خاطی جماعتوں کے خلاف حکومت پاکستان کے سنجیدہ اقدامات
-
الطاف حسین کو اکاسی سال قید با مشقت کی سزا
پاکستان کے مختلف شہروں میں حکومت کی جانب سے قیام امن کی کوششیں جاری رکھتے ہوئے اور خاطی پارٹیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کو اکاسی سال قید با مشقت کی سزا سنائی گئی ہے-
روزنامہ ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق گلگت بلتستان کی انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے پیر کو متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کو اکاسی سال قید با مشقت کی سزا سنائی ہے- گلگت بلتستان کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سیکورٹی اداروں کے خلاف تقریر کرنے کے باعث الطاف حسین کی تمام جائدادیں ضبط کرنے کا حکم بھی دیا ہے-الطاف حسین نے ابھی حال ہی میں اپنی ایک تقریر میں سیکورٹی اہلکاروں پر کراچی میں عوام کے سا تھ تشدد آمیز رویہ اختیار کرنے کا الزام لگایا تھا اور کہا تھا کہ یہ سیکورٹی اہلکار پاکستانی عوام کے ساتھ وہی رویہ اختیار کرتے ہیں جو ہندوستانی فوجی کشمیر میں کنٹرول لائن پرعوام کے ساتھ اختیار کرتے ہیں-
اگرچہ متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے اپنے بیان پر ہرطرف سے تنقید شروع ہو جانے کے بعد معافی مانگ لی تھی لیکن سیکورٹی اہلکاروں کے خلاف ان کے بیان کے باعث گلگت بلتستان کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ان پر مقدمہ قائم ہوگیا-
کراچی سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں بد امنی پھیلانے والے عناصر کے خلاف سیکورٹی اہلکاروں کی کارروائیوں کے تناظر میں حکومت پاکستان نے متحدہ قومی موومنٹ پر نقض امن کا الزام لگاتے ہوئے ان سے متعلق مختلف دفاتر اور عمارتوں کی تلاشی لی اور ہتھیار و دھماکا خیز مواد ضبط کئے- اس کے بعد حکومت نے متحدہ قومی موومنٹ کے بعض رہنماؤں پرمقدمہ چلایا اور بعض رہنماؤں کو قید کی سزا سنائی- درایں اثنا اسلام آباد حکومت نے برطانوی حکومت سے الطاف حسین کو حوالے کرنے کا بھی مطالبہ کیا-
سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان کے مختلف شہروں میں بدامنی پھیلانے والے عناصر اور دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کے موضوع نے اسلام آباد حکومت کو ان جماعتوں کا مقابلہ کرنے کا موقع فراہم کیا جو سیکورٹی اہلکاروں کی نگاہ میں ڈکیتی، اغوا، بھتہ لینے اور قتل میں ملوث ہیں- اس سلسلے میں متحدہ قومی موومنٹ پر سب سے زیادہ الزامات ہیں۔ اگرچہ ابھی حال ہی میں حکومت پاکستان نے پیپلز پارٹی پر بھی کچھ الزامات لگائے ہیں-
پاکستان میں قیام امن کی ضرورت اور موضوع کی حساسیت کے پیش نظر اس ملک کے سیکورٹی اور فوجی حکام بھی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے رویے پر تنقید کرتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ انھیں اس طرح کے کام نہیں کرنے چاہئیں جن سے پاکستان کی سلامتی خطرے میں پڑ جائے-
اس سلسلے میں پاکستان کے وزیردفاع خواجہ آصف نے تحریک انصاف پاکستان کے سربراہ عمران خان پر سخت تنقید کی اور اعلان کیا کہ عمران خان کے دماغ کا علاج ہونا چاہئے- تحریک انصاف پاکستان کے سربراہ انتخابات کے عمل سمیت مختلف امور میں نواز شریف حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہیں-
درایں اثنا پاکستان کے سابق صدر پرویز مشرف نے تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کی کارکردگی پر تنقید کی اور پاکستان کے امور چلانے کے لئے ان کے پروگراموں کو نامناسب قرار دیا-
بہرحال، حکومت پاکستان کو امید ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کے لئے سخت حالات پیدا کر کے اور ان پر سیاسی و عدالتی دباؤ ڈال کر نہ صرف اس پارٹی کو زیادہ سے زیادہ کنٹرول کیا جا سکتا ہے بلکہ اس سے دوسری سیاسی جماعتوں کے رہنما بھی متوجہ ہوجائیں گے کہ پاکستان کی عدلیہ قیام امن کے سلسلے میں کسی بھی طرح کا اقدام انجام دینے سے دریغ نہیں کرے گی-
یہ موضوع برسراقتدار جماعت مسلم لیگ نون کے لئے اس لئے اہم ہے کہ اس پر سیکورٹی کے امور کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت نہ ہونے کا الزام ہے- پاکستانی حکام کی نظر میں سیاسی جماعتیں ملک میں قیام امن کے لئے ضروری تعاون نہیں کرتیں اور اسی بنا پر حکومت اور عدلیہ ان کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہیں-