سعودی عرب کی حماقت کا اسے سخت جواب دیں گے: وزیر دفاع ایران
ایران کے وزیر دفاع نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ایران کے خلاف کسی حماقت کا مرتکب ہوا تو مکہ اور مدینہ کے علاوہ اس ملک کا کوئی بھی علاقہ محفوظ نہیں رہے گا-
المنار ٹی وی کے ساتھ انٹرویو میں اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر دفاع میجر جنرل حسین دہقان نے سعودی عرب کے وزیر دفاع محمد بن سلمان کے ایران مخالف بیان پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب نے ایران کے خلاف کسی حماقت کا ارتکاب کیا تو اسے منہ کی کھانی پڑے گی۔
ایران کے وزیر دفاع نے کہا کہ آج ہم مشاہدہ کر رہے ہیں کہ سعودی عرب امریکہ اور اسرائیل کی پشت پناہی اور حمایت پر فخرکرتا ہے جبکہ سعودی عرب امریکہ اور اسرائیل کی پیروی اور اطاعت کرتے ہوئے غلط راستے پر گامزن ہوگیا ہے جس کا اسے تاوان ادا کرنا پڑے گا۔ میجر جنرل دہقان نے کہا کہ سعودی عرب خطے میں بہت سی حماقتوں کا ارتکاب کرچکا ہے جس میں یمن، عراق اور شام کے خلاف سعودی عرب کی کھلی سازشیں اور تکفیری دہشت گردوں، امریکہ اور اسرائیل کی حمایت شامل ہیں۔ لیکن اگر سعودی عرب نے ایران کے خلاف کسی حماقت کا ارتکاب کیا تو ایران کی طرف سے اسے سخت جواب ملے گا ۔ اسلامی جمہوریہ ایران کبھی غاصبانہ قبضے یا کسی ملک پر حملے کے درپے نہیں رہا ہے لیکن وہ بارہا خبردار کرچکا ہے کہ جارح عناصر کا منھ توڑ جواب دینے میں ذرہ برابر بھی تامل نہیں کرے گا اور اپنا بھرپور دفاع کرے گا-
آل سعود کے حکمراں کہ جنہوں نے علاقے اورعالم اسلام کو جنگ و تشدد اور انتہا پسندی کی آگ میں جھونک دیا ہے اس وقت وہ غلط راستے کو ترک کرنے کے بجائے ایران کو بھی دھمکی دے رہے ہیں- ایسی دھمکی کہ جو ان کی اوقات سے بڑھ کر ہے- سعودی عرب کے شاہی نظام میں جو نئی نسل وجود میں آئی ہے وہ علاقے میں اپنی برتری اور بالا دستی کا خواب دیکھ رہی ہے اور یہ چیز سعودی عرب کے ماضی کے حکمرانوں کے موقف کے برخلاف ہے اس لئے کہ سابق حکمرانوں کی کوشش تھی کہ علاقے کے مسائل کے بارے میں محتاط موقف اختیار کریں- یہ نسل کہ جس کے علمبردار اس ملک کے وزیر دفاع اورنائب ولیعہد محمد بن سلمان ہیں، کا خیال ہے کہ سعودی عرب کو علاقے میں جرات مندانہ اقدامات کے ذریعے اپنی کھوئی ہوئی اصلی پوزیشن کو حاصل کرنا چاہئے-
بحرین کے شیعہ مسلمانوں کو سرکوب کرنے کے لئے سعودی فوجیوں کو بحرین روانہ کیا جانا، یمن پر وحشیانہ حملے، منی کا المناک واقعہ، اور سعودی عرب کے ممتازعالم دین شیخ نمر کو سزائے موت دیا جانا وہ اقدامات ہیں کہ جن سے سعودی عرب میں اقتدار پر براجمان ہونے والے نئے حکمرانوں کی جارحانہ ذہنیت کا اندازہ ہوجاتا ہے- محمد بن سلمان نے عملی طورپر ثابت کردیا ہے کہ سعودی عرب کی نئی حکمت عملی جارحیت اور یلغار پر مبنی ہے اور وہ اس کوشش میں ہے کہ علاقے میں ریاض کے کردار کو برتر طاقت کے طورپر مسلط کرے - اور یہ کام علاقے میں محمد بن سلمان کے امریکہ ، برطانیہ اور اسرائیل سے ملحق ہونے کے بعد تکمیل پا رہا ہے-
یہ ایسی حالت میں ہے کہ سعودی عرب کو بہت زیادہ سیاسی ، اقتصادی اور سیکورٹی مسائل کا سامنا ہے کہ جو ممکن ہے آل سعود کے فرسودہ شاہی نظام کا شیرازہ بکھرجانے پر منتج ہوجائے- اس کے علاوہ سعودی عرب کی زیادہ تر پالیسیاں علاقے میں صیہونی حکومت کو گوشہ عافیت فراہم کرنے کے لئے ترتیب دی گئی ہیں- ریاض کو اتنی زیادہ چاپلوسی اور تملق کے باوجود اس بات میں شک ہے کہ وہ ماضی کی مانند امریکہ پر حد سے زیادہ بھروسہ کرسکے گا- اس لئے ایسا خیال کیا جا رہا ہے کہ سعودی عرب مہم جوئی اور موجودہ صورتحال کو تبدیل کرنے کے درپے ہے- لیکن یہ بات حقیقت کے طور پر کہی جا سکتی ہے کہ سعودی عرب کا نظام، علاقے اور دنیا میں جاری تبدیلیوں کے ساتھ ، مناسب پیشرفت سے بہرہ مند نہیں ہے اور اسی سبب سے اسے عملی طورپر علاقے میں اپنی مداخلت پسندانہ پالیسیوں میں ناکامی کا منھ دیکھنا پڑا ہے-
اس مسئلے کے باوجود سعودی حکام کا خیال ہے کہ وہ علاقائی رقابتوں اور جارحانہ پالیسیوں میں شدت لاکر علاقے میں اپنی پوزیشن بحال کرسکتے ہیں- لیکن یہ محض ایک وہم ہے- وہ چیز جسے سعودی حکمرانوں کو جان لینا چاہئے ، ایران کے وزیر دفاع نے اسے المنار ٹی وی چینل کے ساتھ اپنی مختصر لیکن معنی خیز گفتگو میں بیان کردیا ہے- اس لئے اگر سعودی عرب کی نئی نسل کے حکمرانوں کے درمیان ذرہ برابر بھی فہم و فراست ہوگی تو ان کو اپنی اوقات پہنچاننا ضروری ہے اور یہ بھی جان لینا چاہئے کہ جب امریکہ اور اسرائیل میں بھی ایران پر حملہ کرنے کی جرات نہیں ہے تو ان کی کیا اوقات ہے- اس لئے کہ اگر انہوں نے کوئی بھی غیرعاقلانہ قدم اٹھایا تو وہ ایسے دلدل میں پھنس جائیں گے کہ جس سے پھر وہ نکل نہیں سکیں گے-