May ۰۹, ۲۰۱۷ ۱۶:۵۹ Asia/Tehran
  • سعودی عرب میں یونسکو اجلاس کے انعقاد پر وسیع پیمانے پر تنقید

ہیومن رائٹس واچ نے پیر کے روز ریاض میں اقوام متحدہ کے ایک اجلاس کے انعقاد پر نکتہ چینی کرتے ہوئے اسے سعودی عرب کی جیلوں میں قید انسانی حقوق کا دفاع کرنے والوں کی توہین قرار دیا ہے کہ جس کے باعث اس ملک کی آزاد و خودمختار غیر سرکاری تنظیموں کو سرگرمی کی اجازت نہیں ہے-

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارہ برائے تعلیمی، ثقافتی، اور سائنسی امور یونسکو کی جانب سے  گذشتہ ہفتے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں غیرسرکاری تنظیموں کی آرگنائزیشن کا ایک اجلاس، جوانوں اور ان پر پڑنے والے سماجی اثرات کے زیرعنوان منعقد ہوا - مشرق وسطی کے لئے ہیومن رائٹس واچ کے محقق ایڈم کوگل  Adam Coogle  نے لکھا ہے کہ غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندوں کی موجودگی میں اس قسم کے اہم اجلاس کا انعقاد ان دسیوں سعودی باشندوں کی توہین ہے کہ جو اس ملک میں آزاد و خودمختار تنظیموں کی تشکیل کے الزام میں جیلوں میں قید ہیں اور ان لوگوں کے لئے غیر متوقع پاداش ہے جو اس اجلاس کے منعقد کرنے والے ہیں-

سعودی عرب نے دوہزار پندرہ میں ایک نمائشی اقدام میں ، ایک قانون منظور کرنے کے ذریعے پہلی بار غیر سرکاری تنظیموں کواس بات کی اجازت دی کہ وہ غیر خیراتی سرگرمیوں میں حصہ لے سکتے ہیں- لیکن آل سعود کے اس تشہیراتی اقدام کے باعث، ٹھوس مسائل پیش آگئے ہیں اس لئے کہ  یہ قانون سعودی حکام کو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ وہ غیر سرکاری تنظیموں کے لئے اجازت نامہ صادر کرنے سے پرہیز کریں اور یا اس سلسلے میں سرگرم کارکنوں کو گرفتار کرلیں - بہرحال  بین الاقوامی اداروں خاص طور پر اقوام متحدہ کی جانب سے سعودی اقدامات سے چشم پوشی، کہ جو خود اقوام متحدہ کے اعتراف کے مطابق اس ملک میں انسانی اصولوں کی واضح خلاف ورزی ہے اورجس میں جمہوری قوانین کی کوئی علامت بھی نظر نہیں آتی، سعودی عرب کے سامنے اقوام متحدہ کے تسلیم ہونے کی آئینہ دار ہے-

اپنے ملک میں سیاسی فضا کو زیادہ سے زیادہ محدود کرنا اور گھٹن کا ماحول پیدا کرنا عوام کے سماجی اور شہری حقوق کو زیادہ سے زیادہ پامال کرنا یہ ایسے امور ہیں جن  سے اہل عالم کے سامنے اس حکومت کی ماہیت کھل کر سامنے آجاتی ہے۔ آل سعود کے ہاں حکومت موروثی ہے اور عوام حکومت کی تشکیل میں کسی طرح کا کوئی کردار نہیں رکھتے ہیں، انہیں قانون سازی میں بھی شرکت کرنے کا حق نہیں ہے یہ ایسے عالم میں ہے کہ سعودی عرب میں جہموریت کی علامتوں جیسے انتخابات، سیاسی پارٹیوں، میڈیا کی آزادی نام کی کوئی چیز نہیں ہے ۔آل سعود کی حکومت کی انسانیت سوز پالیسیاں اور عالمی اداروں کی طرف سے اس کی حمایت اس بات کا موجب بنی ہے کہ سعودی عرب میں وسیع پیمانے پر انسانی حقوق پامال  کئے جائیں ۔

 آل سعود کی حکومت جو عوام کو کچلنے اور تشدد آمیز پالیسیوں پرعمل کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتی اور کسی حد وحدود کی بھی قائل نہیں ہے اس نے عملا سعودی عرب کو انسانی حقوق کی پامالی کا مرکز بنارکھا ہے اور عالمی سطح پر اس بات کے چرچے ہیں۔ قانونی ادارے سعودی عرب کے حکام کے انسانیت سوز اقدامات کے خلاف عالمی اداروں کے سنجیدہ اقدامات کے خواہاں ہیں۔ مغربی ملکوں کی حمایت سے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں سعودی عرب کی دوبارہ رکنیت سے عالمی برادری کو نہایت حیرت ہے۔

سعودی معاشرے میں خواتین بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔ بلکہ سعودی حکومت خواتین کے لیے انسانی حقوق کو قبول ہی نہیں کرتی۔  سعودی عرب دنیا کا ایسا ملک ہے جہاں پر خواتین کی شرح ملازمت سب سے کم ہے  ۔ عورتوں کو رسمی تجارت کی اجازت  نہیں ہے۔ خواتین میجمنٹ کے عہدے پر کام نہیں کرسکتیں۔ کسی بھی طرح کا کام کرنے کے لیے خواتین کو وزارت امور اسلامی سے اجازت نامہ حاصل کرنا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ اپنے سرپرست سے بھی قانونی طور پر اجازت لینا لازمی ہے۔ جو عورتیں ملازمت کرتی ہیں ان کی تنخواہوں کا اوسط مردوں کی تنخواہوں سے بہت کم ہے۔

سعودی عرب میں لڑکیوں کی جبری شادیاں عام سی بات ہے۔ لڑکیوں کے والدین انہیں اطلاع دیئے بغیر کسی سے بھی ان کا نکاح کراسکتے ہیں۔ العربیہ ٹی وی چینل کے مطابق، دنیا بھر میں جبری شادیوں کے معاملے میں سعودی عرب سرفہرست ہے۔ سعودی عرب دنیا کا واحد ملک ہے جہاں پر عورتیں ڈرائیونگ نہیں کرسکتیں، مردوں میں تقریر نہیں کرسکتیں، قبرستانوں میں انہیں جانے کی اجازت نہیں ہے، بینک اکاؤنٹ اپنے نام سے نہیں کھول سکتیں، ملکیت کو خرید سکتی ہیں نہ بیچ سکتی ہیں اور نہ ہی وہ عدالت میں کسی طرح کی شکایت کرسکتی ہیں۔

بہرحال ایسے میں جبکہ رائے عامہ سعودی عرب کے انسانیت سوز اقدامات کے خلاف ٹھوس کارروائی کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے ، اس حکومت کا اقوام متحدہ کے سماجی و قانونی اداروں اور تنظیموں اور کمیشنوں سے الحاق اور اس ملک میں قانونی و سماجی اجلاسوں کے انعقاد نے اقوام عالم کو متحیر کردیا ہے- بلا شبہہ حالیہ برسوں میں سعودی عرب میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی میں شدت آنا عالمی اداروں کی جانب سے آل سعود کے خلاف ٹھوس اقدام عمل میں نہ لائے جانے کا نتیجہ ہے-

 

 

       

ٹیگس