عراق کے خلاف سعودی عرب کی سازشیں
عراق کے وزیر اعظم حیدر العبادی نے کہا ہے کہ عراق و سعودی عرب کے درمیان دیرینہ اختلافات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عراقی قوم سعودی عرب کو اپنے ملک میں دہشتگردی کا ذمہ دار سمجھتی ہے۔ حیدرالعبادی نے کہا کہ عراق میں خود کش حملے کرنے والے زیادہ تر سعودی باشندے ہیں۔
تکفیری دہشتگرد گروہ داعش نے دوہزار چودہ سے امریکہ اور اس کے مغربی اور عرب اتحادیوں کی مالی اور فوجی حمایت سے جن میں سعودی عرب سب سے آگے آگے ہے عراق کے بعض شمالی اور مغربی علاقوں پر قبضہ کرلیا تھا اس تکفیری گروہ نے اپنے زیر قبضہ علاقوں میں نہایت ہی انسانیت سوز کارروائیاں انجام دی ہیں اور لوٹ مار مچائی ہے۔
سعودی عرب کی جانب سے وہابیت کو فروغ دینے کے اقدامات القاعدہ اور داعش جیسے تکفیری دہشتگرد گروہوں کے معرض وجود میں آنے کا سبب بنے ہیں۔یہ مسئلہ ہمشیہ سےعلاقائی اور عالمی رائے عامہ کے پیش نظر رہا ہے اور اہل عالم آل سعود کو دہشتگرد حکومت سمجھتے ہیں۔ یہ ایسے عالم میں ہے کہ سعودی عرب کی کارکردگی عراق کے حق میں غیر شفاف اور مذموم اہداف پر مشتمل ہے۔ سعودی عرب اور عراق کے تعلقات خونخوار ڈکٹیٹر صدام اور بعثی پارٹی سے پہلے خاصے نشیب و فراز کے حامل تھے اور یہ ممالک ایک دوسرے کے دشمن سمجھے جاتے تھے۔ سنہ دوہزار تین سے عراق میں حکومت میں تبدیلی کے بعد عراق اور سعودی عرب کے لئے سنہری موقع فراہم ہوا تا کہ وہ اپنے تعلقات بہتر بنالیں۔ انیس سو نوے میں صدام کے کویت پر حملہ کرنے کے بعد سعودی عرب نے عراق میں اپنا سفارتخانہ بند کردیا تھا۔ اس کے بعد عراق اور سعودی عرب میں دوہزار چار میں صدام کی حکومت کے خاتمے کے بعد نمائندہ دفتر کی سطح پر تعلقات قائم ہوئے جبکہ دوہزار پندرہ میں بغداد میں سعودی عرب کا سفارتخانہ دوبارہ کھولا گیا۔
عراق میں سعودی عرب کی مذموم اہداف پر مشتمل اورمداخلت پسندانہ کارکردگی اور دہشتگردوں کی خفیہ اور اعلانیہ حمایت کی بنا پر عراق کے ساتھ تعلقات بڑھانے کے تمام مواقع ضایع ہوگئے۔عراق اور سعودی عرب کے تعلقات میں دوبارہ کشیدگی آنے کے بعد سعودی عرب نے اپنے سفارتی تعلقات ناظم الامور تک کم کردئے ۔
گذشتہ برسوں میں آل سعود کی پالیسی عراق کی حکومت کے مخالفین کی حمایت پر مبنی رہی ہے۔بغداد کی حکومت کے خلاف کردستان کی حکومت کو ورغلانہ، اہل سنت قبائل کے درمیان اثر ورسوخ پیدا کرنا اور انہیں عراقی حکومت کے خلاف اکسانا اور عراق میں داعش کی حمایت کرنا آل سعود کی عراق دشمنی کے کچھ نمونے ہیں۔ اس طرح کی پرفریب کارکردگی کی بنا پر عراقی عوام نے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات پر نظر ثانی کرنے کی درخواست کی اور پرزور مطالبہ کیا کہ آل سعود کی مداخلت پسندانہ پالیسیوں کےخلاف سخت تدابیر اپنائی جائیں۔ سعودی عرب کی فریبی پالیسیوں کے خلاف عراقی حکام اور عوام کے ٹھوس موقف سے ان کی ہوشیاری کا ثبوت ملتا ہے اور یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ آل سعود کو اپنے مداخلت پسندانہ اور مذموم اہداف کے تعلق سے عراق کے حکام اور عوام کے نظریات بدلنے میں بری طرح ناکامی ہوئی ہے۔ علاقے کے حالات سے پتہ چلتا ہے کہ آل سعود کی حکومت تکفیری اور دہشتگرد گروہوں کی حمایت کی وجہ سے اور علاقے کے ملکوں میں مداخلت کی بنا پر ایسی حکومت میں تبدیل ہوچکی ہے جس سے عوام بھرپور نفرت کرنے لگے ہیں اور یہ نفرت اور اسکی مخالفت اب بہت سے عرب ملکوں میں بھی پھیل گئی ہے۔