دہشت گردی کے تعلق سے سعودی عرب کی الزام تراشی
سعودی عرب کے ولیعہد اور وزیر داخلہ محمد بن نائف نے ریاض میں خلیج فارس تعاون کونسل کے وزرائے داخلہ، خارجہ اور دفاع کے اجلاس میں علاقے کو درپیش سیاسی، سیکورٹی، فوجی اور اقتصادی چیلنجوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ علاقےکو دہشت گردی سے بہت زیادہ خطرہ لاحق ہے۔
سعودی عرب کے ولیعہد اور وزیر داخلہ نے کہ جن کے ملک پر شام اور عراق میں دہشت گرد گروہوں کی مالی ، سیاسی اور لاجسٹیک مدد و حمایت کا الزام ہے، کہا ہے کہ علاقہ انتہائی خطرناک سیاسی ، سیکورٹی ، فوجی اور اقتصادی مشکلات سے دوچار ہے اور اسے بدترین تشدد اور دہشت گردی کا بھی سامنا ہے۔ سعودی عرب کے ولیعہد نے اسی طرح دعوی کیا کہ خلیج فارس تعاون کونسل کے ممبر ملکوں کے سربراہوں نے اپنے اجلاس میں ممبرملکوں کی ترقی و پیشرفت کے بارے میں تبادلۂ خیال کیا ہے- سعودی حکام کے مواقف پر نظر ڈالنے سے واضح طور پر اس سلفی اور تشدد پسند حکومت کے توسط سے تکفیری دہشت گردی کو فروغ دینے اور رائے عامہ کو منحرف کرنے کے سلسلے میں، سعودی حکومت کے ہتھکنڈوں اور تخریبی کردار کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے- سعودی حکام ایسے میں علاقے میں تشدد اور دہشت گردی کے فروغ کے بارے میں خبردار کر رہے ہیں کہ وہابی افکار و نظریات کی حامل آل سعود حکومت ، علاقے اور عالمی سطح پر سلفیت اور تکفیری دہشت گردی کا سرچشمہ ہے- وہابیت ، دہشت گردی کی اصل و اساس ہے- طالبان سے لے کر داعش سمیت تمام انتہاپسند اور دہشت گرد گروہ وہابی افکار کے پروردہ ہیں - سعودی عرب ، وہابی و سلفی افکار کی ترویج کرنے والے ملک کی حیثیت سے دنیا کے مختلف علاقوں میں دہشت گردوں کی پرورشگاہ ہے-
سعودی عرب دنیا میں دہشت گردی کی سوچ کو پروان چڑھانے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ سعودی عرب کی ملکی اور غیر ملکی سرگرمیوں پر ایک نظر ڈالنے سے پتہ چل جاتا ہے کہ خطے اور دنیا کی سطح پر دہشت گردی میں ملوث اکثر عناصر کا تعلق یا تو سعودی عرب سے ہے یا وہ سعودی عرب کی وہابیت سے متاثر ہیں اور ان کو آل سعود کی مالی اور اسلحہ جاتی حمایت حاصل ہے۔ ان دہشت گرد گروہوں کی جڑ وہابیت کے غلط اور انتہا پسندانہ نظریات ہی ہیں۔ ان غلط عقائد نے ہی خطے اور دنیا میں آل سعود کی دہشت گردانہ کارروائیوں میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ جیسا کہ اس وقت سعودی عرب کے حمایت یافتہ دہشت گردہ گروہ منجملہ داعش اور القاعدہ افریقا، ایشیا حتی یورپ میں انصار الشریعہ، بوکوحرام اور الشباب ناموں کے ساتھ سرگرم ہیں اور یہ گروہ عالمی سلامتی کے لئے خطرے کی گھنٹی ہیں۔
وکی لیکس کی دستاویزات کے مطابق امریکہ کی سابق وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے یہ اعتراف کیا تھا کہ سعودی عرب دنیا بھر میں دہشت گرد گروہوں کی مالی حمایت کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب نائن الیون کے دہشت گردانہ واقعے کے ملزمین میں سے بھی اکثر کا تعلق سعودی عرب سے ہی ہے۔ گیارہ ستمبرکے حملوں سے متعلق تیار کی جانے والی رپورٹ سے ان اٹھائیس صفحات کے نکال دیئے جانے سے ، کہ جن میں ان دہشت گردانہ واقعات میں سعودی عرب کے کردار کا ذکر کیا گیا تھا، اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ سعودی عرب براہ راست دہشت گردی میں ملوث ہے لیکن واشنگٹن ، ریاض کے ساتھ تعاون کی وجہ سے ان حملوں میں سعودی عرب کے کردار کے منظر عام پر آنے کا مخالف ہے۔ کہا گیا ہے کہ سعودی عرب سے متعلق صفحات کو رپورٹ سے نکالنے میں امریکہ کی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان اقدامات سے گیارہ ستمبر کے واقعے میں آل سعود کے ملوث ہونے ، خطے میں ریاض کے اقدامات اور دہشت گرد گروہ وجود میں لانے سے سی آئی اے کے باخبر ہونے کی بھی نشاندہی ہوتی ہے۔ یہ بات اب کسی پر پوشیدہ نہیں ہے کہ سعودی حکومت نے وہابی افکار کےمرکز اور افغانستان سے لے کر امریکہ تک دنیا بھر میں دہشت گرد بھیجنے والے ملک کی حیثیث سے دہشت گردی کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ شام، عراق، یمن ، امریکہ اور یورپی ممالک میں سیکڑوں سعودی شہریوں کی گرفتاریاں اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ اس میں شک نہیں ہے کہ اگر خطے کے دقیانوسیعرب ممالک خصوصا سعودی عرب اور مغربی ممالک کی حمایت اور مدد نہ ہوتی تو دہشت گرد گروہ اپنی کارروائیوں کا دائرہ اس حد تک نہیں بڑھا سکتے تھے۔ تکفیری دہشت گرد گروہ صرف عراق اور شام میں ہی نہیں بلکہ وہ شمالی افریقہ کے بہت سے ممالک مثلا مصر، لیبیا اور تیونس میں بھی سرگرم ہو چکے ہیں۔ دہشت گردی کی برآمدات کو تیل کے بعد سعودی عرب کی دوسری بڑی برآمدات قرار دیا جاسکتا ہے اور سعودی عرب تخریب کاری پر مبنی اپنے اقدامات کی وجہ سےدنیا بھر میں دہشت گردانہ نظریات پروان چڑھانے اور دہشت گردوں کی مدد کرنے والے سب سے بڑے ملک میں تبدیل ہوچکا ہے۔