سعودی عرب میں جمہوریت نام کی کوئی چیز نہیں
سعودی عرب ایک ایسا ملک ہے جو علاقائی ملکوں کے درمیان کسی طرح کا انتخابی نظام نہیں رکھتا اور اس کی نظر میں کبھی بھی انتخابات کے کوئی معنی نہیں رہے ہیں بلکہ یہ حکومت ایک مطلق العنان حکومت شمار ہوتی ہے۔
سعودی عرب مشرق وسطی کے علاقے کا ایک با اثر ملک ہے لیکن ایک اہم نکتہ جو اس کے بارے میں مشہود ہے یہ ہے کہ سعودی عرب میں انتخابات، عوامی مشارکت اور حکومت میں عوام کے کردار کے سلسلے میں جمہوریت کے کمترین معیارات بھی دیکھنے کو نہیں ملتے۔ سعودی عرب کے سیاسی نظام میں آل سعود کے ہاتھوں میں اقتدار ہے۔ سیاسی اقتدار عبدالعزیز کے بیٹوں کے ہاتھوں میں گھومتا رہتا ہے، عبدالعزیز بن سعود آل سعود کی بادشاہت کا بانی تھا۔ اس ملک میں اقتدار بھائی سے بھائی کی طرف منتقل ہوتا ہے۔ صرف موت یا بغاوت ہی سعودی عرب میں حکمران کے بدلے جانے کا سبب بن سکتے ہیں۔
آل سعود کے سیاسی نظام میں سب سے زیادہ اختیارات بادشاہ کو حاصل ہیں، وہ ولی عھد، تین قوتوں کے سربراہوں، ججوں، مجلس شوری کے اراکین کو معزول اور منصوب کرسکتا ہے۔ بادشاہ ہی وزیروں کی کونسل کا سربراہ ہوتا ہے اسے کابینہ کو منحل کرنے کا حق ہوتا ہے اور یہ امور بادشاہ کی اہم ترین ذمہ داریوں میں شامل ہیں۔ دیگر الفاظ میں سعودی عرب میں قوتوں کے مستقل ہونے کا کوئی تصور نہیں ہے کیونکہ مجریہ کا سربراہ بادشاہ ہوتا ہے اور اگرچہ عدلیہ نمائشی طور پر مستقل حیثیت کی حامل ہے لیکن ججوں کو منصوب کرنا اور انہیں ریٹائر کرنا اور معزول کرنا بادشاہ کے حکم سے ہی انجام پاتا ہے۔
اسی کے ساتھ ساتھ مجلس شوری کے اراکین کو بھی بادشاہ ہی منتخب کرتا ہے اور حکومت کے کسی بھی فرد کے انتخاب میں عوام کا کوئی کردار نہیں ہے۔اس طرح کے سیاسی سسٹم میں نہ صرف بنیادی ترین انسانی حقوق کا خیال نہیں رکھا جاتا۔سعودی عرب میں شہری معاشرے کے ارکان بالخصوص سیاسی پارٹیاں اور میڈیا کی آزادی جیسی چیز ناپید ہے بلکہ دیگر ملکوں کے برخلاف نمائشی اور دکھاوے کے انتخابات بھی دیکھنے کو نہیں ملیں گے۔ سعودی عرب میں صرف دیہی اور شہری کونسلوں کے انتخابات ہوتے ہیں اور ان کونسلوں کے ایک تہائی اراکین کو عوام منتخب کرتے ہیں اور دیگر ارکان کو منصوب کیا جاتاہے۔
سعودی عرب میں سب پہلے بلدیہ کے انتخابات دوہزار پانچ میں ہوئے تھے اور بلدیہ کے دوسرے انتخابات دو برسوں کی تاخیر سے دوہزار گیارہ میں ہوئے تھے، ان انتخابات میں خواتین حصہ نہیں لے سکتی تھیں اور نہ انہیں ووٹ ڈالنے کا حق تھا۔ ان انتخابات میں بہت کم لوگوں نے شرکت کی تھی۔ دوہزار گیارہ سے عرب ملکون میں شروع ہونے والے احتجاج کے پیش نظر سعودی عرب کے سابق بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے اس خوف سے کہ کہیں یہ احتجاج اور مظاہرے سعودی عرب میں شروع نہ ہوجائیں خواتین کو بلدیہ کے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی اجازت دی۔
دوہزار پندرہ میں بلدیہ کے انتخابات میں تقریبا ایک ہزار خواتین نے حصہ لیا جن میں بیس خواتین دیہی اور شہرکونسلوں کی سیٹوں پر کامیابی حاصل کرپائیں۔ گرچہ دوہزار پندرہ کے بلدیاتی انتخابات میں خواتین کو حصہ لینے اور ووٹ ڈالنے کا حق حاصل تھا لیکن پھربھی خواتین کی مشارکت سینتالیس فیصد ہی تھی ان حالات کے باوجود اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے سیفر عبداللہ بن یحی المعلمی سے الجزیرہ ٹی وی کے ایک صحافی نے سوال کیا کہ سعودی عرب میں انتخابات نامی کوئی چیز نہیں ہے تو آپ کس طرح شام میں جمہوری حکومت لانے کے دعوی کرسکتے ہیں؟ اس سوال کے جواب میں سعودی سفیر نے یہ دعوی کیا کہ چونکہ سعودی حکومت دنیا میں سب سے زیادہ ہر دلعزیز حکومت ہے لہذا سعودی عرب میں انتخابات کرانے کی کوئی ضرورت محسوس نہیں ہوتی ہے۔