Mar ۲۷, ۲۰۱۷ ۱۵:۳۷ Asia/Tehran
  • عرب لیگ اپنے رکن ملکوں کے بحرانوں کو ہوا دے رہی ہے

عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل احمد ابوالغیط نے کہا ہے کہ اردن میں عرب لیگ کے سربراہی اجلاس کے ایجنڈے میں اقتصادی اور سیاسی مسائل کو ترجیح حاصل ہوگی۔

اردن میں عرب لیگ کے سربراہی اجلاس کے موقع پر احمد ابوالغیط نے کہا ہے کہ عرب شہری مجموعی طور پر اقتصادی عدم تحفظ کا شکار ہیں اور انہیں اپنے مستقبل سے اطمینان حاصل نہیں ہے نیز وہ اقتصادی بحرانوں کی بابت مزید تشویش میں مبتلا ہیں۔

واضح رہے کہ آئندہ بدھ کو اردن کے علاقے بحرالمیت میں عرب سربراہی اجلاس ہونے والا ہے۔ عرب وزرائے خارجہ کی نشست پیر کو منعقد ہوگی۔ عرب لیگ کے اجلاس ایسے عالم میں ہورہے ہیں کہ عرب لیگ خاص طور سے حالیہ برسوں میں اپنے اہداف سے دور ہوتی گئی ہے۔ بلاشبہ عرب لیگ قائم کرنے کے اہداف یہ تھے کہ رکن ملکوں میں اتحاد اور یکجہتی آئے اور وہ علاقائی اور دنیا کے دیگر ملکوں کے ساتھ تعاون بڑھاسکیں اور اقتصادی اور سماجی لحاظ سے اپنے مسائل حل کرسکیں۔

عرب لیگ جو بظاہر عرب ملکوں کے اتحاد کا مظہر ہے اس پر تمام میدانوں میں تعاون اور استحکام لانے کی ذمہ داری تھی اور اسی ہدف سے اسکی تاسیس بھی ہوئی تھی لیکن یہ مدتوں سے ایک بے اثریونین اور سیاسی لحاظ سے سعودی عرب جیسے ملکوں کے ہاتھوں کا کھلونا بن چکی ہے نیز محض بیان جاری کرنے پر اکتفا کرتی ہے۔ ان ہی حالات میں عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل نے اس تنظیم کے خاتمے کی بات کی تھی۔ احمد ابوالغیط نے کچھ دنوں پہلے صراحتا کہا تھا کہ عرب لیگ اپنا اثر کھوبیٹھی ہے اور اس کا شیرازہ بکھر رہا ہے۔ عرب لیگ کی بے عملی کو علاقائی بحرانوں جیسے مسئلہ فلسطین، بحران شام اور یمن و لیبیا کے بحرانوں میں دیکھا جاسکتا ہے۔ دراصل عرب لیگ ان بحرانوں کو حل کرنے کے بجائے ان بحرانوں کو مزید ہوا دے رہی ہے۔ عرب لیگ کی یہ کارکردگی شام کے بحران کے تعلق سے دیکھی جاسکتی ہے اور یہ لیگ شام کا بحران حل کرنے  کی عالمی اور علاقائی کوششوں میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے۔ شام کی رکنیت کو معطل کرنا جو کہ عرب لیگ کا بانی ملک ہے ایک غیر ذمہ دارانہ اقدام ہے جس سے عرب لیگ مزید کمزور ہوئی ہے۔ بے شک عرب لیگ کی اس طرح کی مذموم پالیسیاں اسی کے نقصان میں ہیں اور چونکہ وہ بنیادی مسائل کو چھوڑ کر چھوٹے موٹے مسائل میں پڑ گئی ہے لہذا وہ عرب ملکوں کے اہم اور بنیادی اقتصادی اور سماجی مسائل سے غافل ہوچکی ہے۔ ہر چند عرب لیگ زبان و دین اور مشترکہ ثقافت جیسے مثبت نکات کی حامل ہے اور اسکے رکن ملکوں کے عوام یہ توقع رکھتے ہیں کہ یہ لیگ ان نکات سے استفادہ کرے گی اور عالم اسلام و مسلم امۃ کے اعلی اہداف  کے حصول کے لئے انہیں بروئے کار لائے گی نیز مسلمان ملکوں کے اقتصادی اور سماجی مسائل حل کرے گی۔ اس کے علاوہ عرب لیگ تیل کے ذخائر سے بھی مالامال ہے جس کی بنا پر اسے اعلی گنجائشوں اور توانائیوں کا حامل سمجھا جاتا ہے۔ ان تمام امور کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ عرب لیگ کے رکن ممالک ایک دوسرے سے اختلافات اور رقابت میں مبتلا ہیں۔ کیونکہ وہ مغرب کی ڈکٹیٹ شدہ پالیسیوں کی پیروی کرتے ہیں اور اپنے ہاں مغربی تہذیب کو رواج دیے رہے ہیں۔ اسی بنا پر مختلف مسائل میں بھی پھنسے ہوئے ہیں۔ یہ ایسے عالم میں ہے کہ ان کی غلط تدبیریں اور غلط اقتصادی  پالیسیاں نیز عرب حکام پر طرح طرح کی مالی بدعنوانیوں میں ملوث ہونے کے الزامات اس بات کا سبب بنے ہیں کہ عرب ممالک زیادہ سے زیادہ اقتصادی بحرانوں میں غوطہ ور ہوجائیں۔ یہ صورتحال عرب ملکوں کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے اور اسی تناظر میں عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل کے بیانات کو دیکھا جاسکتا ہے۔    

 

ٹیگس