ٹرمپ کے دورۂ سعودی عرب کے موقع پر ایران کے خلاف امریکی وزیرخارجہ کا پروپیگنڈہ
امریکی وزیر خارجہ نے ایران کے خلاف بے بنیاد الزامات عائد کرتے ہوئے مشرق وسطی میں اسے دہشت گردی کا حامی اور عدم استحکام کا عامل قرار دیا ہے-
امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن نے اتوار کو این بی سی چینل کے ساتھ گفتگو میں ان بے بنیاد الزامات کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کے دورۂ ریاض، تل ابیب اور ویٹیکن کا مقصد " ایران کے خلاف اتحاد قائم کرنا ہے-
ٹیلرسن نے اس انٹرویو میں علاقے میں امریکہ کے تخریبی کردار کی پردہ پوشی کرتے ہوئے دعوی کیا کہ امریکی صدر ٹرمپ علاقے کی قوموں اور مذاہب کے درمیان رابطہ برقرار کرنے کے درپے ہیں- امریکی وزیر خارجہ یہ دعوی ایسے میں کر رہے کہ جب امریکہ کی فوجی مداخلتوں نے علاقے کی صورتحال کو جنگ ، آشوب اور تقسیم ہونے سے دوچار کردیا ہے- مغربی ایشیاء کی افسوسناک موجودہ صورتحال ، کہ جو امریکہ ، اسرائیل اور سعودی عرب کی حمایت سے دہشت گرد گروہوں کی جولانگاہ بن چکی ہے ، اسی حقیقت کا ثبوت ہے- امریکہ نے مغربی ایشیاء سے شمالی افریقہ تک کے علاقوں میں امن قائم کرنے کے بہانے اپنے یکطرفہ اقدامات کے ذریعے اس پورے علاقے کو جنگ کی آگ میں جھونک دیا ہے - امریکہ نے گذشتہ چار عشروں کے دوران عملی طور پربارہا یہ ثابت کیا ہے کہ وہ علاقے میں امن و امان قائم کرنے کے درپے نہیں ہے اور حقیقی دھمکیوں اور خطرات کا مقابلہ کرنے کے لئے کوئی موثر قدم نہیں اٹھایا ہے-
امریکہ نے داعش دہشت گرد گروہ کی جو مدد کی ہے اس سے اس دہشت گرد گروہ کو پرامن ماحول میں سرگرمیاں جاری رہنے کا موقع فراہم ہوا ہے- جیسا کہ اس سے قبل بھی القاعدہ کی حمایت سے وہ مشرق وسطی کے علاقے پر تسلط اور اثرو نفوذ کے درپے رہا ہے- امریکی اقدامات سے، علاقے اور دنیا کی قوموں کو دہشت گردی ، جنگ ، تقسیم اور بدامنی میں شدت کے سوا اور کچھ حاصل نہیں ہوا ہے- آج ایران کے پڑوسی ممالک دہشت گردی اور بدامنی کا شکار ہیں - لیکن امریکہ ایران کے خلاف اتحاد قائم کرنے کی کوشش میں ہے اور اس طرح سے حقائق کو تبدیل کرنا چاہتا ہے- ایران کے خلاف امریکی وزیر خارجہ کا بیان ایک طرح سے ایرانو فوبیا کا تسلسل ہے-
علاقے میں سفارتی سرگرمیاں بھی عرب ملکوں کی ہم آہنگی سے، امریکی اقدامات میں شدت لانے اورایران کے خلاف نام نہاد عرب اتحاد تشکیل دینے کے مقصد سے ہے- بعض خبری اور سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ،علاقے کے بعض عرب ملکوں کی رول پلیئنگ سےاستفادہ کرتے ہوئے ایران اور امریکہ کو مد مقابل لاکھڑا کرنے کی نئی کوششوں کے مترادف ہیں- کچھ دنوں قبل لندن سے شائع ہونے والے اخبار رای الیوم نے ایک مضمون میں علاقے کے بعض عرب ملکوں کی پالیسیوں کو ہدف تنقید بناتے ہوئے، ان پالیسیوں کو خلیج فارس کے ملکوں کے نئے ہتھکنڈے سے تعبیر کیا کہ جسے یہ ممالک ایران کے خطرے سے مقابلے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں-
حقیقت یہ ہے کہ سعودی عرب اور علاقے کے بعض عرب ممالک ایران کے خلاف اتحاد قائم کرنے کے درپے ہیں- اور سعودی عرب نے کچھ مہینوں قبل خلیج فارس تعاون کونسل کے اجلاس میں، علاقے کے عرب ملکوں کے ایران مخالف اتحاد کی تجویز بھی پیش کی تھی - اور اب ٹرمپ کے دورۂ سعودی عرب کے اہداف سے متعلق ٹیلرسن کے بیان سے اس امر کی تکمیل ہوگئی ہے- اگرچہ اس عمل میں خلیج فارس کے تمام عرب ممالک ، امریکہ اور سعودی عرب کے ساتھ نہیں ہیں اس کے باوجود امریکی وزیر خارجہ یہ ظاہرکرنے کی کوشش میں ہیں کہ اس سلسلے میں تمام عرب ممالک متفق ہیں اور امریکہ اس عمل میں علاقے کے ملکوں کی خواہش پر شامل ہوا ہے-