Mar ۲۹, ۲۰۱۷ ۱۸:۲۳ Asia/Tehran
  • سعودی عرب اور اردن کے ایران مخالف بیانات، عربوں کی مشکلات پر پردہ ڈالنے کی کوشش

اردن میں عرب لیگ کے سربراہی اجلاس کے انعقاد اور عرب ملکوں کی سیاسی و اقتصادی مشکلات اور باہمی اختلافات کے ساتھ ہی، بعض عرب حکام اپنی ان مشکلات پر پردہ ڈالنے کے لئے ایران کے خلاف الزام تراشیوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

سعودی عرب کے بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز اور اردن کے بادشاہ عبداللہ دوم نے عرب لیگ کے سربراہی اجلاس کے موقع پر ایک مشترکہ بیان میں،ایران کے خلاف من گڑھت الزامات اور بے بنیاد دعوے کی تکرار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران، علاقے کے ملکوں میں مداخلت اور دہشت گردی کی حمایت کر رہا ہے- سعودی عرب اور اردن کے سربراہوں نے اس مشترکہ بیان میں شام اور یمن میں بحران کھڑا کرنے میں اپنے براہ راست کردار کو نظر انداز کرتے ہوئے  دعوی کیا کہ شام اور یمن کا بحران سیاسی طریقے سے ہی حل ہو گا-  سلمان بن عبدالعزیز اور عبداللہ دوم نے مختلف دہشت گرد گروہوں کے وجود میں لائے جانے والے عوامل اور علاقائی امن و سلامتی کو خطرے سے دوچار کئے جانے کی جانب کوئی اشارہ کئے بغیر علاقے اور دنیا میں تشدد اور دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی لہر پر اظہار تشویش کیا ہے- 

شام اور یمن میں سعودی عرب کی ناکامی ، رجعت پسندعرب حکومتوں میں سول نافرمانی کے حالات فراہم ہونے اور ان کی اقتصادی مشکلات میں شدت آنے کے ساتھ ہی، اردن اور آل سعود حکومتوں نے بچوں کی قاتل حکومت اسرائیل اور امریکہ کی جنگ پسند حکومت سے یکسوئی کرتے ہوئے، ایران کے خلاف الزام تراشی کواپنے ایجنڈے میں قرار دے رکھا ہے- اس پالیسی کے جاری رہنے سے اس امر کی نشاندہی ہوتی ہے کہ اپنے مسائل و مشکلات کے حل خاص طورپر اقتصادی مشکلات کے حل میں عرب حکام کی ناتوانی ، شام اور یمن کی جنگ میں خطیر رقمیں ضائع ہونے کا نتیجہ ہے- ایسے ماحول میں اردن میں عرب لیگ کے سربراہی اجلاس میں عرب حکام نے، عربوں کی مشکلات  حل کرنے کی کوششیں کرنے کے بجائے  ایران کے خلاف بے بنیاد الزامات پیش کرنے شروع کردیئے- ان حالات میں سعودی عرب کی مرکزیت میں یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ اردن میں عرب لیگ کے سربراہی اجلاس کے اختتامی بیان میں ایران مخالف مواقف کو بیان کیا جائے-

اردن میں عربوں کا یہ سربراہی اجلاس ایسے میں منعقد ہوا ہے کہ ان کے درمیان سیاسی اختلافات عروج پر ہیں اور لبنان اور عمان کے حکام نے اردن اجلاس کے، ایران مخالف پلیٹ فارم میں تبدیل ہونے کی بابت خبردار کیا ہے- عربوں کی سیکورٹی اور اقتصادی مشکلات کے ذمہ دار اس ملک کے حکام کی تخریبی پالیسیاں ہیں کہ جو شام اور یمن کی جنگ میں خطیر رقمیں خرچ کرنے کے بعد بھی سیاسی ، اقتصادی اور سماجی دلدل میں دھنستے جا رہے ہیں- سعودی عرب، قطر، اردن اور متحدہ عرب امارات ، دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی لہر میں اپنے براہ راست کردار پر پردہ ڈالنے  اور اپنی معاشی و سیاسی  مشکلات کی وسعت اور انہیں حل کرنے میں اپنی ناتوانی کے سبب  رائے عامہ کو منحرف کرنےکے لئے، علاقے میں بدامنی کا ذمہ دار ایران کو قرار دے رہے ہیں- 

ایسے حالات میں ایران کے خلاف سعودی عرب اور اردن کی اسرائیل سے ہم آہنگی، ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت انجام پا رہی ہے- یہ دونوں عرب ممالک ایسے میں علاقے میں ایران کے کردار پر تنقید کر رہے ہیں کہ امریکہ اور صیہونی حکومت جیسے ممالک شام میں آشکارہ طور پر دہشت گردی کی حمایت کر رہے ہیں اور شام اوریمن کے عوام کا قتل عام جاری رہنے میں آشکارا کردار ادا کر رہے ہیں- علاقے میں دہشت گردی کی جڑیں، سعودی عرب میں پنپنے والے انتہا پسندانہ افکار سے ملتی ہیں  اور اس وقت دہشت گردی، مختلف دہشت گرد گروہوں کی شکل میں علاقے اور دنیا کے عوام کے لئے ٹھوس خطرے میں تبدیل ہوچکی ہے- ایسے حالات میں علاقے میں حقیقی خطرہ ، تکفیری دہشت گردی اور علاقائی و بین الاقوامی سطح پر اس کے حامی ممالک منجملہ سعودی عرب ، اسرائیل اور امریکہ ہیں کہ جو دہشت گردی سے مقابلے کے بہانے علاقے میں بربریت جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ٹیگس