Apr ۱۳, ۲۰۱۷ ۱۸:۳۲ Asia/Tehran
  • جنگ یمن میں سعودی عرب کے ساتھ تعاون کے منفی نتائج پر پاکستانی حکام کی تشویش

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے سینیٹ میں اس بات پر تاکید کی کہ اگر یمن مخالف سعودی عرب کے خود ساختہ اتحاد نے فرقہ واریت کو ہوا دی تو اسلام آباد اس اتحاد سے نکل جائے گا۔

خواجہ آصف کا یہ بھی کہنا تھا کہ راحیل شریف کو جب این او سی دیا جائے گا تو ہاؤس کے نوٹس میں لیکر آؤں گا، بائی پاس نہیں کیا جائے گا۔  پاکستانی وزیر دفاع کے یہ بیانات دوسری ہر چیز سے زیادہ  پاکستان اور خطے کی سطح پر ہونے والی وسیع مخالفت کے بعد دیئے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان کے سابق آرمی چیف ریٹائرڈ جنرل راحیل شریف کی جانب سے سعودی عرب کے نام نہاد یمن مخالف اتحاد کی قیادت قبول کئے جانے کے مخالفین نے جنگ یمن میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے تعاون کے منفی نتائج کی بابت خبردار کیا ہے اور اس تعاون کی مخالفت کی ہے۔ پاکستان اور خطے کے سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ فرقہ واریت یمن سے پاکستان میں منتقل ہوجائے گی۔ ایسا نظر آتا ہےکہ پاکستان کے فوجی اور سیکورٹی حکام کو بھی اب اس بات کا ادراک ہو رہا ہے۔

سعودی عرب نے یمن کے مفرور اور مستعفی صدر منصور ہادی کو اقتدار میں واپس لانے کے مقصد سے یمن کے خلاف مارچ سنہ دو ہزار پندرہ سے جارحیت شروع کر رکھی ہے، وہ اس دلدل میں مسلسل دھنستا جا رہا ہے اور اس کا خود ساختہ اتحاد بھی سعودی حکام کی مشکلات کو حل نہیں کرسکا ہے۔ پاکستان کے مذہبی امور کے سابق وزیر صاحبزادہ حامد سعید کاظمی  اور اپوزیشن نے بھی کہا ہے کہ سعودی عرب کا خود ساختہ اتحاد صرف امریکہ کی خدمت اور اس ملک کے مفادات کے حصول کے لئے تشکیل دیا گیا ہے اور پاکستان اس اتحاد میں شامل ہو کر امریکہ اور سعودی عرب کی ہی خدمت کرسکتا ہے۔

اس کے علاوہ ان کے بقول یہ اتحاد شیعہ اور سنی مسلمانوں کے درمیان اختلافات پیدا کرنے کے لئے وجود میں لایا گیا ہے اور پاکستان کو امریکہ، سعودی عرب اور صیہونی حکومت کے اس کھیل میں شامل نہیں ہونا چاہئے۔ ان حالات میں پاکستان کے سیاسی اور فوجی حکام یہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ اس اتحاد کے ساتھ اپنا تعاون جاری رکھنے کے پابند نہیں ہیں۔

پاکستانی وزیر دفاع کا یہ دعوی، کہ سابق آرمی چیف ریٹائرڈ جنرل راحیل شریف کو سعودی عرب کے خود ساختہ اتحاد کی قیادت سنبھالنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے، درحقیقت ملکی سطح پر مسلم لیگ ن پر ہونے والی تنقیدوں میں کمی لانے کے لئےکیا گیا ہے کیونکہ پاکستان کی رائے عامہ کے نزدیک وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے اس طرح کی اجازت کی وجہ خود غرضی ہی ہوسکتی ہے۔

حکومت کے مخالفین نواز شریف پر الزام لگاتے ہیں کہ انہوں نے سعودی عرب کے خود ساختہ اتحاد میں شامل نہ ہونے سے متعلق پارلیمنٹ کی منظور کردہ قرارداد کو نظر انداز کرتے ہوئے ذاتی، جماعتی اور خاندانی مفادات کو پیش نظر رکھا ہے اور قومی مفادات کو سعودی حکام کی خوشنودی کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔سعودی عرب کے خود ساختہ اتحاد میں پاکستان کے شامل ہونے کے ناقدین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب پاکستان کو یمن کے دلدل اور فرقہ وارانہ جنگوں میں دھکیلنا چاہتا ہے۔ واضح رہے کہ یمن میں سعودی عرب کے جرائم و مظالم میں شدت پیدا ہونے کی وجہ سے عالمی سطح پر سعودی عرب کی مخالفت کی جا رہی ہے۔

یمن پر سعودی عرب کے حملوں کے نتیجے میں گیارہ ہزار سے زیادہ یمنی شہری شہید اور کئی ہزار زخمی ہو چکے ہیں جبکہ لاکھوں افراد بے گھر ہوئے ہیں۔ یمن پر فضائی حملوں کے ذریعے اپنے مقاصد میں ناکامی کے بعد سعودی عرب نے اس ملک میں زمینی جنگ پر توجہ دی ہے اور اس کے لئے انہوں نے پاکستان کے سابق آرمی چیف ریٹائرڈ جنرل راحیل شریف کو سعودی اتحاد کی قیادت دینےکے لئے منتخب کیا ہے۔ البتہ اس بات کے امکانات بہت زیادہ ہیں کہ اسلام آباد حکومت کو اس اقدام کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔  

 

ٹیگس