Feb ۰۸, ۲۰۱۷ ۱۷:۴۵ Asia/Tehran
  • امریکہ افغانستان میں بدامنی میں شدت پیدا ہونے کا ذمےدار

افغانستان میں بدامنی میں شدت پیدا ہونے کے بعد امریکی وزیر جنگ جنرل جیمز میٹس (James Mattis) نے افغان صدر محمد اشرف غنی کے ساتھ ٹیلی فونی گفتگو کے دوران اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ افغانستان امریکہ کا ایک اہم اور اسٹریٹیجک شریک ہے، افغانستان کے ساتھ باہمی تعاون میں توسیع پر تاکید کی۔

امریکی وزیر جنگ نے اس بات کو بیان کرتے ہوئے، کہ امریکہ افغانستان کی سیکورٹی سے متعلق اپنے وعدوں میں سچا ہے، کہاکہ امریکہ افغانستان کو مدد دینے کے اپنے وعدے پر عمل کرے گا۔  محمد اشرف غنی نے بھی اس ٹیلی فونی گفتگو کے دوران افغانستان میں اصلاحات پر عملدرآمد خصوصا بدعنوانی کے مقابلے اور قیام امن کے لئے امریکہ کے ساتھ تعلقات کو تقویت پہنچانے سے متعلق اپنی حکومت کے وعدے کو عملی جامہ پہنانے پر تاکید کی۔ اس ٹیلی فونی گفتگو کے موقع پر افغانستان کے دارالحکومت کابل میں سپریم کورٹ کی عمارت کے قریب ہونے والے کار بم دھماکے میں کم از کم پچیس افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھوبیٹھے۔ امریکی وزیر جنگ کے جنوبی کوریا اور جاپان کے دوروں کے بعد افغانستان کے صدر کے ساتھ ہونے والی ٹیلی فونی گفتگو سے واشنگٹن کی علاقائی پالیسیوں میں افغانستان کی اہمیت کی نشاندہی ہوتی ہے۔ دریں اثنا افغانستان کے سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ امریکہ اپنے  وعدے کے باوجود افغانستان میں قیام امن کے سلسلے میں کوئی ٹھوس اقدام انجام نہیں دے رہا ہے۔ دو سال قبل محمد اشرف غنی کی حکومت قائم ہونے کے ساتھ ہی امریکی حکومت اور افغانستان نے سیکورٹی معاہدے پر دستخط کئے تھے۔ جس سے افغانستان کی رائےعامہ یہ توقع کرنے لگی تھی کہ امریکہ افغانستان میں قیام امن اور دہشت گرد گروہوں کے مقابلے کے لئے میدان میں اتر پڑے گا لیکن اس عرصےمیں نہ صرف افغانستان میں امن قائم نہیں ہوا بلکہ اس ملک میں دہشت گرد گروہ داعش وجود میں آنے سے ملک کی سیکورٹی کی صورتحال مزید پیچیدہ ہوگئی ہے۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ امریکہ افغانستان میں بحران کو اپنے ہاتھ میں لے کر دہشت گرد گروہوں کو خطے میں دباؤ کے حربے کے طور پر استعمال کرنے کے علاوہ  افغانستان میں امریکہ اور نیٹو کے فوجیوں کی موجودگی جاری رہنے کو جائز ظاہر کرنے اور اس ملک کو اپنے علاقائی فوجی اڈے میں تبدیل کرنے کے لئے کوشاں ہے۔ افغانستان میں امریکہ کے تقریبا پندرہ فوجی اڈے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ بگرام ایئربیس خطے حتی دنیا میں امریکہ کا جدید ترین ایئر بیس ہے۔ اس طرح کے ائیربیس بنانے سے خطے میں امریکہ کے طویل المیعاد مقاصد منجملہ وسطی ایشیا اور قفقاز کے علاقے میں انتہا پسندی کو منتقل کرنے کی نشاندہی ہوتی ہے۔ بنابریں اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دہشت گرد گروہ داعش کے مقابلے کو اپنی ترجیح قرار دینے کا اعلان کیا ہے اور اشرف غنی کے ساتھ جنرل جیمز میٹس کی گفتگو سے بھی اس بات کی نشاندہی ہوتی ہےکہ افغانستان کی صورتحال پر امریکہ کی توجہ ہے لیکن اس کے باوجود یہ بہت بعید لگتا ہےکہ ٹرمپ حکومت افغانستان میں قیام امن کے سلسلے میں کوئی ٹھوس قدم اٹھائے گی۔ منشیات کی پیداوار اور اسمگلنگ میں اضافہ، اغوا ، ٹارگٹ کلنگ، بم دھماکے اور عوام کا قتل عام افغانستان میں امریکہ اور نیٹو کے فوجیوں کی سولہ سالہ موجودگی کے ہی نتائج ہیں۔ یہی وجہ ہ ےکہ افغانستان کے مختلف حلقوں منجملہ اس ملک کی قومی پارلیمنٹ اور سینیٹ کے اراکین نے بارہا افغانستان اور امریکہ کے درمیان ہونے سیکورٹی معاہدے پر نظر ثانی کئے جانے کا مطالبہ کیا ہے اور اس نکتے پر تاکید کی ہے کہ افغانستان کی فوج اور سیکورٹی فورسز ملک میں قیام امن کے لئے ضروری صلاحیتوں کی حامل ہیں اور اس ملک کی حکومت یورپ والوں کا سہارا لئے بغیر اور اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ اور علاقائی ممالک کے ساتھ تعاون میں توسیع لانے کے ذریعے ملک میں امن قائم کر سکتی ہے۔

 

ٹیگس