سعودی عرب میں مخالفین کے خلاف پھانسی کی سزا کے حکم میں شدت
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کی نمائشی عدالت نے القطیف کے چودہ شیعہ مسلم نوجوانوں کو سزائے موت کا حکم سنایا ہے-
اس رپورٹ کے مطابق القطیف کے شیعہ مسلم نوجوانوں کو یہ سزا دو ہزار گیارہ کے پرامن مظاہروں میں شرکت کرنے پر انسداد دہشت گردی کی نمائشی عدالت میں سنائی گئی۔ رپورٹ کے مطابق ریاض کی نمائشی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ان شیعہ مسلم نوجوانوں کو اپنے دفاع کے لئے وکیل کرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ سعودی عرب کے مشرقی علاقے القطیف میں شیعہ مسلمان کئی سال سے اپنے بنیادی انسانی اور شہری حقوق کی بحالی کے لئے پرامن تحریک چلا رہے ہیں۔ حکومت آل سعود نے تقریبا تین سال قبل "دہشت گردی سے مقابلہ " سے موسوم ایک قانون کی منظوری دی تھی اور اس وقت سے اب تک سعودی عرب کی جارح حکومت دہشت گردی سے مقابلے کی آڑ میں انسانی حقوق کی پامالی میں شدت لائی ہے اور اس کوشش میں ہے کہ سعودی عرب کے عوام کے خلاف اپنے جارحانہ رویوں کی قانونی توجیہ کرے- سعودی حکام نے ہمیشہ آزادی بیان سے مقابلے کے لئے نام نہاد دہشت گردی کی اصطلاح سے استفادہ کیا ہے اور وہ عام شہریوں کو سخت سزائیں دے رہے ہیں-
سعودی عرب کے مختلف علاقوں منجملہ صوبہ قطیف میں سنہ 2011 سے آل سعود کے ظلم و ستم اور ناانصافیوں کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور آل سعود حکومت اپنے مخالفین کو تشدد کا نشانہ بناتی چلی آ رہی ہے- سعودی حکومت کے سیکورٹی اہلکار مشرقی سعودی عرب کے الشرقیہ صوبے کے مختلف علاقوں میں لوگوں کے گھروں پر حملے کرتے اور ان کو خاک و خون میں غلطاں کردیتے ہیں اور سرگرم سیاسی کارکنوں کو گرفتارکرلیتے ہیں- یہ ایسی حالت میں ہےکہ آل سعود کی ظالمانہ اور تفریق آمیز پالیسیوں کے سبب سعودی عرب کے عوام خاص طور پر صوبہ الشرقیہ میں شیعہ آبادی والے علاقوں میں لوگوں کی زندگی بہت سخت و دشوار حالات سے دوچار ہوگئی ہے- فرقہ واریت ، سعودی عرب کے حکومتی نظام کی ماہیت ہے کیوںکہ آل سعود حکومت کی بنیاد، وہابیت کی فکر پر استوار ہے کہ جو عالم اسلام میں ایک انحرافی فکرہے اور جس سے مسلمانوں کو بہت زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے- وہابی نظریہ ایک انتہائی متعصب اور انحرافی افکار کا مذہب ہے اور آل سعود کے حکومتی ڈھانچے میں بھی یہی خصوصیات جڑ پکڑ گئی ہیں- اسی تناظر میں سعودی عرب کے شیعہ کہ جو اس ملک میں اقلیت میں ہیں، سعودی حکومت کے نقطہ نگاہ سے وہ اس ملک کے دیکر شہریوں کے برابر حقوق حاصل کرنے کے مستحق نہیں ہیں اور انہیں دوسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا ہے - آل سعود کے توسط سے سعودی عرب کے شیعہ مسلمانوں کے حقوق کی خلاف ورزی اس طرح سے کی جا رہی ہے کہ بعض تجزیہ نگار اور مبصرین ان شہریوں کو" فراموش شدہ مسلمان" کے نام سے یاد کرتے ہیں- یہ ایسی حالت میں ہے کہ سعودی شیعہ اپنے قومی تشخص پر زور دے رہے ہیں-
گذشتہ تین برسوں میں سعودی عرب کے مشرقی علاقوں میں عوام نے خاندان آل سعود کے ظلم و ستم اور ناروا سلوک کے خلاف پرامن مظاہرے کئے ہیں اور عدل و انصاف اور مساوات اور سعودی عرب کے دیگر باشندوں جیسے حقوق ، انہیں بھی دیئے جانے کا مطالبہ کیا ہے ۔ جبکہ ان مطالبات کا جواب ، آل سعود حکومت تشدد اور گولیوں سے دیتی ہے ۔ گذشتہ تین عشروں کے دوران دسیوں سعودی باشندوں کو " قومی سلامتی کے خلاف اقدام " کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے اور انہیں جیل کی کال کوٹھریوں میں ڈال دیا گیا ہے ۔ بہت سے ایسے بھی قیدی ہیں جن کے بارے میں ابھی تک کوئی اطلاع نہیں ہے ۔ جو افراد قید میں ہیں وہ بدترین شکنجے اورایذائیں برداشت کرنے پر مجبور ہیں ۔ سعودی عرب میں شیعہ مسلمان، سنہ انّیس سو تیس کے عشرے سے ، اس ملک میں آل سعود کی حکمرانی شروع ہونے کے بعد سے ہی تشدد و جارحیت، امتیازی سلوک اور ظلم و زیادتی کا نشانہ بنتے آرہے ہیں جس کے نتیجے میں ابتک لاتعداد سعودی شیعہ مسلمانوں کو اپنی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑا ہے یہانتک کہ سینکڑوں ایسے شیعہ مسلمان اب بھی موجود ہیں جو بیس برسوں سے زائد عرصے سے کسی جرم اور قانونی کاروائی کے بغیر ہی بلا سبب جیل میں قید کی صعوبتیں برداشت کررہے ہیں اور آل سعود حکومت، اس سلسلے میں نہ صرف یہ کہ جواب دہ نہیں بلکہ ان کے مستقبل کے حوالے سے کچھ کہنے کو بھی تیار نہیں ہے۔ اور 2016 میں سعودی عرب کے ممتاز شیعہ عالم دین شیخ نمر کے خلاف غیرقانونی اور ظالمانہ فیصلہ صادر کئے جانے اوران کو شہید کئے جانے کے بعد اس طرح کے ظالمانہ فیصلوں میں مزید شدت آئی ہے
قانونی ماہرین آل سعود کی عدالتوں میں جاری کئے جانے فیصلوں کے بے بنیاد ہونے اور ان میں عدل وانصاف کے فقدان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس ملک کا حکومتی ڈھانچہ جو وہابیت کے تشدد پسندانہ عقائد کی بنیاد پر استوار ہے ، داعش جیسی دہشت گرد تنظیموں کی ہی طرح ہے اور تشدد وقساوت ان کے طرزحکومت سے صاف ظاہر ہے- اسی بنا پر سعودی عرب کی عدلیہ ، عدل و انصاف سے کام لینے کے بجائے، شرعی و قانونی اصولوں کو نظرانداز کرکے اس ملک کے شیعہ مسلمانوں کے خلاف ظالمانہ احکامات جاری کر رہی ہے اور اس دائرے میں سب سے آسان اور رائج فیصلہ پھانسی کا ہے کہ جسے سعودی عدالتوں کے حکام بے گناہ شہریوں کے خلاف پڑھ کر سناتےہیں۔