Apr ۱۶, ۲۰۱۷ ۱۶:۴۳ Asia/Tehran
  • سعودی عرب جارحیت پر اصرار

سعودی عرب کے وزیر دفاع کے مشیر احمد عسیری نے کہا ہے کہ ریاض یمن میں جنگ بندی تسلیم نہیں کرے گا۔ اس سے قبل سعودی عرب تحریک انصاراللہ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کرنے کا الزام لگاتا آ رہا تھا۔

احمد عسیری نے پیریس میں ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ریاض یمن میں جنگ بندی کا مخالف ہے۔ ادھر یمن کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے اسماعیل ولد شیخ احمد نے اس سے پہلے کہا تھا کہ یمن کے بحران کو حل کرنے کے لئے سیاسی عزم اور نیک نیتی ضروری ہے۔ ریاض ایسے حالات میں یمن میں جنگ بندی کی مخالفت کررہا ہے کہ سعودی امریکی طیاروں نے مرکزی یمن کے شہر مآرب  پر بمباری کی ہے۔ دراین اثنا یمن میں انسانی حقوق اور ترقیاتی امور کے مرکز نے رپورٹ دی ہے مارچ دوہزار پندرہ سے جب سے سعودی عرب کی جارحیت شروع ہوئی ہے بارہ ہزار اکتالیس عام شہری شہید  ہوئے ہیں کہ جن میں چار ہزار چار سو عورتیں اور بچے شامل ہیں۔

سعودی حکومت کی جانب سے جنگ جاری رکھنے پر اصرار اور روزانہ یمن میں  بچوں اور عورتوں کا قتل عام جاری رکھنا جو کہ کم ترین وسائل و ذرائع کے سہارے آل سعود کی جارحیت کا مقابلہ کررہے ہیں اور انہوں نے سعودی عرب کی تمام سازشیں نقش برآب کردی ہیں سعودی عرب کی جنگ پسندی کو ظاہر کرتا ہے۔ سعودی عرب کے حکام جنہوں نے پچیس مارچ دوہزار پندرہ کو یمن پر وحشیانہ جارحیت شروع کرنے سے پہلے یہ کہا تھا کہ وہ ایک ہفتے میں یمن کی جنگ ختم کردیں گے لیکن آج اس جنگ کو دو سال ہورہے ہیں اور وہ اپنے خود ساختہ دلدل سے نکلنے کے لئے مغرب کے انسانی حقوق کے دعویداروں امریکہ اور برطانیہ کے دئے ہوئے ہتھیاروں سے یمن کے نہتے باشندوں کے سروں پر بم برسارہے ہیں۔ سعودی عرب نے امریکہ اور برطانیہ کی حمایت سے مارچ دوہزار  پندرہ میں یمن پر حملے شروع کئے تھے اور ان کا مقصد اپنے پٹھو مفرور صدر عبد ربہ منصور ہادی کو دوبارہ اقتدار میں لانا ہے۔

اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے دعویداروں نے بھی یمن پر سعودی عرب کی جارحیتوں پر خاموشی سے سعودی عرب کے اتحاد کی جنگی مشینری کو جاری رکھا ہے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے سعودی عرب کا نام بچوں کی قاتل حکومت کی سیاہ فہرست سے نکالنے اور مغرب کی جانب سے سیاسی اور فوجی حمایت جاری رکھا جانا بالخصوص امریکہ اور صیہونی حکومت کی حمایت کے جاری رہنے  سے سعودی عرب کے ہاتھوں یمنی عوام کی نسل کشی جاری ہے۔ یہ ایسے عالم میں ہے کہ سعودی عرب کی جارحیت اور یمن کا محاصرہ ختم کرنا صرف جنگ بندی کی راہ سے میسر ہوسکتا ہے لیکن یمن پر سعودی عرب کی جارحیت کے جاری رہنے سے مذاکرات کا کوئی روشن اور مثبت مستبقل تصور نہیں کیا جاسکتا کیونکہ جارحیت اور محاصرے کا جاری رہنا مفاہمت اور جنگ بندی سے ہرگز ساز گار نہیں ہے۔

یہ ایسے حالات میں ہے کہ یمن کے خلاف سعودی عرب کی سربراہی میں جارح اتحاد نے کبھی بھی یمن میں جنگ بندی کی  پابندی نہیں کی ہے۔یمن میں اقوام متحدہ کی کوششوں کے تحت متعدد مرتبہ جنگ بندی عمل میں آئی ہےلیکن سعودی عرب نے اپنی جارحیت جاری رکھی ہے ۔ یاد رہے سعودی کی جارحیت کی بنا پر  یمن میں ہر طرح کے امن مذاکرات ناکام رہے ہیں۔ آل سعود کی جانب سے یمن میں جنگ بندی کی مخالفت اور اس راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنےسے عالمی رائے عامہ اس امر کی طرف متوجہ ہوگئی ہے کہ سعودی عرب ہی جنگ بندی میں بنیادی رکاوٹ ہے اور اپنی خلاف ورزیوں اور مداخلتوں سے یمن میں بحران کے جاری رہنے کا سبب ہے یہ ایسے عالم میں ہے کہ آل سعود نے یمن پر حملوں میں تیزی لاکر حالات مزید خراب کردئے ہیں اور یمنی گروہوں کے مذاکرات کو ناکامی سے ہمکنار کر دیا ہے۔

ٹیگس