Oct ۲۸, ۲۰۱۵ ۱۴:۲۷ Asia/Tehran
  • دہشت گردی کے خلاف حقیقی جنگ، بحران شام کی راہ حل
    دہشت گردی کے خلاف حقیقی جنگ، بحران شام کی راہ حل

شام میں سیاسی توازن تبدیل ہو رہا ہے۔ بہت سے مبصرین کا خیال ہے کہ شام میں داعش کے خلاف زمینی جنگ کے میدان میں جو توازن تبدیل ہو رہا ہے اسے شام کے مستقبل کے حوالے سے ایک نئے زاویے سے دیکھنا چاہیے۔ اس تبدیلی نے وائٹ ہاؤس کو نئے اقدامات کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

روئٹرز نیوز ایجنسی نے اس بارے میں اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ امریکی وزارت خارجہ نے منگل کے روز اعلان کیا ہے کہ بحران شام کا جائزہ لینے کے لیے جمعہ کو ہونے والے چند فریقی مذاکرات میں شرکت کے لیے ایران کو بھی دعوت دی جائے گی۔

امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان جان کربی نے بھی ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری شام کے بارے میں مذاکرات کے تناظر میں وسطی ایشیا کا دورہ کریں گے تاکہ علاقے میں اپنے ہم منصبوں سے صلاح و مشورہ کر سکیں۔

جان کربی نے کہا کہ ان مذاکرات میں دس سے زیادہ ممالک شرکت کریں گے۔ جان کربی کا مزید کہنا تھا کہ البتہ یہ تعاون بحران شام کے حل کے لیے ایران کی جانب سے مددگار اور مفید کردار ادا کرنے اور اس کے اتحادیوں کی مدد و حمایت روکنے پر منحصر ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کی ترجمان مرضیہ افخم نے جان کربی کے اس بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ اس قسم کے گھسے پٹے بیانات زمینی حقائق کے منافی ہیں اور اپنا الزام دوسروں کے سر تھوپنا ہی علاقے کے مسائل کی جڑ ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کی ترجمان نے مزید کہا کہ بحران شام کے سنگین اور حقیقی مسائل، امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی فوجی مداخلت اور دوغلی پالیسیوں کے علاوہ دہشت گرد گروہوں کو ایک حربے اور ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرنے کا نتیجہ ہیں اور امریکہ کو شام میں سیاسی راہ حل تلاش کرنے کے لیے فوجی رویے اور دہشت گردی کو پروان چڑھانے کی پالیسی کی حمایت کو ترک کرنا ہو گا۔

حقیقت یہ ہے کہ القاعدہ اور داعش جیسے گروہ امریکی خفیہ تنظیم سی آئی اے اور برطانوی خفیہ ادارے ایم آئی سکس کے فوجی و تربیتی تعاون و مدد اور سعودی عرب جیسے علاقے کے بعض عرب ممالک کے پیسے سے وجود میں آئے ہیں۔

اس بنا پر دہشت گردی کی بحث اور یہ کہ دہشت گردی کا کس طرح مقابلہ کیا جائے، اس کا بہت سے عوامل کے ساتھ تعلق ہے جن میں سے ایک یہ ہے کہ کسی بھی اقدام سے قبل دہشت گردی کی واضح اور شفاف تعریف پیش کی جائے۔

امریکہ میں گیارہ ستمبر کے واقعات کہ جو دہشت گردی کے خطرات کی نئی شکل تھے اور ان کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے امریکہ نے جو یکطرفہ پالیسیاں اختیار کیں، اس کے بعد رونما ہونے والے واقعات پر ایک نظر ڈالی جائے تو ہمیں دکھائی دیتا ہے کہ بہت سے ایسے ملکوں نے دہشت گردی کی بھاری قیمت چکائی ہے کہ جن کا دہشت گردی میں کوئی کردار نہیں تھا۔

جبکہ آج یہ بات واضح ہو کر سامنے آ گئی ہے کہ امریکہ نے القاعدہ، طالبان، جبھۃ النصرہ، داعش اور دیگر دہشت گرد گروہوں کو وجود میں لانے والے سعودی عرب جیسے مختلف ممالک کے ساتھ مل کر دہشت گردی کی سب سے زیادہ حمایت کی ہے لیکن ان ہی ممالک نے دہشت گردی کے خلاف نام نہاد اتحاد تشکیل دیا ہے۔

اس مشکل اور مسئلے کی دوسری طرف البتہ وہ ممالک ہیں کہ جو دہشت گردی کا شکار ہوئے ہیں اور وہ اس بات کا پختہ عزم رکھتے ہیں کہ دہشت گردی کا اس کی تمام شکلوں میں مقابلہ کریں۔

شام اس وقت ان دو نظریات اور قوتوں کی مقابلہ آرائی کا میدان بنا ہوا ہے کہ جس کی ایک جانب دہشت گرد گروہوں اور ان کے حامیوں نے صف آرائی کر رکھی ہے جبکہ دوسری طرف دہشت گردی کے خلاف حقیقی جنگ کرنے والے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایران کے کردار اور شام میں ایران کے فوجی مشیروں کی موجودگی کو بھی اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔

واضح سی بات ہے کہ تہران اپنی توانائیوں کو ایک متوازن، پائیدار اور شامی عوام کی حقیقی خواہشات پر مبنی ایک راہ حل کے حصول کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ اسی سلسلے میں روس کی وزارت خارجہ نے بھی منگل کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران اور روس کے وزرائے خارجہ جواد ظریف اور سرگئی لاوروف نے ٹیلی فون پر بات چیت کے دوران بحران شام کے حل کی راہوں کا جائزہ لیا ہے۔

بہرحال یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ بےلگام دہشت گردی آج پوری دنیا کے لیے خطرہ ہے اور اب تک اس نے دنیا کے بہت سے ملکوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور اگر اس کو روکنے کے بارے میں کوئی سنجیدہ اقدام نہیں کیا گیا تو دہشت گردی طاعون کی طرح پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی اور دنیا کو ایک ایسے المیے سے دوچار کر دے گی کہ اقوام متحدہ بھی اس سلسلے میں کچھ نہیں کر سکے گی۔

ٹیگس