عالمی برادری کو دہشت گردوں کی براہ راست یا بالواسطہ حمایتوں کا سلسلہ روکنا چاہئے-
عراق کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے یان کوبیش نے بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے تناظر میں اسلامی جمہوریہ ایران کے مثبت کردار کو سراہا-
ایران ، ایک ذمہ دار ملک اور علاقے کے امور میں ایک اہم ملک کی حیثیت سے دہشت گردی کے خلاف جنگ اور اس منحوس جنگ کے شکار ممالک کی حمایت کو اپنی خارجہ پالیسی کا اہم اصول سمجھتا ہے- ایران نے دہشت گردی کی بھینٹ چڑھنے والے ملک کی حیثیت سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دہشت گردی بالخصوص داعشی دہشت گردی کی شکار عراق و شام کی حکومتوں کی حمایت کی ہے-
اسلامی جمہوریہ ایران علاقے اور اپنے پڑوسی ممالک کی سیکورٹی کو اپنی سیکورٹی سمجھتا ہے اور اسی بنیادی اصول کی بنیاد پر، عراق اور شام کی قوموں اور حکومتوں کے ساتھ کھڑا ہے- ایران، منظم اور واحد پالیسی اختیار کرکے دہشت گردی کے خلاف حقیقی جنگ کی راہ پر چل رہا ہے اور عراق و شام کے ساتھ تعاون اسی پالیسی کے تناظر میں انجام پا رہا ہے-
عراق اور شام آج داعشی دہشت گردی کے خلاف حقیقی جنگ میں فرنٹ لائن پر ہیں ، ایسی دہشت گردی جو دنیا بالخصوص ان ممالک کی سلامتی کے لئے سنگین خطرہ شمار ہوتی ہے کہ جن کے نوجوان داعش کے اندر موجود ہیں-
عراق اور شام نے، دہشت گردی کو اچھی اور بری دہشت گردی میں تقسیم کئے بغیر اپنے اور اپنے تمام وسائل اور اپنے اتحادی ممالک کی حمایت سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حقیقی محاذ تشکیل دے رکھا ہے-
عراق اور شام کی حکومتوں کو ایران کی مشاورتی حمایت کے ساتھ ہی تیس ستمبر سے روس بھی شام میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں براہ راست شامل ہو گیا ہے اور شام و عراق میں دہشت گردوں اور ان کے حامیوں کے توازن کو تبدیل کردیا ہے-
اس وقت شام میں روس کے زبردست حملوں کے باعث داعش دہشت گرد گروہ نیم بیہوشی میں ہے اور عراق میں بھی اس دہشت گرد گروہ کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے- عراقی فضائیہ نے بھی اتوار کو شام سے ملحق اپنے سرحدی علاقے میں داعش کے سرغنہ ابوبکر البغدادی کے کارواں کو نشانہ بنایا تھا جس میں داعشی قاتلوں کا یہ سرغنہ زخمی ہوگیا ہے-
شام میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حقیقی محاذ کی کارکردگی نے داعش کو مات دینے کے ساتھ ہی امریکی اتحاد کو بھی مختلف چیلینجوں سے دوچار کر دیا ہے اور رائے عامہ نے اس اتحاد کی کارکردگی پر تنقیدیں شروع کر دی ہیں- امریکی اتحاد کے ایک سال سے زیادہ کی کارکردگی نے ثابت کردیا ہے کہ یہ اتحاد دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں کرنا چاہتا-