عرب ممالک میں جاری بحرانوں سے فائدہ اٹھانے پر مبنی احمد ابوالغیط کا بے بنیاد دعوی
عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد ابوالغیط نے عرب ممالک کے بحرانی صورتحال سے دوچار ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ اس صورتحال کا جاری رہنا اسلامی جمہوریہ ایران کے فائدے میں ہے۔
عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل نے دوبئی میں عرب ذرائع ابلاغ کے سولہویں سیمینار کی افتتاحی تقریب میں مزید کہا کہ اس وقت عرب لیگ جس مرحلے میں ہے اس سے عرب ممالک کی صورتحال کی عکاسی ہوتی ہے اور اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ عرب لیگ مایوسی کا شکار ہو چکی ہے کیونکہ عرب ممالک اس صورتحال کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ابوالغیط نے اس بات کو بیان کرتے ہوئے کہ عرب ممالک میں بحرانوں کے باوجود عرب لیگ کے لئے کوئی اور متبادل موجود نہیں ہے کہا کہ ہم کیا چیز تشکیل دیں خاص طور پر اس بات کے پیش نظر کہ عرب ممالک کے درمیان ایک گرانقدر وجہ مشترک پائی جاتی ہے اور وہ یہ کہ ان سب کی زبان ایک ہی ہے۔ اس کے علاوہ ہمارا کلچر اور مفاہیم بھی ایک جیسے ہیں۔
عرب دنیا کو کئی برسوں سے سیاسی، اقتصادی اور سیکورٹی میدانوں میں بدترین صورتحال کا سامنا ہے۔ عرب دنیا میں سنہ 2011 ع میں مغربی ایشیا اور شمالی افریقہ میں عوامی تحریکیں شروع ہوئیں اور اس کے بعد شام کا بحران کھڑا کیا گیا جس کے نتیجے میں خطے میں دہشت گردی کا راستہ ہموار ہوگیا۔ ان سارے برسوں کے دوران عرب ممالک کو بحران کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان سیاسی اور سیکورٹی بحرانوں میں اقتصادی بحران کو بھی شامل کرنا چاہئے۔ سعودی عرب سمیت بعض عرب ممالک کی سیاست بازی کے نتیجے میں عرب دنیا کے عوام کو اب اس کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔
مصر، لیبیا اور بحرین میں غیر ملکی مداخلت کے نتیجے میں عوامی تحریکوں کے کامیاب نہ ہونے ، آمروں کے اقتدار کی بقا اور شام کے بحران کے جاری رہنے کے باعث عرب دنیا میں سیاسی بدامنی، جنگ اور تشدد اپنے عروج کو پہنچ گیا۔ ان حالات میں عرب لیگ کی کارکردگی کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور عرب لیگ سیاسی طور پر بعض ممالک کے زیر اثر ہونے کی وجہ سے اپنا اثر کھو چکی ہے مثلا لیبیا میں عوامی تحریک شروع ہونے کے بعد یہ ملک دہشت گردوں کے گڑھ میں تبدیل ہوگیا۔ جس سے عرب لیگ کی غفلت کی نشاندہی ہوتی ہے اور شام کے معاملے میں بھی عرب لیگ نے اپنے ایک اہم اور آزاد رکن ملک کی حیثیت سے عرب دنیا کے دشمنوں کی سازشوں سے شام کا دفاع کرنے کے بجائے دشمنوں سے ہم آہنگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے شام کو عرب لیگ سے ہی خارج کر دیا ۔ لیبیا کے حالات کے سلسلے میں عرب لیگ کی غفلت، اور شام میں دہشت گردوں کے حامیوں سے عرب لیگ کی ہم آہنگی کا نتیجہ عرب دنیا میں جنگ، تشدد اور انتہاپسندی کی صورت میں برآمد ہوا اور عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل نے یہ درست کہا ہے کہ عرب لیگ بدترین دور سے گزر رہی ہے لیکن انہوں نے عرب لیگ کی ناکامی کا الزام دوسروں پر لگانے کی کوشش کی ہے۔
عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل نے عرب دنیا کی مشکلات حل کرنے کے سلسلے میں عرب لیگ کی ناکامی پر پردہ ڈالنے کے لئے دعوی کیا کہ ایران اپنی سرحدوں میں توسیع لانے کے لئے کوشاں ہے۔ اسی وجہ سے وہ عرب دنیا میں جاری بحران سے فائدہ اٹھارہا ہے۔ یہ دعوی ایسی حالت میں کیا گیا ہے کہ جب اسلامی جمہوریہ ایران شفاف کارکردگی کے ساتھ اور علاقے میں قیام امن کی خاطر دو عرب ملکوں میں دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں ان ملکوں کی حکومتوں کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایران کی جانب سے شام اور عراق کی مدد کئے جانے سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ ایران کی پالیسی ایک دوستانہ پالیسی ہے اور ایران یہ سمجھتاہے کہ خطے کے دوسرے ممالک کے مفادات اور سلامتی میں ہی اس کے مفادات اور سلامتی مضمر ہے۔
ایران نے اپنی ساری تاریخ میں کبھی بھی دوسرے ممالک کو للچائی ہوئی نظروں سے نہیں دیکھا ہے اور ایران کی عصر حاضر کی تاریخ بھی امن و دوستی سے بھری پڑی ہے۔شام اور عراق میں دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں ایران کا عربوں کے ساتھ کھڑا ہونا اپنے اندر عرب دنیا کے لئے امن اور دوستی کا پیغام لئے ہوئے ہے۔