Apr ۰۹, ۲۰۱۷ ۱۹:۵۳ Asia/Tehran

عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد ابوالغیط نے شام میں جھڑپوں کے خاتمے اور اس ملک کی ارضی سالمیت کے تحفظ کی اپیل کی ہے۔

احمد ابوالغیط نے ہفتے کے دن قاہرہ میں نامہ نگاروں سے گفتگو کے دوران الشعیرات ایئربیس پر امریکہ کے حالیہ میزائل حملے کے بعد شام میں خطرے میں شدت پیدا ہونے کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ عرب لیگ، شام میں عام شہریوں کے قتل عام اور اس ملک کے اقتدار اعلی اور ارضی سالمیت کو خطرے میں ڈال کر سیاسی صورتحال میں استحکام لانے سے متعلق علاقائی اور عالمی کوششوں کے خلاف ہے۔ ابوالغیط نے شام کےتمام متحارب فریقوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس ملک کے بے گناہ عوام کی مشکلات پر حقیقی توجہ دیئےبغیر اپنی سیاسی کامیابیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے سے اجتناب کریں۔ امریکہ نے شام کے صوبۂ ادلب میں خان شیخون پر کیمیاوی حملے کے بہانے جمعرات کی رات شام کے صوبہ حمص میں واقع الشعیرات ایئربیس پر اچانک میزائل حملہ کر دیا۔ یہ حملہ بحیرہ روم میں امریکی بحری بیڑے سے کیا گیا اور امریکہ نے اس کے لئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے اجازت بھی حاصل نہیں کی تھی۔ یہ حملہ مشرق وسطی میں امریکہ کی مزید مداخلتوں اور خطے میں اس ملک کے اہداف و مقاصد کے حصول کے لئے مزید کوششوں کے سلسلے میں خطرے کی گھنٹی شمار ہوتا ہے۔اس حملے کے خلاف علاقائی اور عالمی سطح پر رد عمل ظاہر کیا گیا ہے۔

دریں اثناء عرب لیگ نے بحران شام کے بارے میں دیر سے اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے جس کے باعث رائے عامہ کی توجہ علاقائی بحرانوں خصوصا شام کے بحران سے متعلق عرب لیگ کی پالیسیوں پر مرکوز ہوگئی ہے۔ عرب لیگ کا یہ موقف درحقیقت شام کو تقسیم کرنے سے متعلق سازش کے خلاف ایک رد عمل ہے۔اس موقف سے اس تشویش کی عکاسی ہوتی ہے جو خطے کے لئے رچی جانے والی سازشوں کے بارے میں اس علاقے منجملہ عرب ممالک میں پائی جاتی ہے۔ یہ تشویش ایسی حالت میں پائی جاتی ہے کہ جب بہت سے عرب ممالک نے سازش رچنے والی مغربی طاقتوں کی پالیسیوں کو عملی جامہ پہنا رہے ہیں۔ عرب لیگ نے ایسی حالت میں شام کے بحران کے بارے میں تشویش ظاہر کی ہے کہ جب اس صورتحال کی وہ خود بھی کسی حد تک ذمےدار ہے۔ مغرب کی ڈکٹیشن کی بنا پر عرب لیگ کی پالیسیاں عرب لیگ میں شام کی رکنیت معطل ہونے پر منتج ہوئی ہیں۔ جس سے شام سے متعلق عرب لیگ کے غیر ذمےدارانہ فیصلوں کی نشاندہی ہوتی ہے۔ اس میں شک نہیں ہے کہ اس طرح کی پالیسیوں کی وجہ سےعرب لیگ کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ عرب لیگ نے غیر اہم مسائل پر اپنی توجہ مرکوز کر رکھی ہے اور وہ عرب ممالک سمیت علاقائی ممالک کے اہم مسائل اور مشرقی وسطی اور شمالی افریقا کے علاقے کو لاحق خطرات منجملہ جدید مشرق وسطی یا عظیم تر مشرق وسطی جیسے منصوبوں سے ، کہ جو درحقیقت اس خطے کے ممالک کی تقسیم پر مبنی امریکہ کی سازش ہے ، غافل ہو چکی ہے۔

ان حالات میں عرب لیگ کی جانب سے شامی عوام کی حمایت میں مزید اقدامات انجام دیا جانا، علاقائی بحرانوں سے متعلق پالیسیوں پر نظرثانی اور ان کے بارے میں منطقی اور آزادانہ پالیسیاں اختیار کیا جانا ضروری نظر آتا ہے۔ شام کے بارے میں عرب لیگ کا حالیہ موقف حالیہ برسوں کے دوران اس کی اختیار کردہ غیر ذمےدارانہ پالیسیوں سے کسی حد تک مختلف نظر آتا ہے اور اسے ایک مثبت قدم سمجھا جاسکتا ہے لیکن جب تک شام کے بارے میں عرب لیگ کے رویئے میں بنیادی تبدیلی نہیں آئے گی، وہ اپنی ماضی کی غلطیوں کا ازالہ نہیں کرے گی، شام کی رکنیت کو بحال نہیں کرے گی اور اس ملک کے اقتدار اعلی کی حمایت میں سنجیدہ اقدامات انجام نہیں دے گی اس وقت تک صرف بیان جاری کرنے سے ، کہ جو ایک نمائشی اور عوام کو فریب دینے پر مبنی اقدام شمار ہوتا ہے، شام کے بحران کے حل اور علاقائی ممالک کو لاحق خطرات دور کرنے میں کوئی مدد نہیں ملے گی۔ 

ٹیگس